مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو أُسَامَةَ ، عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ
وحدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا: حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ مِنْ أَعْظَمِ الْأَمَانَةِ، عَنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الرَّجُلَ يُفْضِي إِلَى امْرَأَتِهِ وَتُفْضِي إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْشُرُ سِرَّهَا "، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: إِنَّ أَعْظَمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن عبیداللہ بن نمیر اور ابوکریب نے کہا: ہمیں ابواسامہ نے عمر بن حمزہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبدالرحمٰن بن سعد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بلاشبہ قیامت کے دن اللہ کے ہاں امانت کے حوالے سے سب سے بڑے (سنگین) معاملات میں سے اس آدمی (کا معاملہ) ہو گا جو خلوت میں بیوی کے پاس جائے اور وہ اس کے پاس آئے، پھر وہ اس (بیوی) کا راز افشا کر دے۔“ ابن نمیر نے کہا: سب سے بڑا (سنگین) معاملہ۔ (یہ بڑی خیانت ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3543]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة