بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کا استحباب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بیان میں کہ ”تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو“۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: قربانی کے دن جمرہ عقبہ کو سوار ہو کر کنکریاں مارنے کا استحباب اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے بیان میں کہ ”تم مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو“۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 1297 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، ابْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جميعا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَقُولُ: لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر (سوار ہو کر) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: تمہیں چاہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو، میں نہیں جانتا شاید اس حج کے بعد میں (دوبارہ) حج نہ کر سکوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3137]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3137 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، ابْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَبُو الزُّبَيْرِ ، جَابِرًا
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ، جميعا عَنْ عِيسَى بْنِ يُونُسَ ، قَالَ ابْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي عَلَى رَاحِلَتِهِ يَوْمَ النَّحْرِ، وَيَقُولُ: لِتَأْخُذُوا مَنَاسِكَكُمْ، فَإِنِّي لَا أَدْرِي لَعَلِّي لَا أَحُجُّ بَعْدَ حَجَّتِي هَذِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر (سوار ہو کر) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے: تمہیں چاہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو، میں نہیں جانتا شاید اس حج کے بعد میں (دوبارہ) حج نہ کر سکوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3137]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1298 صحیح مسلم
سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، مَعْقِلٌ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، أُمِّ الْحُصَيْنِ
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَأُسَامَةُ، أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّمْسِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ: أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معقل نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی، (یحییٰ بن حصین نے) کہا: میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں حج کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ اپنی سواری پر تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے ایک آگے سے (مہار پکڑ کر) آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا دھوپ سے (بچاؤ کے لیے) اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر تانے ہوئے تھا۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اس موقع پر) بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر میں نے آپ سے سنا آپ فرما رہے تھے: اگر کوئی کٹے ہوئے اعضاء والا۔۔۔ میرا خیال ہے انہوں (حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا) نے کہا:۔۔۔ کالا غلام بھی تمہارا امیر بنا دیا جائے جو اللہ کی کتاب کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3138 صحیح مسلم
سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، مَعْقِلٌ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، أُمِّ الْحُصَيْنِ
وَحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ الْحُصَيْنِ ، قَالَ: سَمِعْتُهَا تَقُولُ: حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُهُ حِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ، وَانْصَرَفَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ، وَمَعَهُ بِلَالٌ، وَأُسَامَةُ، أَحَدُهُمَا يَقُودُ بِهِ رَاحِلَتَهُ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الشَّمْسِ، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلًا كَثِيرًا، ثُمَّ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " إِنْ أُمِّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ مُجَدَّعٌ حَسِبْتُهَا قَالَتْ: أَسْوَدُ يَقُودُكُمْ بِكِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى، فَاسْمَعُوا لَهُ وَأَطِيعُوا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معقل نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی، (یحییٰ بن حصین نے) کہا: میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں حجۃ الوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں حج کیا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ اپنی سواری پر تھے اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے ایک آگے سے (مہار پکڑ کر) آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا دھوپ سے (بچاؤ کے لیے) اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر تانے ہوئے تھا۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (اس موقع پر) بہت سی باتیں ارشاد فرمائیں۔ پھر میں نے آپ سے سنا آپ فرما رہے تھے: اگر کوئی کٹے ہوئے اعضاء والا۔۔۔ میرا خیال ہے انہوں (حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا) نے کہا:۔۔۔ کالا غلام بھی تمہارا امیر بنا دیا جائے جو اللہ کی کتاب کے مطابق تمہاری قیادت کرے تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1298 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، أُمِّ الْحُصَيْنِ
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ، وَبِلَالًا، وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ "، قَالَ مُسْلِم: وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، رَوَى عَنْهُ، وَكِيعٌ، وَحَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعبدالرحیم نے زید بن ابی انیسہ سے انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ الوداعی حج کیا تو میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور دوسرا کپڑے کو اٹھائے گرمی سے اوٹ کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوعبدالرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے اور وہ محمد بن سلمہ کے ماموں ہیں ان سے وکیع اور حجاج اعور نے (حدیث) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3139]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3139 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، أُمِّ الْحُصَيْنِ
وَحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحُصَيْنِ ، عَنْ أُمِّ الْحُصَيْنِ جَدَّتِهِ، قَالَتْ: " حَجَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةَ الْوَدَاعِ، فَرَأَيْتُ أُسَامَةَ، وَبِلَالًا، وَأَحَدُهُمَا آخِذٌ بِخِطَامِ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ رَافِعٌ ثَوْبَهُ يَسْتُرُهُ مِنَ الْحَرِّ، حَتَّى رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ "، قَالَ مُسْلِم: وَاسْمُ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، وَهُوَ خَالُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، رَوَى عَنْهُ، وَكِيعٌ، وَحَجَّاجٌ الْأَعْوَرُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعبدالرحیم نے زید بن ابی انیسہ سے انہوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انہوں نے اپنی دادی حضرت ام حصین رضی اللہ عنہا سے روایت کی انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ الوداعی حج کیا تو میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کی نکیل تھامے ہوئے تھا اور دوسرا کپڑے کو اٹھائے گرمی سے اوٹ کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں۔ امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا: ابوعبدالرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے اور وہ محمد بن سلمہ کے ماموں ہیں ان سے وکیع اور حجاج اعور نے (حدیث) روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3139]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة