بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کفارہ کا واجب ہونا اس پر جس نے اپنی عورت سے کہا: کہ تو مجھ پر حرام ہے اور نیت طلاق کی نہ تھی۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم طلاق کے احکام و مسائل باب: کفارہ کا واجب ہونا اس پر جس نے اپنی عورت سے کہا: کہ تو مجھ پر حرام ہے اور نیت طلاق کی نہ تھی۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1473 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام، یعنی دستوائی (کپڑے والے) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن کثیر نے یعلیٰ بن حکیم سے حدیث بیان کرتے ہوئے لکھ بھیجا، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ (بیوی کو اپنے اوپر) حرام کرنے کے بارے میں کہا کرتے تھے: یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3676]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3676 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحدثنا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ ، قَالَ: كَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، يُحَدِّثُ، عَنْ يَعْلَى بْنِ حَكِيمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام، یعنی دستوائی (کپڑے والے) سے روایت ہے، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن کثیر نے یعلیٰ بن حکیم سے حدیث بیان کرتے ہوئے لکھ بھیجا، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ (بیوی کو اپنے اوپر) حرام کرنے کے بارے میں کہا کرتے تھے: یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3676]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1473 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاویہ بن سلام نے ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی کہ یعلیٰ بن حکیم نے انہیں خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا: انہوں نے کہا: جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا، اور کہا: بلاشبہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3677]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3677 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ يَعْلَى بْنَ حَكِيمٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ ، أَخْبَرَهُ: أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهِيَ يَمِينٌ يُكَفِّرُهَا، وَقَالَ: لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معاویہ بن سلام نے ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی کہ یعلیٰ بن حکیم نے انہیں خبر دی، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا: انہوں نے کہا: جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا، اور کہا: بلاشبہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی زندگی) میں بہترین نمونہ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3677]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1474 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يُخْبِرُ أَنَّهُ: سَمِعَ عَائِشَةَ ، تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ، عَنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ، عَنْدَهَا عَسَلًا، قَالَت: فَتَوَاطَأتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فقَالَت ذَلِكَ لَهُ، فقَالَ: " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عَنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ "، فَنَزَلَ: لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى قَوْلِهِ: إِنْ تَتُوبَا سورة التحريم آية 1 - 4، لِعَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید بن عمیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ بتا رہی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے اور ان کے پاس سے شہد نوش فرماتے تھے: کہا: میں اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (پہلے) تشریف لائیں، وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے۔ کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے یہی بات کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں نے زینب بنت حجش کے ہاں سے شہد پیا ہے۔ اور آئندہ ہرگز نہیں پیوں گا۔ اس پر (قرآن) نازل ہوا: آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اس فرمان تک: اگر تم دونوں توبہ کرو۔۔۔ یہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہن کے لیے کہا گیا۔۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کسی بیوی سے راز کی بات کہی اس سے مراد (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان) ہے: بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3678]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3678 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حدثنا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، أَخْبَرَنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، يُخْبِرُ أَنَّهُ: سَمِعَ عَائِشَةَ ، تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَمْكُثُ، عَنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ، عَنْدَهَا عَسَلًا، قَالَت: فَتَوَاطَأتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلْتَقُلْ: إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا، فقَالَت ذَلِكَ لَهُ، فقَالَ: " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عَنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، وَلَنْ أَعُودَ لَهُ "، فَنَزَلَ: لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ إِلَى قَوْلِهِ: إِنْ تَتُوبَا سورة التحريم آية 1 - 4، لِعَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ، وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، لِقَوْلِهِ: بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید بن عمیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، وہ بتا رہی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے اور ان کے پاس سے شہد نوش فرماتے تھے: کہا: میں اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (پہلے) تشریف لائیں، وہ کہے: مجھے آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے۔ کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے یہی بات کی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلکہ میں نے زینب بنت حجش کے ہاں سے شہد پیا ہے۔ اور آئندہ ہرگز نہیں پیوں گا۔ اس پر (قرآن) نازل ہوا: آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اس فرمان تک: اگر تم دونوں توبہ کرو۔۔۔ یہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہن کے لیے کہا گیا۔۔ اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی کسی بیوی سے راز کی بات کہی اس سے مراد (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان) ہے: بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3678]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1474 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَاحْتَبَسَ عَنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ: فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ، وَقُلْتُ: إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيح وكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكِ لَهُ، وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ، قَالَت: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي، وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ، فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ: " لَا "، قَالَت: فَمَا هَذِهِ الرِّيح؟ قَالَ: " سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ "، قَالَت: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ، فقَالَت بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، قَالَت: تَقُولُ سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ، قَالَت: قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ: حدثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، بِهَذَا سَوَاءً،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو اپنی تمام ازواج کے ہاں چکر لگاتے اور ان کے قریب ہوتے، (ایسا ہوا کہ) آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو ان کے ہاں آپ اس سے زیادہ (دیر کے لیے) رکے جتنا آپ (کسی بیوی کے پاس) رکا کرتے تھے۔ ان (حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا) کو ان کے خاندان کی کسی عورت نے شہد کا (بھرا ہوا) ایک برتن ہدیہ کیا تھا تو انہوں نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شہد پلایا۔ میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! ہم آپ (کو زیادہ دیر قیام سے روکنے) کے لیے ضرور کوئی حیلہ کریں گی، چنانچہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا، اور کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے ہاں تشریف لائیں گے تو تمہارے قریب ہوں گے، (اس وقت) تم ان سے کہنا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ وہ تمہیں جواب دیں گے، نہیں! تو تم ان سے کہنا: یہ بو کیسی ہے؟۔۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ بات انتہائی گراں گزرتی تھی کہ آپ سے بو محسوس کی جائے۔۔ اس پر وہ تمہیں جواب دیں گے: مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا، تو تم ان سے کہنا (پھر) اس کی مکھی نے عرفط (بوٹی) کا رس چوسا ہو گا۔ میں بھی آپ سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی کہنا! جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! آپ ابھی دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہاری ملامت کے ڈر سے آپ کو بلند آواز سے وہ بات کہنے ہی لگی تھی جو تم نے مجھ سے کہی تھی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قریب ہوئے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا۔ انہوں نے کہا: پھر اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا۔ اس کے بعد جب آپ میرے ہاں تشریف لائے، تو میں نے بھی آپ سے یہی بات کہی، پھر آپ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی، اس کے بعد آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں (دوبارہ) تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: کیا آپ کو شہد پیش نہ کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: سودہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے آپ کو اس سے محروم کر دیا ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: خاموش رہیں۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا: ہمیں حسن بن بشر بن قاسم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابواسامہ نے بالکل اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3679]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3679 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حدثنا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَاءَ وَالْعَسَلَ، فَكَانَ إِذَا صَلَّى الْعَصْرَ دَارَ عَلَى نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ، فَدَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، فَاحْتَبَسَ عَنْدَهَا أَكْثَرَ مِمَّا كَانَ يَحْتَبِسُ، فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ: فَقِيلَ لِي: أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُكَّةً مِنْ عَسَلٍ، فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَوْدَةَ، وَقُلْتُ: إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ، فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْكِ، فَقُولِي لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: لَا، فَقُولِي لَهُ: مَا هَذِهِ الرِّيح وكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ، فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَكِ: سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ، فَقُولِي لَهُ: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ ذَلِكِ لَهُ، وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى سَوْدَةَ، قَالَت: تَقُولُ سَوْدَةُ: وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ كِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي، وَإِنَّهُ لَعَلَى الْبَابِ، فَرَقًا مِنْكِ، فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ قَالَ: " لَا "، قَالَت: فَمَا هَذِهِ الرِّيح؟ قَالَ: " سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ "، قَالَت: جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلَى صَفِيَّةَ، فقَالَت بِمِثْلِ ذَلِكَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى حَفْصَةَ، قَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَا أَسْقِيكَ مِنْهُ، قَالَ: لَا حَاجَةَ لِي بِهِ، قَالَت: تَقُولُ سَوْدَةُ: سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ، قَالَت: قُلْتُ لَهَا: اسْكُتِي، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ: حدثنا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ، بِهَذَا سَوَاءً،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو اپنی تمام ازواج کے ہاں چکر لگاتے اور ان کے قریب ہوتے، (ایسا ہوا کہ) آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو ان کے ہاں آپ اس سے زیادہ (دیر کے لیے) رکے جتنا آپ (کسی بیوی کے پاس) رکا کرتے تھے۔ ان (حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا) کو ان کے خاندان کی کسی عورت نے شہد کا (بھرا ہوا) ایک برتن ہدیہ کیا تھا تو انہوں نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شہد پلایا۔ میں نے (دل میں) کہا: اللہ کی قسم! ہم آپ (کو زیادہ دیر قیام سے روکنے) کے لیے ضرور کوئی حیلہ کریں گی، چنانچہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا، اور کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارے ہاں تشریف لائیں گے تو تمہارے قریب ہوں گے، (اس وقت) تم ان سے کہنا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ وہ تمہیں جواب دیں گے، نہیں! تو تم ان سے کہنا: یہ بو کیسی ہے؟۔۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر یہ بات انتہائی گراں گزرتی تھی کہ آپ سے بو محسوس کی جائے۔۔ اس پر وہ تمہیں جواب دیں گے: مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا، تو تم ان سے کہنا (پھر) اس کی مکھی نے عرفط (بوٹی) کا رس چوسا ہو گا۔ میں بھی آپ سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی کہنا! جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے، (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! آپ ابھی دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہاری ملامت کے ڈر سے آپ کو بلند آواز سے وہ بات کہنے ہی لگی تھی جو تم نے مجھ سے کہی تھی، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قریب ہوئے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ انہوں نے کہا: تو یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا۔ انہوں نے کہا: پھر اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا۔ اس کے بعد جب آپ میرے ہاں تشریف لائے، تو میں نے بھی آپ سے یہی بات کہی، پھر آپ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی، اس کے بعد آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں (دوبارہ) تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی: کیا آپ کو شہد پیش نہ کروں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: سودہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے آپ کو اس سے محروم کر دیا ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: خاموش رہیں۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا: ہمیں حسن بن بشر بن قاسم نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ابواسامہ نے بالکل اسی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3679]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1474 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3680]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3680 صحیح مسلم
سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّلَاقِ/حدیث: 3680]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة