بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مکہ مکرمہ کے حرم ہونے اور اس کے شکار اور گھاس اور درخت اور گری پڑی چیز کی حرمت کا بیان سوائے اس کے جو گری پڑی چیز کا اعلان کرنے والا ہو۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: مکہ مکرمہ کے حرم ہونے اور اس کے شکار اور گھاس اور درخت اور گری پڑی چیز کی حرمت کا بیان سوائے اس کے جو گری پڑی چیز کا اعلان کرنے والا ہو۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 1353 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: فَتْحِ مَكَّةَ: إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا "، فقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، فقَالَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں منصور سے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں نفیر عام (جہاد میں حاضری) کے لیے کہا جائے تو نکل پڑو۔ اور آپ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: بلاشبہ یہ شہر (ایسا) ہے جسے اللہ نے (اس وقت سے) حرمت عطا کی ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی (عطا کردہ) حرمت (کی وجہ) سے قیامت تک کے لیے محترم ہے اور مجھ سے پہلے کسی ایک کے لیے اس میں لڑائی کو حلال قرار نہیں دیا گیا اور میرے لیے بھی دن میں سے ایک گھڑی کے لیے ہی اسے حلال کیا گیا ہے (اب) یہ اللہ کی (عطا کردہ) حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک حرام ہے، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو ڈرا کر نہ بھگایا جائے، کوئی شخص اس میں گری ہوئی چیز کو نہ اٹھائے سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے، نیز اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! سوائے اذخر (خوشبو دار گھاس) کے، وہ ان کے لوہاروں اور گھروں کے لیے (ضروری) ہے، تو آپ نے فرمایا: سوائے اذخر کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3302]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3302 صحیح مسلم
إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حدثنا إِسْحَاقَ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ: فَتْحِ مَكَّةَ: " لَا هِجْرَةَ وَلَكِنْ جِهَادٌ وَنِيَّةٌ، وَإِذَا اسْتُنْفِرْتُمْ فَانْفِرُوا، وَقَالَ يَوْمَ الْفَتْحِ: فَتْحِ مَكَّةَ: إِنَّ هَذَا الْبَلَدَ حَرَّمَهُ اللَّهُ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهُ لَمْ يَحِلَّ الْقِتَالُ فِيهِ لِأَحَدٍ قَبْلِي، وَلَمْ يَحِلَّ لِي إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، فَهُوَ حَرَامٌ بِحُرْمَةِ اللَّهِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، لَا يُعْضَدُ شَوْكُهُ، وَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهُ، وَلَا يَلْتَقِطُ إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا، وَلَا يُخْتَلَى خَلَاهَا "، فقَالَ الْعَبَّاسُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا الْإِذْخِرَ، فَإِنَّهُ لِقَيْنِهِمْ وَلِبُيُوتِهِمْ، فقَالَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر نے ہمیں منصور سے خبر دی، انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے طاوس سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فرمایا: اب ہجرت نہیں ہے البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمہیں نفیر عام (جہاد میں حاضری) کے لیے کہا جائے تو نکل پڑو۔ اور آپ نے فتح مکہ کے دن فرمایا: بلاشبہ یہ شہر (ایسا) ہے جسے اللہ نے (اس وقت سے) حرمت عطا کی ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ یہ اللہ کی (عطا کردہ) حرمت (کی وجہ) سے قیامت تک کے لیے محترم ہے اور مجھ سے پہلے کسی ایک کے لیے اس میں لڑائی کو حلال قرار نہیں دیا گیا اور میرے لیے بھی دن میں سے ایک گھڑی کے لیے ہی اسے حلال کیا گیا ہے (اب) یہ اللہ کی (عطا کردہ) حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک حرام ہے، اس کے کانٹے نہ کاٹے جائیں، اس کے شکار کو ڈرا کر نہ بھگایا جائے، کوئی شخص اس میں گری ہوئی چیز کو نہ اٹھائے سوائے اس کے جو اس کا اعلان کرے، نیز اس کی گھاس بھی نہ کاٹی جائے۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! سوائے اذخر (خوشبو دار گھاس) کے، وہ ان کے لوہاروں اور گھروں کے لیے (ضروری) ہے، تو آپ نے فرمایا: سوائے اذخر کے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3302]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1353 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلٌ ، مَنْصُورٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ: الْقَتْلَ، وَقَالَ: لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ، إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مفضل نے ہمیں منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، انہوں نے جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کے الفاظ ذکر نہیں کیے، قتال (لڑائی) کے بجائے قتل کا لفظ کہا اور کہا: یہاں کی گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اس کا اعلان کرے، کوئی نہ اٹھائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3303]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3303 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلٌ ، مَنْصُورٍ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حدثنا مُفَضَّلٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ، وَلَمْ يَذْكُرْ: يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ، وَقَالَ بَدَلَ الْقِتَالِ: الْقَتْلَ، وَقَالَ: لَا يَلْتَقِطُ لُقَطَتَهُ، إِلَّا مَنْ عَرَّفَهَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مفضل نے ہمیں منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی، انہوں نے جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا کے الفاظ ذکر نہیں کیے، قتال (لڑائی) کے بجائے قتل کا لفظ کہا اور کہا: یہاں کی گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اس کا اعلان کرے، کوئی نہ اٹھائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3303]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1354 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا، قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ "، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْح، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے جب وہ (ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف) مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا، کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیں، میں آپ کو ایک ایسا فرمان بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمایا تھا۔ اسے میرے دونوں کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور جب آپ نے اس کے الفاظ بولے تو میری دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بلاشبہ مکہ کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے، لوگوں نے نہیں۔ کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے اور نہ (یہ حلال ہے کہ) کسی درخت کو کاٹے۔ اگر کوئی شخص اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لڑائی کی بنا پر رخصت نکالے تو اسے کہہ دینا: بلاشبہ اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اجازت دی تھی، تمہیں اس کی اجازت نہیں دی تھی اور آج ہی اس کی حرمت اسی طرح واپس آگئی ہے جیسے کل اس کی حرمت موجود تھی اور جو حاضر ہے (یہ بات) اس تک پہنچا دے جو حاضر نہیں۔ اس پر ابوشریح رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: (جواب میں) عمرو نے تم سے کیا کہا؟ (کہا:) اس نے جواب دیا: اے ابوشریح! میں یہ بات تم سے زیادہ جانتا ہوں، جرم کسی نافرمان (باغی) کو، خون کر کے بھاگ آنے والے کو اور چوری کر کے فرار ہونے والے کو پناہ نہیں دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3304]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3304 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ
حدثنا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حدثنا لَيْثٌ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ: لِعَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، وَهُوَ يَبْعَثُ الْبُعُوثَ إِلَى مَكَّةَ: ائْذَنْ لِي أَيُّهَا الْأَمِيرُ أُحَدِّثْكَ قَوْلًا، قَامَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ مِنْ يَوْمِ الْفَتْحِ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ، وَوَعَاهُ قَلْبِي، وَأَبْصَرَتْهُ عَيْنَايَ حِينَ تَكَلَّمَ بِهِ، أَنَّهُ حَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ مَكَّةَ حَرَّمَهَا اللَّهُ، وَلَمْ يُحَرِّمْهَا النَّاسُ، فَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، أَنْ يَسْفِكَ بِهَا دَمًا، وَلَا يَعْضِدَ بِهَا شَجَرَةً، فَإِنْ أَحَدٌ تَرَخَّصَ بِقِتَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا، فَقُولُوا لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَذِنَ لِرَسُولِهِ وَلَمْ يَأْذَنْ لَكُمْ، وَإِنَّمَا أَذِنَ لِي فِيهَا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَقَدْ عَادَتْ حُرْمَتُهَا الْيَوْمَ كَحُرْمَتِهَا بِالْأَمْسِ، وَلْيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ "، فَقِيلَ لِأَبِي شُرَيْحٍ: مَا قَالَ لَكَ عَمْرٌو؟ قَالَ: أَنَا أَعْلَمُ بِذَلِكَ مِنْكَ يَا أَبَا شُرَيْح، إِنَّ الْحَرَمَ لَا يُعِيذُ عَاصِيًا، وَلَا فَارًّا بِدَمٍ وَلَا فَارًّا بِخَرْبَةٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوشریح عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرو بن سعید سے جب وہ (ابن زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف) مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا، کہا: اے امیر! مجھے اجازت دیں، میں آپ کو ایک ایسا فرمان بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فرمایا تھا۔ اسے میرے دونوں کانوں نے سنا، میرے دل نے یاد رکھا اور جب آپ نے اس کے الفاظ بولے تو میری دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا۔ آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بلاشبہ مکہ کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے، لوگوں نے نہیں۔ کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے اور نہ (یہ حلال ہے کہ) کسی درخت کو کاٹے۔ اگر کوئی شخص اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لڑائی کی بنا پر رخصت نکالے تو اسے کہہ دینا: بلاشبہ اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اجازت دی تھی، تمہیں اس کی اجازت نہیں دی تھی اور آج ہی اس کی حرمت اسی طرح واپس آگئی ہے جیسے کل اس کی حرمت موجود تھی اور جو حاضر ہے (یہ بات) اس تک پہنچا دے جو حاضر نہیں۔ اس پر ابوشریح رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: (جواب میں) عمرو نے تم سے کیا کہا؟ (کہا:) اس نے جواب دیا: اے ابوشریح! میں یہ بات تم سے زیادہ جانتا ہوں، جرم کسی نافرمان (باغی) کو، خون کر کے بھاگ آنے والے کو اور چوری کر کے فرار ہونے والے کو پناہ نہیں دیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3304]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1355 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، الْوَلِيدِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حدثنا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُفْدَى، وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ "، فقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ "، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فقَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ "، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ولید بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں اوزاعی نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور (انہوں نے کہا:) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ پر فتح عطا کی تو آپ لوگوں میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بلاشبہ اللہ نے ہاتھی کو مکہ سے روک دیا۔ اور اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا، مجھ سے پہلے یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ تھا، میرے لیے دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا۔ اور میرے بعد یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ اس لیے نہ اس کے شکار کو ڈرا کر بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹے (دار درخت) کاٹے جائیں۔ اور اس میں گری پڑی کوئی چیز اٹھانا اعلان کرنے والے کے سوا کسی کے لیے حلال نہیں۔ اور جس کا کوئی قریبی (عزیز) قتل کر دیا جائے اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو (اس کی نظر میں) بہتر ہو: یا اس کی دیت دی جائے یا (قاتل) قتل کیا جائے۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اذخر کے سوا، ہم اسے اپنی قبروں (کی سلوں کی درزوں) اور گھروں (کی چھتوں) میں استعمال کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اذخر کے سوا۔ اس پر اہل یمن میں سے ایک آدمی ابوشاہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! (یہ سب) میرے لیے لکھوا دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: اس (یمنی) کا یہ کہنا اے اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیں۔ (اس سے مراد) کیا تھا؟ انہوں نے کہا: یہ خطبہ (مراد تھا) جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3305]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3305 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، الْوَلِيدِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبُو هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حدثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حدثنا الْأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ ، قَالَ: لَمَّا فَتَحَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ، قَامَ فِي النَّاسِ، فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ، وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَهُ وَالْمُؤْمِنِينَ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي، وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِي سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، وَإِنَّهَا لَنْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ بَعْدِي، فَلَا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، وَلَا يُخْتَلَى شَوْكُهَا، وَلَا تَحِلُّ سَاقِطَتُهَا إِلَّا لِمُنْشِدٍ، وَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ، فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يُفْدَى، وَإِمَّا أَنْ يُقْتَلَ "، فقَالَ الْعَبَّاسُ: إِلَّا الْإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي قُبُورِنَا وَبُيُوتِنَا، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِلَّا الْإِذْخِرَ "، فَقَامَ أَبُو شَاهٍ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فقَالَ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، فقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اكْتُبُوا لِأَبِي شَاهٍ "، قَالَ الْوَلِيدُ: فَقُلْتُ لِلْأَوْزَاعِيِّ: مَا قَوْلُهُ: اكْتُبُوا لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَذِهِ الْخُطْبَةَ الَّتِي سَمِعَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ولید بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں اوزاعی نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنائی۔ (کہا:) مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور (انہوں نے کہا:) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: جب اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ پر فتح عطا کی تو آپ لوگوں میں (خطبہ دینے کے لیے) کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: بلاشبہ اللہ نے ہاتھی کو مکہ سے روک دیا۔ اور اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا، مجھ سے پہلے یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ تھا، میرے لیے دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا۔ اور میرے بعد یہ ہرگز کسی کے لیے حلال نہ ہوگا۔ اس لیے نہ اس کے شکار کو ڈرا کر بھگایا جائے اور نہ اس کے کانٹے (دار درخت) کاٹے جائیں۔ اور اس میں گری پڑی کوئی چیز اٹھانا اعلان کرنے والے کے سوا کسی کے لیے حلال نہیں۔ اور جس کا کوئی قریبی (عزیز) قتل کر دیا جائے اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو (اس کی نظر میں) بہتر ہو: یا اس کی دیت دی جائے یا (قاتل) قتل کیا جائے۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اذخر کے سوا، ہم اسے اپنی قبروں (کی سلوں کی درزوں) اور گھروں (کی چھتوں) میں استعمال کرتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اذخر کے سوا۔ اس پر اہل یمن میں سے ایک آدمی ابوشاہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! (یہ سب) میرے لیے لکھوا دیجیے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوشاہ کے لیے لکھ دو۔ ولید نے کہا: میں نے اوزاعی سے پوچھا: اس (یمنی) کا یہ کہنا اے اللہ کے رسول! مجھے لکھوا دیں۔ (اس سے مراد) کیا تھا؟ انہوں نے کہا: یہ خطبہ (مراد تھا) جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3305]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة