بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: ضعیفوں اور عورتوں کو لوگوں کے جمگھٹے سے پہلے رات کے آخری حصہ میں مزدلفہ سے منیٰ روانہ کرنے کا استحباب، اور ان کے علاوہ لوگوں کو مزدلفہ میں ہی صبح کی نماز پڑھنے تک ٹھہرنے کا استحباب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1290 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ: وَالثَّبِطَةُ: الثَّقِيلَةُ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ، وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ "، وَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
فلح بن حمید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے (منیٰ) چلی جائیں۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کر سکنے والی خاتون تھیں۔ قاسم نے کہا: ثبطہ بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں۔ کہا، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے (وہیں) صبح کی، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لیتی، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی۔ اور یہ کہ (ہمیشہ) آپ کی اجازت سے (جلد) روانہ ہوتی تو یہ میرے لیے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3118]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3118 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا أَفْلَحُ يَعْنِي ابْنَ حُمَيْدٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ: " اسْتَأْذَنَتْ سَوْدَةُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْمُزْدَلِفَةِ، تَدْفَعُ قَبْلَهُ وَقَبْلَ حَطْمَةِ النَّاسِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً ثَبِطَةً يَقُولُ الْقَاسِمُ: وَالثَّبِطَةُ: الثَّقِيلَةُ، قَالَ: فَأَذِنَ لَهَا فَخَرَجَتْ قَبْلَ دَفْعِهِ، وَحَبَسَنَا حَتَّى أَصْبَحْنَا فَدَفَعْنَا بِدَفْعِهِ "، وَلَأَنْ أَكُونَ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأَكُونَ أَدْفَعُ بِإِذْنِهِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ مَفْرُوحٍ بِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
فلح بن حمید نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے (منیٰ) چلی جائیں۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کر سکنے والی خاتون تھیں۔ قاسم نے کہا: ثبطہ بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں۔ کہا، (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:) آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے (وہیں) صبح کی، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لیتی، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی۔ اور یہ کہ (ہمیشہ) آپ کی اجازت سے (جلد) روانہ ہوتی تو یہ میرے لیے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3118]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1290 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، الثَّقَفِيِّ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جميعا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً " فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، فَأَذِنَ لَهَا "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بڑی (اور) بھاری جسم والی خاتون تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (صبح کو باقی لوگوں کی طرح) امیر (حج) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3119]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3119 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، الثَّقَفِيِّ ، أَيُّوبُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جميعا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً " فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ، فَأَذِنَ لَهَا "، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت سودہ رضی اللہ عنہا بڑی (اور) بھاری جسم والی خاتون تھیں، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہو جائیں، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: کاش جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی۔ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحلت کے بعد) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا (صبح کو باقی لوگوں کی طرح) امیر (حج) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3119]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1290 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى، فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے، اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیا کرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں مار لیتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: (کیا) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ وہ بھاری کم حرکت کر سکنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3120]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3120 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ، فَأُصَلِّي الصُّبْحَ بِمِنًى، فَأَرْمِي الْجَمْرَةَ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَ النَّاسُ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ: فَكَانَتْ سَوْدَةُ اسْتَأْذَنَتْهُ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، إِنَّهَا كَانَتِ امْرَأَةً ثَقِيلَةً ثَبِطَةً، فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنَ لَهَا "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے قاسم سے، اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیا کرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں مار لیتی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا گیا: (کیا) حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے اجازت لی تھی؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ وہ بھاری کم حرکت کر سکنے والی خاتون تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3120]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1290 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری نے عبدالرحمان بن قاسم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3121]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3121 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری نے عبدالرحمان بن قاسم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3121]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1291 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَسْمَاءُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ ، وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: كَلَّا أَيْ بُنَيَّ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ قطان نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، (کہا:) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے (اندر بنے ہوئے مشہور) گھر کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، مجھ سے پوچھا: کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی، پھر کہا: بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: مجھے لے چلو۔ تو ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں پھر (فجر کی) نماز اپنی منزل میں ادا کی۔ تو میں نے ان سے عرض کی: محترمہ! ہم رات کے آخری پہر میں (ہی) روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کو (پہلے روانہ ہونے کی) اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3122]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3122 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَسْمَاءُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ، قَالَ: قَالَتْ لِي أَسْمَاءُ ، وَهِيَ عِنْدَ دَارِ الْمُزْدَلِفَةِ: هَلْ غَابَ الْقَمَرُ، قُلْتُ: لَا، فَصَلَّتْ سَاعَةً، ثُمّ قَالَتْ: يَا بُنَيَّ، هَلْ غَابَ الْقَمَرُ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَتْ: ارْحَلْ بِي، فَارْتَحَلْنَا حَتَّى رَمَتِ الْجَمْرَةَ، ثُمَّ صَلَّتْ فِي مَنْزِلِهَا، فَقُلْتُ لَهَا: أَيْ هَنْتَاهْ لَقَدْ غَلَّسْنَا، قَالَتْ: كَلَّا أَيْ بُنَيَّ " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِلظُّعُنِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ قطان نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی، (کہا:) حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبداللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا: حضرت اسماء رضی اللہ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے (اندر بنے ہوئے مشہور) گھر کے پاس ٹھہری ہوئی تھیں، مجھ سے پوچھا: کیا چاند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی: نہیں، انہوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی، پھر کہا: بیٹے! کیا چاند غروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں۔ انہوں نے کہا: مجھے لے چلو۔ تو ہم روانہ ہوئے حتیٰ کہ انہوں نے جمرہ (عقبہ) کو کنکریاں ماریں پھر (فجر کی) نماز اپنی منزل میں ادا کی۔ تو میں نے ان سے عرض کی: محترمہ! ہم رات کے آخری پہر میں (ہی) روانہ ہو گئے۔ انہوں نے کہا: بالکل نہیں، میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عورتوں کو (پہلے روانہ ہونے کی) اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3122]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1291 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَتْ: لَا أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انہوں (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے کہا: نہیں میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی عورتوں (اور بچوں) کو اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3123]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3123 صحیح مسلم
عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، ابْنِ جُرَيْجٍ
وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَفِي رِوَايَتِهِ: قَالَتْ: لَا أَيْ بُنَيَّ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ (یہی) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انہوں (حضرت اسماء رضی اللہ عنہا) نے کہا: نہیں میرے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی عورتوں (اور بچوں) کو اجازت دی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3123]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1292 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنَ شَوَّالٍ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، فَأَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج سے روایت ہے (کہا:) مجھے عطاء نے خبر دی کہ انہیں ابن شوال نے خبر دی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3124]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3124 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، عِيسَى ، ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، ابْنَ شَوَّالٍ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ ، أَنَّ ابْنَ شَوَّالٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ ، فَأَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ بِهَا مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج سے روایت ہے (کہا:) مجھے عطاء نے خبر دی کہ انہیں ابن شوال نے خبر دی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے انہوں نے ان کو بتایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3124]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1292 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى "، وَفِي رِوَايَةِ النَّاقِدِ: نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن شوال سے اور انہوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم (خواتین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں یہی کرتی تھیں (کہ) ہم رات کے آخری پہر میں جمع (مزدلفہ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3125]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3125 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، عَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ ، عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ . ح وحَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ شَوَّالٍ ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ ، قَالَتْ: " كُنَّا نَفْعَلُهُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُغَلِّسُ مِنْ جَمْعٍ إِلَى مِنًى "، وَفِي رِوَايَةِ النَّاقِدِ: نُغَلِّسُ مِنْ مُزْدَلِفَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی، انہوں نے سالم بن شوال سے اور انہوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ہم (خواتین) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں یہی کرتی تھیں (کہ) ہم رات کے آخری پہر میں جمع (مزدلفہ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جاتی تھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3125]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1293 صحیح مسلم
وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٍ ، يَحْيَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ، أَوَ قَالَ: فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ سے (اونٹوں پر لدے) بوجھ۔۔۔ یا کہا: کمزور افراد۔۔۔ کے ساتھ رات ہی روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3126 صحیح مسلم
وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٍ ، يَحْيَى ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادٍ ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّقَلِ، أَوَ قَالَ: فِي الضَّعَفَةِ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید نے ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید سے خبر دی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مزدلفہ سے (اونٹوں پر لدے) بوجھ۔۔۔ یا کہا: کمزور افراد۔۔۔ کے ساتھ رات ہی روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1293 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3127]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3127 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: " أَنَا مِمَّنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں عبیداللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: میں ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں (شامل کرتے ہوئے) پہلے روانہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3127]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة