بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: طلاق ثلاثہ کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نکاح کے احکام و مسائل باب: طلاق ثلاثہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1433 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: كُنْتُ عَنْدَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ "، قَالَت: وَأَبُو بَكْرٍ، عَنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَنَادَى: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رفاعہ (بن سموءل قرظی) کی بیوی (تمیمہ بنت وہب قرظیہ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں رفاعہ کے ہاں (نکاح میں) تھی، اس نے مجھے طلاق دی اور قطعی (تیسری) طلاق دے دی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر (بن باطا قرظی) سے شادی کر لی، مگر جو اس کے پاس ہے وہ کپڑے کی جھالر کی طرح ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: کیا تم دوبارہ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟ نہیں (جا سکتی)، حتیٰ کہ تم اس (دوسرے خاوند) کی لذت چکھ لو اور وہ تمہاری لذت چکھ لے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے اور خالد رضی اللہ عنہ (بن سعید بن عاص) دروازے پر اجازت ملنے کے منتظر تھے، تو انہوں نے پکار کر کہا: ابوبکر! کیا آپ اس عورت کو نہیں سن رہے جو بات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اونچی آواز سے کہہ رہی ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3526]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3526 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو، قَالَا: حدثنا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: جَاءَتِ امْرَأَةُ رِفَاعَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: كُنْتُ عَنْدَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَنِي، فَبَتَّ طَلَاقِي، فَتَزَوَّجْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّ مَا مَعَهُ مِثْلُ هُدْبَةِ الثَّوْبِ، فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَ: " أَتُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ "، قَالَت: وَأَبُو بَكْرٍ، عَنْدَهُ وَخَالِدٌ بِالْبَابِ يَنْتَظِرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَهُ، فَنَادَى: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَسْمَعُ هَذِهِ مَا تَجْهَرُ بِهِ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رفاعہ (بن سموءل قرظی) کی بیوی (تمیمہ بنت وہب قرظیہ) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کی: میں رفاعہ کے ہاں (نکاح میں) تھی، اس نے مجھے طلاق دی اور قطعی (تیسری) طلاق دے دی تو میں نے عبدالرحمٰن بن زبیر (بن باطا قرظی) سے شادی کر لی، مگر جو اس کے پاس ہے وہ کپڑے کی جھالر کی طرح ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: کیا تم دوبارہ رفاعہ کے پاس لوٹنا چاہتی ہو؟ نہیں (جا سکتی)، حتیٰ کہ تم اس (دوسرے خاوند) کی لذت چکھ لو اور وہ تمہاری لذت چکھ لے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے پاس موجود تھے اور خالد رضی اللہ عنہ (بن سعید بن عاص) دروازے پر اجازت ملنے کے منتظر تھے، تو انہوں نے پکار کر کہا: ابوبکر! کیا آپ اس عورت کو نہیں سن رہے جو بات وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اونچی آواز سے کہہ رہی ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3526]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1433 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حدثنا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَبَتَّ طَلَاقَهَا، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الْهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا، فقَالَ: " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ "، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ، لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، قَالَ: فَطَفِقَ خَالِدٌ، يُنَادِي: أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور قطعی (آخری) طلاق دے دی، تو اس عورت نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر (قرظی) سے شادی کر لی، بعد ازاں وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی، اس نے اسے تین طلاق بھی دے دی، تو میں اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی اور وہ، اللہ کی قسم! اس کے پاس تو کپڑے کے کنارے کی جھالر کی مانند ہی ہے، اور اس نے اپنی چادر کے کنارے کی جھالر پکڑ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: شاید تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں! یہاں تک کہ وہ تمہاری لذت چکھ لے اور تم اس کی لذت چکھ لو۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ حجرے کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، انہیں (ابھی اندر آنے کی) اجازت نہیں ملی تھی۔ کہا: تو خالد نے (وہیں سے) ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارنا شروع کر دیا: آپ اس عورت کو سختی سے اس بات سے روکتے کیوں نہیں جو وہ بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہہ رہی ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3527]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3527 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ: حدثنا، وَقَالَ حَرْمَلَةُ: أَخْبَرَنا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَبَتَّ طَلَاقَهَا، فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا كَانَتْ تَحْتَ رِفَاعَةَ، فَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، فَتَزَوَّجْتُ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ، وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ إِلَّا مِثْلُ الْهُدْبَةِ، وَأَخَذَتْ بِهُدْبَةٍ مِنْ جِلْبَابِهَا، قَالَ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَاحِكًا، فقَالَ: " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ؟ لَا، حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ، وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ "، وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ جَالِسٌ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ، لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ، قَالَ: فَطَفِقَ خَالِدٌ، يُنَادِي: أَبَا بَكْرٍ، أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عَنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے خبر دی، کہا: مجھے عروہ بن زبیر نے حدیث بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی اور قطعی (آخری) طلاق دے دی، تو اس عورت نے اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر (قرظی) سے شادی کر لی، بعد ازاں وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اور کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! وہ رفاعہ کے نکاح میں تھی، اس نے اسے تین طلاق بھی دے دی، تو میں اس کے بعد عبدالرحمٰن بن زبیر سے شادی کر لی اور وہ، اللہ کی قسم! اس کے پاس تو کپڑے کے کنارے کی جھالر کی مانند ہی ہے، اور اس نے اپنی چادر کے کنارے کی جھالر پکڑ لی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرائے اور فرمایا: شاید تم رفاعہ کے پاس جانا چاہتی ہو؟ نہیں! یہاں تک کہ وہ تمہاری لذت چکھ لے اور تم اس کی لذت چکھ لو۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے اور خالد بن سعید بن عاص رضی اللہ عنہ حجرے کے دروازے پر بیٹھے ہوئے تھے، انہیں (ابھی اندر آنے کی) اجازت نہیں ملی تھی۔ کہا: تو خالد نے (وہیں سے) ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پکارنا شروع کر دیا: آپ اس عورت کو سختی سے اس بات سے روکتے کیوں نہیں جو وہ بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہہ رہی ہے؟ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3527]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1433 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن بن زبیر نے اس عورت سے نکاح کر لیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! رفاعہ نے اسے تین طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی ہے۔۔ جس طرح یونس کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3528]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3528 صحیح مسلم
عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حدثنا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَتَزَوَّجَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزَّبِيرِ، فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فقَالَت: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ رِفَاعَةَ طَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رفاعہ قرظی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو عبدالرحمٰن بن زبیر نے اس عورت سے نکاح کر لیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی: اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم )! رفاعہ نے اسے تین طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی ہے۔۔ جس طرح یونس کی حدیث ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3528]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1433 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ، فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلًا، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ، قَالَ: " لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس سے کوئی آدمی نکاح کرے، پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس کے بعد وہ کسی اور آدمی سے نکاح کر لے اور وہ اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال (ہو جاتی) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، حتیٰ کہ وہ (دوسرا خاوند) اس کی لذت چکھ لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3529]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3529 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ الْهَمْدَانِيُّ ، حدثنا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنِ الْمَرْأَةِ يَتَزَوَّجُهَا الرَّجُلُ، فَيُطَلِّقُهَا فَتَتَزَوَّجُ رَجُلًا، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ، قَالَ: " لَا حَتَّى يَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (عروہ بن زبیر) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس سے کوئی آدمی نکاح کرے، پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس کے بعد وہ کسی اور آدمی سے نکاح کر لے اور وہ اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے دے تو کیا وہ عورت اپنے پہلے شوہر کے لیے حلال (ہو جاتی) ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، حتیٰ کہ وہ (دوسرا خاوند) اس کی لذت چکھ لے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3529]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1433 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن فضیل اور ابومعاویہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3530]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3530 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا ابْنُ فُضَيْلٍ . ح وحدثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، حدثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، جَمِيعًا، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن فضیل اور ابومعاویہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ (یہی) حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3530]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1433 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَرَادَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَسُئِلَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فقَالَ: " لَا، حَتَّى يَذُوقَ الْآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے عبیداللہ بن عمر (بن حفص عمری) سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس کے بعد ایک اور آدمی نے اس سے نکاح کیا، پھر اس نے اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دی تو اس کے پہلے شوہر نے چاہا کہ اس سے نکاح کر لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: نہیں، حتیٰ کہ دوسرا (خاوند) اس کی (وہی) لذت چکھ لے جو پہلے نے چکھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3531]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3531 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَت: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَأَرَادَ زَوْجُهَا الْأَوَّلُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَسُئِلَ َرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فقَالَ: " لَا، حَتَّى يَذُوقَ الْآخِرُ مِنْ عُسَيْلَتِهَا مَا ذَاقَ الْأَوَّلُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علی بن مسہر نے عبیداللہ بن عمر (بن حفص عمری) سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم بن محمد سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، اس کے بعد ایک اور آدمی نے اس سے نکاح کیا، پھر اس نے اس کے ساتھ مباشرت کرنے سے پہلے اس عورت کو طلاق دے دی تو اس کے پہلے شوہر نے چاہا کہ اس سے نکاح کر لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس مسئلے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: نہیں، حتیٰ کہ دوسرا (خاوند) اس کی (وہی) لذت چکھ لے جو پہلے نے چکھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3531]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1433 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمُ ، عَائِشَةَ
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي . ح وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حدثنا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ .
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر اور یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، اور عبیداللہ سے روایت کردہ یحییٰ کی حدیث میں ہے: ہمیں قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3532]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3532 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمُ ، عَائِشَةَ
وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي . ح وحدثناه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حدثنا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حدثنا الْقَاسِمُ ، عَنْ عَائِشَةَ .
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر اور یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی، اور عبیداللہ سے روایت کردہ یحییٰ کی حدیث میں ہے: ہمیں قاسم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3532]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة