بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نکاح زینب رضی اللہ عنہا اور نزول حجاب اور ولیمہ کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نکاح کے احکام و مسائل باب: نکاح زینب رضی اللہ عنہا اور نزول حجاب اور ولیمہ کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 14
حدیث نمبر: 1428 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، بَهْزٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا بَهْزٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا جَمِيعًا: حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ، قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ: " فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَاهَا، وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي، حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَنَكَصْتُ عَلَى عَقِبِي، فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ، قَالَت: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّي، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، قَالَ: فقَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ، وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ، فَخَرَجَ النَّاسُ، وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَيَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟، قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا، أَوْ أَخْبَرَنِي، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَنَزَلَ الْحِجَابُ، قَالَ: وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ "، زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ: لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ، إِلَى قَوْلِهِ: وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ سورة الأحزاب آية 53.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حاتم بن میمون نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بہز نے حدیث سنائی، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث سنائی، ان دونوں (بہز اور ابونضر) نے کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ یہ بہز کی حدیث ہے۔ کہا: جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ان (زینب رضی اللہ عنہا) کے سامنے ان کی میرے ساتھ شادی کا ذکر کرو۔ کہا: تو حضرت زید رضی اللہ عنہ چلے حتیٰ کہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں، کہا: جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی حتیٰ کہ میں ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان (کے ساتھ شادی) کا ذکر کیا تھا، میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ کی اور ایڑیوں کے بل مڑا اور کہا: زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارا ذکر کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ کرنے والی نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے مشورہ (استخارہ) کر لوں، اور وہ اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ کی طرف چلی گئیں اور (ادھر) قرآن نازل ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بغیر اجازت لیے ان کے پاس تشریف لے آئے۔ (سلیمان بن مغیرہ نے) کہا: (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے اپنے آپ سمیت سب لوگوں کو دیکھا کہ جب دن کا اجالا پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا۔ اس کے بعد (اکثر) لوگ نکل گئے، چند باقی رہ گئے وہ کھانے کے بعد (آپ کے) گھر میں ہی باتیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (وہاں سے) نکلے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ یکے بعد دیگرے اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جا کر انہیں سلام کہنے لگے۔ وہ (جواب دے کر) کہتیں: اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی (نئی) اہلیہ کو کیسا پایا؟ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نہیں جانتا میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا۔ پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور (اس وقت) حجاب (کا حکم) نازل ہوا، کہا: اور لوگوں کو (اس مناسبت سے) جو نصیحت کی جانی تھی کر دی گئی۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، اس حال میں (آؤ) کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہو (کھانے کے وقت آؤ پہلے نہ آؤ) سے لے کر اس فرمان تک: اور اللہ کا حق سے شرم نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3502]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3502 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، بَهْزٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حدثنا بَهْزٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، قَالَا جَمِيعًا: حدثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَهَذَا حَدِيثُ بَهْزٍ، قَالَ: لَمَّا انْقَضَتْ عِدَّةُ زَيْنَبَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِزَيْدٍ: " فَاذْكُرْهَا عَلَيَّ "، قَالَ: فَانْطَلَقَ زَيْدٌ حَتَّى أَتَاهَا، وَهِيَ تُخَمِّرُ عَجِينَهَا، قَالَ: فَلَمَّا رَأَيْتُهَا عَظُمَتْ فِي صَدْرِي، حَتَّى مَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَنْظُرَ إِلَيْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَكَرَهَا فَوَلَّيْتُهَا ظَهْرِي وَنَكَصْتُ عَلَى عَقِبِي، فَقُلْتُ: يَا زَيْنَبُ، أَرْسَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُكِ، قَالَت: مَا أَنَا بِصَانِعَةٍ شَيْئًا حَتَّى أُوَامِرَ رَبِّي، فَقَامَتْ إِلَى مَسْجِدِهَا، وَنَزَلَ الْقُرْآنُ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَيْرِ إِذْنٍ، قَالَ: فقَالَ: وَلَقَدْ رَأَيْتُنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَطْعَمَنَا الْخُبْزَ، وَاللَّحْمَ حِينَ امْتَدَّ النَّهَارُ، فَخَرَجَ النَّاسُ، وَبَقِيَ رِجَالٌ يَتَحَدَّثُونَ فِي الْبَيْتِ بَعْدَ الطَّعَامِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاتَّبَعْتُهُ، فَجَعَلَ يَتَتَبَّعُ حُجَرَ نِسَائِهِ يُسَلِّمُ عَلَيْهِنَّ، وَيَقُلْنَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟، قَالَ: فَمَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَنَّ الْقَوْمَ قَدْ خَرَجُوا، أَوْ أَخْبَرَنِي، قَالَ: فَانْطَلَقَ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ مَعَهُ فَأَلْقَى السِّتْرَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، وَنَزَلَ الْحِجَابُ، قَالَ: وَوُعِظَ الْقَوْمُ بِمَا وُعِظُوا بِهِ "، زَادَ ابْنُ رَافِعٍ فِي حَدِيثِهِ: لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ، إِلَى قَوْلِهِ: وَاللَّهُ لا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ سورة الأحزاب آية 53.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن حاتم بن میمون نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بہز نے حدیث سنائی، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابونضر ہاشم بن قاسم نے حدیث سنائی، ان دونوں (بہز اور ابونضر) نے کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ یہ بہز کی حدیث ہے۔ کہا: جب حضرت زینب رضی اللہ عنہا کی عدت گزری تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ان (زینب رضی اللہ عنہا) کے سامنے ان کی میرے ساتھ شادی کا ذکر کرو۔ کہا: تو حضرت زید رضی اللہ عنہ چلے حتیٰ کہ ان کے پاس پہنچے تو وہ اپنے آٹے میں خمیر ملا رہی تھیں، کہا: جب میں نے ان کو دیکھا تو میرے دل میں ان کی عظمت بیٹھ گئی حتیٰ کہ میں ان کی طرف نظر بھی نہ اٹھا سکتا تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان (کے ساتھ شادی) کا ذکر کیا تھا، میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ کی اور ایڑیوں کے بل مڑا اور کہا: زینب! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمہارا ذکر کرتے ہوئے پیغام بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا: میں کچھ کرنے والی نہیں یہاں تک کہ اپنے رب سے مشورہ (استخارہ) کر لوں، اور وہ اٹھ کر اپنی نماز کی جگہ کی طرف چلی گئیں اور (ادھر) قرآن نازل ہو گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بغیر اجازت لیے ان کے پاس تشریف لے آئے۔ (سلیمان بن مغیرہ نے) کہا: (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے اپنے آپ سمیت سب لوگوں کو دیکھا کہ جب دن کا اجالا پھیل گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں روٹی اور گوشت کھلایا۔ اس کے بعد (اکثر) لوگ نکل گئے، چند باقی رہ گئے وہ کھانے کے بعد (آپ کے) گھر میں ہی باتیں کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (وہاں سے) نکلے، میں بھی آپ کے پیچھے ہو لیا، آپ یکے بعد دیگرے اپنی ازواج کے حجروں کی طرف جا کر انہیں سلام کہنے لگے۔ وہ (جواب دے کر) کہتیں: اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی (نئی) اہلیہ کو کیسا پایا؟ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نہیں جانتا میں نے آپ کو بتایا کہ لوگ جا چکے ہیں یا آپ نے مجھے بتایا۔ پھر آپ چل پڑے حتیٰ کہ گھر میں داخل ہو گئے۔ میں بھی آپ کے ساتھ داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا اور (اس وقت) حجاب (کا حکم) نازل ہوا، کہا: اور لوگوں کو (اس مناسبت سے) جو نصیحت کی جانی تھی کر دی گئی۔ ابن رافع نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا: اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو مگر یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے (آنے کی) اجازت دی جائے، اس حال میں (آؤ) کہ اس کے پکنے کا انتظار نہ کر رہے ہو (کھانے کے وقت آؤ پہلے نہ آؤ) سے لے کر اس فرمان تک: اور اللہ کا حق سے شرم نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3502]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1428 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حدثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حدثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ "، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ: عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ، مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوربیع زہرانی، ابوکامل فضیل بن حسین اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد نے، وہ (جو) زید کے بیٹے ہیں، ثابت نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ ابوکامل کی روایت میں ہے: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کی کسی چیز (خوشی) پر اس جیسا ولیمہ کیا ہو جیسا حضرت زینب رضی اللہ عنہا (کے ساتھ نکاح) پر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اس موقع پر) بکری ذبح کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3503]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3503 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
حدثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حدثنا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كَامِلٍ: سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَمَ عَلَى امْرَأَةٍ "، وَقَالَ أَبُو كَامِلٍ: عَلَى شَيْءٍ مِنْ نِسَائِهِ، مَا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ، فَإِنَّهُ ذَبَحَ شَاةً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوربیع زہرانی، ابوکامل فضیل بن حسین اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد نے، وہ (جو) زید کے بیٹے ہیں، ثابت نے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ ابوکامل کی روایت میں ہے: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کی کسی چیز (خوشی) پر اس جیسا ولیمہ کیا ہو جیسا حضرت زینب رضی اللہ عنہا (کے ساتھ نکاح) پر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اس موقع پر) بکری ذبح کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3503]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1428 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ "، فقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: بِمَا أَوْلَمَ؟ قَالَ: أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا، وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا اس سے بڑھ کر یا اس سے بہتر ولیمہ نہیں کیا جیسا ولیمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کیا۔ ثابت بنانی نے پوچھا: آپ نے کس چیز سے ولیمہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آپ نے انہیں روٹی اور گوشت کھلایا حتیٰ کہ انہوں نے (سیر ہو کر کھانا) چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3504]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3504 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حدثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حدثنا مُحَمَّدٌ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ: " مَا أَوْلَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهِ، أَكْثَرَ أَوْ أَفْضَلَ مِمَّا أَوْلَمَ عَلَى زَيْنَبَ "، فقَالَ ثَابِتٌ الْبُنَانِيُّ: بِمَا أَوْلَمَ؟ قَالَ: أَطْعَمَهُمْ خُبْزًا، وَلَحْمًا حَتَّى تَرَكُوهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالعزیز بن صہیب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کا اس سے بڑھ کر یا اس سے بہتر ولیمہ نہیں کیا جیسا ولیمہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا کیا۔ ثابت بنانی نے پوچھا: آپ نے کس چیز سے ولیمہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: آپ نے انہیں روٹی اور گوشت کھلایا حتیٰ کہ انہوں نے (سیر ہو کر کھانا) چھوڑ دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3504]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1428 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُعْتَمِرٍ ، أَبِي ، أَبُو مِجْلَزٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ: حدثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ، قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ "، زَادَ عَاصِمٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ: فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، قَالَ: فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ، إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن حبیب حارثی، عاصم بن نضر تیمی اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، سب نے معتمر سے روایت کی۔ لفظ (یحییٰ) بن حبیب کے ہیں۔ کہا: ہم سے معتمر بن سلیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں ابومجلز نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ نے لوگوں کو (کھانے کی) دعوت دی، انہوں نے کھانا کھایا، پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ کہا: آپ نے ایسا انداز اختیار فرمایا گویا کہ کھڑے ہونے لگے ہوں اس پر بھی وہ نہ اٹھے، جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کھڑے ہو گئے، جب آپ کھڑے ہوئے تو لوگوں میں سے بھی جو کھڑے ہوئے، وہ ہو گئے۔ عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا: کہا: تین آدمی بیٹھے رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (حجرے میں) داخل ہونے کے لیے تشریف لے آئے، تو (اس وقت بھی) وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، پھر (کچھ دیر بعد) وہ اٹھے اور چلے گئے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر دی کہ وہ جا چکے ہیں۔ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے، میں بھی داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ کہا: اور (اس موقع پر) اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، ایسے (وقت میں) آؤ کہ (آ کر) اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو (کھانا رکھ دیا جائے تو آؤ) اس فرمان تک: بلاشبہ یہ بات اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3505]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3505 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، مُعْتَمِرٍ ، أَبِي ، أَبُو مِجْلَزٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حدثنا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، وَعَاصِمُ بْنُ النَّضْرِ التَّيْمِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، كُلُّهُمْ عَنْ مُعْتَمِرٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَبِيبٍ: حدثنا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي ، حدثنا أَبُو مِجْلَزٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا، ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ، قَالَ: فَأَخَذَ كَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَامَ، فَلَمَّا قَامَ، قَامَ مَنْ قَامَ مِنَ الْقَوْمِ "، زَادَ عَاصِمٌ، وَابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فِي حَدِيثِهِمَا، قَالَ: فَقَعَدَ ثَلَاثَةٌ، وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَ لِيَدْخُلَ، فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ، ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقُوا، قَالَ: فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدِ انْطَلَقُوا، قَالَ: فَجَاءَ حَتَّى دَخَلَ، فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، قَالَ: وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ، إِلَى قَوْلِهِ: إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 53.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن حبیب حارثی، عاصم بن نضر تیمی اور محمد بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، سب نے معتمر سے روایت کی۔ لفظ (یحییٰ) بن حبیب کے ہیں۔ کہا: ہم سے معتمر بن سلیمان نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا، انہوں نے کہا: ہمیں ابومجلز نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو آپ نے لوگوں کو (کھانے کی) دعوت دی، انہوں نے کھانا کھایا، پھر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ کہا: آپ نے ایسا انداز اختیار فرمایا گویا کہ کھڑے ہونے لگے ہوں اس پر بھی وہ نہ اٹھے، جب آپ نے یہ صورت حال دیکھی تو آپ کھڑے ہو گئے، جب آپ کھڑے ہوئے تو لوگوں میں سے بھی جو کھڑے ہوئے، وہ ہو گئے۔ عاصم اور ابن عبدالاعلیٰ نے اپنی حدیث میں اضافہ کیا: کہا: تین آدمی بیٹھے رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (حجرے میں) داخل ہونے کے لیے تشریف لے آئے، تو (اس وقت بھی) وہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے، پھر (کچھ دیر بعد) وہ اٹھے اور چلے گئے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر دی کہ وہ جا چکے ہیں۔ آپ تشریف لائے اور اندر داخل ہوئے، میں بھی داخل ہونے لگا تو آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا۔ کہا: اور (اس موقع پر) اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی: اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، ایسے (وقت میں) آؤ کہ (آ کر) اس کے پکنے کا انتظار کرنے والے نہ ہو (کھانا رکھ دیا جائے تو آؤ) اس فرمان تک: بلاشبہ یہ بات اللہ کے نزدیک بہت بڑی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3505]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1428 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِح ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حدثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: " أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، قَالَ أَنَسٌ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَمَشَى فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ، مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ، فَرَجَعَ فَرَجَعَتْ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پردے (کے احکام) کو سب لوگوں سے زیادہ جاننے والا میں ہوں۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے دلہا کی حیثیت سے صبح کی، آپ نے (اسی رات) مدینہ میں ان سے شادی کی تھی، دن چڑھنے کے بعد آپ نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کچھ افراد لوگوں کے چلے جانے کے بعد بھی آپ کے ساتھ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ آپ چلے تو میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا حتیٰ کہ آپ (سب حجروں سے ہوتے ہوئے) حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچے۔ پھر آپ نے سوچا کہ وہ لوگ جا چکے ہوں گے، آپ واپس ہوئے، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، تو تب بھی وہ اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ لوٹ گئے اور میں بھی دوبارہ لوٹ گیا، حتیٰ کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے تک پہنچے تو پھر سے واپس آئے، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، تو دیکھا کہ وہ لوگ اٹھ (کر جا) چکے تھے، اس کے بعد آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا، اور (اس وقت) پردے کی آیت نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3506]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3506 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِح ، ابْنُ شِهَابٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حدثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حدثنا أَبِي ، عَنْ صَالِح ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : إِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: " أَنَا أَعْلَمُ النَّاسِ بِالْحِجَابِ، لَقَدْ كَانَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَسْأَلُنِي عَنْهُ، قَالَ أَنَسٌ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرُوسًا بِزَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ، قَالَ: وَكَانَ تَزَوَّجَهَا بِالْمَدِينَةِ، فَدَعَا النَّاسَ لِلطَّعَامِ بَعْدَ ارْتِفَاعِ النَّهَارِ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ وَجَلَسَ مَعَهُ رِجَالٌ بَعْدَ مَا قَامَ الْقَوْمُ، حَتَّى قَامَ رَسُولُ اللَّهِ فَمَشَى فَمَشَيْتُ مَعَهُ حَتَّى بَلَغَ بَابَ حُجْرَةِ عَائِشَةَ، ثُمَّ ظَنَّ أَنَّهُمْ قَدْ خَرَجُوا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ، مَعَهُ فَإِذَا هُمْ جُلُوسٌ مَكَانَهُمْ، فَرَجَعَ فَرَجَعْتُ الثَّانِيَةَ حَتَّى بَلَغَ حُجْرَةَ عَائِشَةَ، فَرَجَعَ فَرَجَعَتْ، فَإِذَا هُمْ قَدْ قَامُوا، فَضَرَبَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ بِالسِّتْرِ، وَأَنْزَلَ اللَّهُ آيَةَ الْحِجَابِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پردے (کے احکام) کو سب لوگوں سے زیادہ جاننے والا میں ہوں۔ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بھی اس کے بارے میں مجھ سے پوچھا کرتے تھے۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے دلہا کی حیثیت سے صبح کی، آپ نے (اسی رات) مدینہ میں ان سے شادی کی تھی، دن چڑھنے کے بعد آپ نے لوگوں کو کھانے کے لیے بلایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما ہوئے تو کچھ افراد لوگوں کے چلے جانے کے بعد بھی آپ کے ساتھ بیٹھے رہے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو گئے۔ آپ چلے تو میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا حتیٰ کہ آپ (سب حجروں سے ہوتے ہوئے) حجرہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے پر پہنچے۔ پھر آپ نے سوچا کہ وہ لوگ جا چکے ہوں گے، آپ واپس ہوئے، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، تو تب بھی وہ اپنی جگہوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ لوٹ گئے اور میں بھی دوبارہ لوٹ گیا، حتیٰ کہ آپ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے تک پہنچے تو پھر سے واپس آئے، میں بھی آپ کے ساتھ واپس آیا، تو دیکھا کہ وہ لوگ اٹھ (کر جا) چکے تھے، اس کے بعد آپ نے میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا، اور (اس وقت) پردے کی آیت نازل کی گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3506]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1428 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، قَالَ: فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ، فقَالَت: يَا أَنَسُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْ: بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ: " ضَعْهُ "، ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ، فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ وَسَمَّى رِجَالًا "، قَالَ: فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: عَدَدَ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ، وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنَسُ، هَاتِ التَّوْرَ "، قَالَ: فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلَأَتِ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ "، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، قَالَ: فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ، فقَالَ لِي: " يَا أَنَسُ، ارْفَعْ "، قَالَ: فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ؟، قَالَ: وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ، فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ، ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَرْخَى السِّتْرَ، وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَيَّ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ سورة الأحزاب آية 53، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ الْجَعْدُ: قَالَ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ، وَحُجِبْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جعفر بن سلیمان نے ہمیں ابوعثمان جعد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شادی کی اور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے۔ میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس تیار کیا، اسے ایک پیالہ نما بڑے برتن میں ڈالا، اور کہا: انس! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ اور عرض کرو: یہ میری والدہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، اور وہ آپ کو سلام عرض کرتی ہیں اور کہتی ہیں: اللہ کے رسول! یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑی سی چیز ہے۔ کہا: میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میری والدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: اللہ کے رسول! یہ آپ کے لیے ہماری طرف سے تھوڑی سی چیز ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ (آپ نے اسے بھی ولیمے کے کھانے کے ساتھ شامل کر لیا) پھر فرمایا: جاؤ، فلاں، فلاں اور فلاں اور جو لوگ تمہیں ملیں انہیں بلا لاؤ۔ آپ نے چند آدمیوں کے نام لیے۔ کہا: میں ان لوگوں کو جن کے آپ نے نام لیے اور وہ جو مجھے ملے، ان کو لے آیا۔ کہا: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ (سب) تعداد میں کتنے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: تین سو کے لگ بھگ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: انس! برتن لے آؤ۔ کہا: لوگ اندر داخل ہوئے حتیٰ کہ صفہ (چبوترہ) اور حجرہ بھر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دس دس افراد حلقہ بنا لیں، اور ہر انسان اپنے سامنے سے کھائے۔ ان سب نے کھایا حتیٰ کہ سیر ہو گئے، ایک گروہ نکلا تو دوسرا داخل ہوا (اس طرح ہوتا رہا) حتیٰ کہ ان سب نے کھانا کھا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا: انس! اٹھا لو۔ تو میں نے (برتن) اٹھا لیے، مجھے معلوم نہیں کہ جب میں نے (کھانا) رکھا تھا اس وقت زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اس وقت۔ کہا: ان میں سے کچھ ٹولیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں ہی بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ کی اہلیہ دیوار کی طرف رخ کیے بیٹھی تھیں، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر گراں گزرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (گھر سے) نکلے، (یکے بعد دیگرے) اپنی ازواج کو سلام کیا، پھر واپس ہوئے۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ واپس ہو گئے ہیں، تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ آپ پر گراں گزر رہے ہیں۔ کہا: تو وہ جلدی سے دروازے کی طرف لپکے اور سب کے سب نکل گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (آگے) تشریف لائے، حتیٰ کہ آپ نے پردہ لٹکایا اور اندر داخل ہو گئے اور میں حجرہ (نما صفے) میں بیٹھا ہوا تھا، آپ تھوڑی ہی دیر ٹھہرے حتی کہ (دوبارہ) باہر میرے پاس آئے، اور (آپ پر) یہ آیت نازل کی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے انہیں (آیت کریمہ کے جملہ کلمات کو) تلاوت فرمایا: اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں، بلکہ جب تمہیں دعوت دی جائے تب تم اندر جاؤ، پھر جب کھانا کھا چلو تو منتشر ہو جاؤ، اور (وہیں) باتوں میں دل لگاتے ہوئے نہیں (بیٹھے رہو۔) بلاشبہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف دیتی ہے آیت کے آخر تک۔ جعد نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ان آیات کے ساتھ (جو ایک ہی طویل آیت میں سمو دی گئیں) میرا تعلق سب سے زیادہ قریب کا ہے، اور (ان کے نزول ہوتے ہی) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج رضی اللہ عنہن کو پردہ کرا دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3507]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3507 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا جَعْفَرٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الْجَعْدِ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلَ بِأَهْلِهِ، قَالَ: فَصَنَعَتْ أُمِّي أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فَجَعَلَتْهُ فِي تَوْرٍ، فقَالَت: يَا أَنَسُ، اذْهَبْ بِهَذَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْ: بَعَثَتْ بِهَذَا إِلَيْكَ أُمِّي وَهِيَ تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّ أُمِّي تُقْرِئُكَ السَّلَامَ، وَتَقُولُ: إِنَّ هَذَا لَكَ مِنَّا قَلِيلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ: " ضَعْهُ "، ثُمَّ قَالَ: " اذْهَبْ، فَادْعُ لِي فُلَانًا وَفُلَانًا وَفُلَانًا وَمَنْ لَقِيتَ وَسَمَّى رِجَالًا "، قَالَ: فَدَعَوْتُ مَنْ سَمَّى وَمَنْ لَقِيتُ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: عَدَدَ كَمْ كَانُوا؟ قَالَ: زُهَاءَ ثَلَاثِ مِائَةٍ، وَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَنَسُ، هَاتِ التَّوْرَ "، قَالَ: فَدَخَلُوا حَتَّى امْتَلَأَتِ الصُّفَّةُ وَالْحُجْرَةُ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيَتَحَلَّقْ عَشَرَةٌ عَشَرَةٌ، وَلْيَأْكُلْ كُلُّ إِنْسَانٍ مِمَّا يَلِيهِ "، قَالَ: فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا، قَالَ: فَخَرَجَتْ طَائِفَةٌ وَدَخَلَتْ طَائِفَةٌ حَتَّى أَكَلُوا كُلُّهُمْ، فقَالَ لِي: " يَا أَنَسُ، ارْفَعْ "، قَالَ: فَرَفَعْتُ فَمَا أَدْرِي حِينَ وَضَعْتُ كَانَ أَكْثَرَ أَمْ حِينَ رَفَعْتُ؟، قَالَ: وَجَلَسَ طَوَائِفُ مِنْهُمْ يَتَحَدَّثُونَ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَزَوْجَتُهُ مُوَلِّيَةٌ وَجْهَهَا إِلَى الْحَائِطِ، فَثَقُلُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ رَجَعَ، فَلَمَّا رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ رَجَعَ، ظَنُّوا أَنَّهُمْ قَدْ ثَقُلُوا عَلَيْهِ، قَالَ: فَابْتَدَرُوا الْبَابَ فَخَرَجُوا كُلُّهُمْ وَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَرْخَى السِّتْرَ، وَدَخَلَ وَأَنَا جَالِسٌ فِي الْحُجْرَةِ، فَلَمْ يَلْبَثْ إِلَّا يَسِيرًا حَتَّى خَرَجَ عَلَيَّ، وَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَرَأَهُنَّ عَلَى النَّاسِ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا فَإِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوا وَلا مُسْتَأْنِسِينَ لِحَدِيثٍ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِيَّ سورة الأحزاب آية 53، إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، قَالَ الْجَعْدُ: قَالَ: أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: أَنَا أَحْدَثُ النَّاسِ عَهْدًا بِهَذِهِ الْآيَاتِ، وَحُجِبْنَ نِسَاءُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جعفر بن سلیمان نے ہمیں ابوعثمان جعد سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شادی کی اور اپنی اہلیہ کے پاس تشریف لے گئے۔ میری والدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے حیس تیار کیا، اسے ایک پیالہ نما بڑے برتن میں ڈالا، اور کہا: انس! یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لے جاؤ اور عرض کرو: یہ میری والدہ نے آپ کی خدمت میں بھیجا ہے، اور وہ آپ کو سلام عرض کرتی ہیں اور کہتی ہیں: اللہ کے رسول! یہ ہماری طرف سے آپ کے لیے تھوڑی سی چیز ہے۔ کہا: میں اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: میری والدہ آپ کو سلام پیش کرتی ہیں اور کہتی ہیں: اللہ کے رسول! یہ آپ کے لیے ہماری طرف سے تھوڑی سی چیز ہے۔ آپ نے فرمایا: اسے رکھ دو۔ (آپ نے اسے بھی ولیمے کے کھانے کے ساتھ شامل کر لیا) پھر فرمایا: جاؤ، فلاں، فلاں اور فلاں اور جو لوگ تمہیں ملیں انہیں بلا لاؤ۔ آپ نے چند آدمیوں کے نام لیے۔ کہا: میں ان لوگوں کو جن کے آپ نے نام لیے اور وہ جو مجھے ملے، ان کو لے آیا۔ کہا: میں نے انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ (سب) تعداد میں کتنے تھے؟ انہوں نے جواب دیا: تین سو کے لگ بھگ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: انس! برتن لے آؤ۔ کہا: لوگ اندر داخل ہوئے حتیٰ کہ صفہ (چبوترہ) اور حجرہ بھر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دس دس افراد حلقہ بنا لیں، اور ہر انسان اپنے سامنے سے کھائے۔ ان سب نے کھایا حتیٰ کہ سیر ہو گئے، ایک گروہ نکلا تو دوسرا داخل ہوا (اس طرح ہوتا رہا) حتیٰ کہ ان سب نے کھانا کھا لیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا: انس! اٹھا لو۔ تو میں نے (برتن) اٹھا لیے، مجھے معلوم نہیں کہ جب میں نے (کھانا) رکھا تھا اس وقت زیادہ تھا یا جب میں نے اٹھایا اس وقت۔ کہا: ان میں سے کچھ ٹولیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھر میں ہی بیٹھ کر باتیں کرنے لگیں، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے، اور آپ کی اہلیہ دیوار کی طرف رخ کیے بیٹھی تھیں، یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر گراں گزرنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (گھر سے) نکلے، (یکے بعد دیگرے) اپنی ازواج کو سلام کیا، پھر واپس ہوئے۔ جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ واپس ہو گئے ہیں، تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ آپ پر گراں گزر رہے ہیں۔ کہا: تو وہ جلدی سے دروازے کی طرف لپکے اور سب کے سب نکل گئے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (آگے) تشریف لائے، حتیٰ کہ آپ نے پردہ لٹکایا اور اندر داخل ہو گئے اور میں حجرہ (نما صفے) میں بیٹھا ہوا تھا، آپ تھوڑی ہی دیر ٹھہرے حتی کہ (دوبارہ) باہر میرے پاس آئے، اور (آپ پر) یہ آیت نازل کی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور لوگوں کے سامنے انہیں (آیت کریمہ کے جملہ کلمات کو) تلاوت فرمایا: اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے اجازت دی جائے، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں، بلکہ جب تمہیں دعوت دی جائے تب تم اندر جاؤ، پھر جب کھانا کھا چلو تو منتشر ہو جاؤ، اور (وہیں) باتوں میں دل لگاتے ہوئے نہیں (بیٹھے رہو۔) بلاشبہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف دیتی ہے آیت کے آخر تک۔ جعد نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ان آیات کے ساتھ (جو ایک ہی طویل آیت میں سمو دی گئیں) میرا تعلق سب سے زیادہ قریب کا ہے، اور (ان کے نزول ہوتے ہی) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج رضی اللہ عنہن کو پردہ کرا دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3507]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1428 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فقَالَ أَنَسٌ: فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ "، فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ، فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ فَدَعَا فِيهِ، وَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا، وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53، قَالَ قَتَادَةُ: غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا، وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ سورة الأحزاب آية 53.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمیں ابوعثمان (جعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک بڑے برتن میں حیس بھی آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تمہیں ملے اسے میرے پاس بلا لاؤ۔ تو میں جس سے ملا اسے آپ کی طرف دعوت دی، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، کھانا کھاتے اور نکل جاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھا اور اس میں (برکت کی) دعا کی، اس کے بارے میں جو اللہ نے چاہا کہ آپ کہیں، آپ نے کہا۔ اور میں جس کو بھی ملا، ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا مگر اسے دعوت دی، لوگوں نے کھایا، حتیٰ کہ سیر ہو گئے اور نکل گئے، ان میں سے ایک گروہ (وہیں) رہ گیا، انہوں نے آپ کی موجودگی میں طویل گفتگو کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حیا محسوس کرنے لگے کہ ان سے کچھ کہیں، چنانچہ آپ نکلے اور انہیں گھر میں ہی چھوڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیات) نازل فرمائیں: اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے (اندر آنے کی) اجازت دی جائے، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں۔۔۔ قتادہ نے کہا: کھانے کے وقت کا انتظار کرتے ہوئے نہیں۔۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب تم اندر جاؤ۔ حتیٰ کہ آپ نے یہاں تک تلاوت کی: یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے اور زیادہ پاکیزگی (کا طریقہ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3508]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3508 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي عُثْمَانَ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حدثنا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ، أَهْدَتْ لَهُ أُمُّ سُلَيْمٍ حَيْسًا فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ، فقَالَ أَنَسٌ: فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اذْهَبْ فَادْعُ لِي مَنْ لَقِيتَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ "، فَدَعَوْتُ لَهُ مَنْ لَقِيتُ، فَجَعَلُوا يَدْخُلُونَ عَلَيْهِ فَيَأْكُلُونَ وَيَخْرُجُونَ، وَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى الطَّعَامِ فَدَعَا فِيهِ، وَقَالَ فِيهِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، وَلَمْ أَدَعْ أَحَدًا لَقِيتُهُ إِلَّا دَعَوْتُهُ، فَأَكَلُوا حَتَّى شَبِعُوا وَخَرَجُوا، وَبَقِيَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ فَأَطَالُوا عَلَيْهِ الْحَدِيثَ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَحْيِي مِنْهُمْ أَنْ يَقُولَ لَهُمْ شَيْئًا، فَخَرَجَ وَتَرَكَهُمْ فِي الْبَيْتِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ إِلا أَنْ يُؤْذَنَ لَكُمْ إِلَى طَعَامٍ غَيْرَ نَاظِرِينَ إِنَاهُ سورة الأحزاب آية 53، قَالَ قَتَادَةُ: غَيْرَ مُتَحَيِّنِينَ طَعَامًا، وَلَكِنْ إِذَا دُعِيتُمْ فَادْخُلُوا حَتَّى بَلَغَ ذَلِكُمْ أَطْهَرُ لِقُلُوبِكُمْ وَقُلُوبِهِنَّ سورة الأحزاب آية 53.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معمر نے ہمیں ابوعثمان (جعد) سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے نکاح کیا تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک بڑے برتن میں حیس بھی آپ کی خدمت میں بطور ہدیہ پیش کیا۔ انس رضی اللہ عنہ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جاؤ اور مسلمانوں میں سے جو بھی تمہیں ملے اسے میرے پاس بلا لاؤ۔ تو میں جس سے ملا اسے آپ کی طرف دعوت دی، لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے، کھانا کھاتے اور نکل جاتے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھانے پر اپنا ہاتھ رکھا اور اس میں (برکت کی) دعا کی، اس کے بارے میں جو اللہ نے چاہا کہ آپ کہیں، آپ نے کہا۔ اور میں جس کو بھی ملا، ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں چھوڑا مگر اسے دعوت دی، لوگوں نے کھایا، حتیٰ کہ سیر ہو گئے اور نکل گئے، ان میں سے ایک گروہ (وہیں) رہ گیا، انہوں نے آپ کی موجودگی میں طویل گفتگو کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حیا محسوس کرنے لگے کہ ان سے کچھ کہیں، چنانچہ آپ نکلے اور انہیں گھر میں ہی چھوڑ دیا، تو اللہ تعالیٰ نے (یہ آیات) نازل فرمائیں: اے ایمان والو! تم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو، الا یہ کہ تمہیں کھانے کے لیے (اندر آنے کی) اجازت دی جائے، کھانا پکنے کا انتظار کرتے ہوئے نہیں۔۔۔ قتادہ نے کہا: کھانے کے وقت کا انتظار کرتے ہوئے نہیں۔۔ لیکن جب تمہیں بلایا جائے تب تم اندر جاؤ۔ حتیٰ کہ آپ نے یہاں تک تلاوت کی: یہ تمہارے اور ان کے دلوں کے لیے اور زیادہ پاکیزگی (کا طریقہ) ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 3508]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة