بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: صفا و مروہ کے درمیان سعی حج کا رکن ہے اس کے بغیر حج نہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 12
حدیث نمبر: 1277 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ، قَالَتْ: لِمَ؟ قُلْتُ: لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَتْ: مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ "، وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا؟ وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَاكَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ؟ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ، يُقَالُ لَهُمَا: إِسَافٌ، وَنَائِلَةُ، ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يَحْلِقُونَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا، لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، إِلَى آخِرِهَا، قَالَتْ: فَطَافُوا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہ کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں (اس کا حج و عمرہ درست ہوگا۔) انہوں نے پوچھا: وہ کیوں؟ میں نے عرض کی: کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بے شک صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، آخر تک، (پھر کوئی حج کرے یا عمرہ تو اس کو گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے شوق سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان ہے سب جانتا ہے۔) انہوں نے جواب دیا: وہ شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کا حج اور عمرہ مکمل نہیں فرماتا۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (اللہ کا فرمان) یوں ہوتا: اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس بارے میں (نازل ہوئی) تھی؟ بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لیے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے پر تھے، جنہیں اساف اور نائلہ کہا جاتا تھا، پھر وہ آتے اور صفا مروہ کی سعی کرتے، پھر سر منڈا کر (احرام کھول دیتے)، جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کرتے تھے، اس کی وجہ سے ان دونوں (صفا مروہ) کا طواف کرنا برا جانا، کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف کیا کرتے تھے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ آخر آیت تک۔ فرمایا: تو لوگوں نے (پھر سے ان کا) طواف شروع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3079]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3079 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لَهَا: إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ، قَالَتْ: لِمَ؟ قُلْتُ: لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ، فَقَالَتْ: مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ "، وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا؟ وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَاكَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ؟ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ، يُقَالُ لَهُمَا: إِسَافٌ، وَنَائِلَةُ، ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ يَحْلِقُونَ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا، لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَتْ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، إِلَى آخِرِهَا، قَالَتْ: فَطَافُوا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی، انہوں نے اپنے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی: میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہ کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں (اس کا حج و عمرہ درست ہوگا۔) انہوں نے پوچھا: وہ کیوں؟ میں نے عرض کی: کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بے شک صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، آخر تک، (پھر کوئی حج کرے یا عمرہ تو اس کو گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے شوق سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان ہے سب جانتا ہے۔) انہوں نے جواب دیا: وہ شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرتا، اللہ تعالیٰ اس کا حج اور عمرہ مکمل نہیں فرماتا۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (اللہ کا فرمان) یوں ہوتا: اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ کیا تم جانتے ہو کہ یہ آیت کس بارے میں (نازل ہوئی) تھی؟ بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لیے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے پر تھے، جنہیں اساف اور نائلہ کہا جاتا تھا، پھر وہ آتے اور صفا مروہ کی سعی کرتے، پھر سر منڈا کر (احرام کھول دیتے)، جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کرتے تھے، اس کی وجہ سے ان دونوں (صفا مروہ) کا طواف کرنا برا جانا، کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف کیا کرتے تھے۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ آخر آیت تک۔ فرمایا: تو لوگوں نے (پھر سے ان کا) طواف شروع کر دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3079]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1277 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِي ، لِعَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ: لِمَ؟ قُلْتُ: لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، الْآيَةَ، فَقَالَتْ: " لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) خبر دی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی، میں اس بات میں اپنے اوپر کوئی گناہ نہیں سمجھتا کہ میں (حج و عمرہ کے دوران) صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں۔ انہوں نے فرمایا: کیوں؟ میں نے عرض کی: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (پھر جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔) انہوں نے فرمایا اگر (قرآن کی آیت کا) وہ مفہوم ہوتا جو تم کہتے ہو، تو یہ حصہ اس طرح ہوتا: اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ اصل میں یہ آیت انصار کے بعض لوگوں کے متعلق نازل ہوئی۔ وہ جاہلیت میں جب تلبیہ پکارتے تو مناۃ (بت) کا تلبیہ پکارتے تھے۔ اور (اس وقت کے عقیدے کے مطابق) ان کے لیے صفا مروہ کا طواف حلال نہ تھا، جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج پر آئے۔ تو آپ سے اپنے اسی پرانے عمل کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ مجھے اپنی زندگی (دینے والے) کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج پورا نہیں فرماتا جو صفا مروہ کا طواف نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3080]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3080 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِي ، لِعَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، قَالَتْ: لِمَ؟ قُلْتُ: لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ يَقُولُ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، الْآيَةَ، فَقَالَتْ: " لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا، إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد (حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے) خبر دی، کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی، میں اس بات میں اپنے اوپر کوئی گناہ نہیں سمجھتا کہ میں (حج و عمرہ کے دوران) صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں۔ انہوں نے فرمایا: کیوں؟ میں نے عرض کی: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ (پھر جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔) انہوں نے فرمایا اگر (قرآن کی آیت کا) وہ مفہوم ہوتا جو تم کہتے ہو، تو یہ حصہ اس طرح ہوتا: اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ اصل میں یہ آیت انصار کے بعض لوگوں کے متعلق نازل ہوئی۔ وہ جاہلیت میں جب تلبیہ پکارتے تو مناۃ (بت) کا تلبیہ پکارتے تھے۔ اور (اس وقت کے عقیدے کے مطابق) ان کے لیے صفا مروہ کا طواف حلال نہ تھا، جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ حج پر آئے۔ تو آپ سے اپنے اسی پرانے عمل کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی۔ مجھے اپنی زندگی (دینے والے) کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج پورا نہیں فرماتا جو صفا مروہ کا طواف نہیں کرتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3080]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1277 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا، وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا، قَالَتْ: " بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَكَانَتْ سُنَّةً، وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ، لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ، لَكَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ، يَقُولُونَ: إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے زہری سے سنا، وہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے (حج و عمرہ میں) صفا مروہ کا طواف نہیں کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا۔ اور مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں کہ میں صفا مروہ کا طواف (کروں یا) نہ کروں۔ انہوں نے جواب دیا: بھانجے تم نے جو کہا، وہ کتنا غلط ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ طواف کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی کیا۔ یہی (حج و عمرہ کا) طریقہ قرار پایا۔ اصل میں جو لوگ مناۃ طاغیہ (بت) کے لیے جو کہ مثلل میں تھا، احرام باندھتے تھے وہ صفا مروہ کے مابین طواف نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔ اگر وہ بات ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (آیت کے الفاظ) اس طرح ہوتے: تو اس پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ زہری نے کہا: میں نے اس بات کا ذکر (جو حضرت عروہ سے سنی تھی) ابوبکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام سے کیا، انہیں یہ بات بہت اچھی لگی، انہوں نے فرمایا: بلاشبہ یہی تو علم ہے۔ میں نے بھی کئی اہل علم سے سنا، وہ کہتے تھے: عربوں میں سے جو لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے: ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا تو جاہلیت کے معاملات میں سے تھا، اور انصار میں سے کچھ اور لوگوں نے کہا: ہمیں تو صرف بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے۔ صفا مروہ کے مابین (طواف) کا تو حکم نہیں دیا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ابوبکر بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے لگتا ہے یہ آیت ان دونوں طرح کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3081]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3081 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ: ابْنُ أَبِي عُمَرَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا، وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا، قَالَتْ: " بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي، طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَكَانَتْ سُنَّةً، وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ، لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ، لَكَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا "، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ، وَقَالَ: إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ: إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ، يَقُولُونَ: إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ، وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ، وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ: فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان نے ہمیں حدیث سنائی، کہا: میں نے زہری سے سنا، وہ حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے (حج و عمرہ میں) صفا مروہ کا طواف نہیں کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا۔ اور مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں کہ میں صفا مروہ کا طواف (کروں یا) نہ کروں۔ انہوں نے جواب دیا: بھانجے تم نے جو کہا، وہ کتنا غلط ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ طواف کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی کیا۔ یہی (حج و عمرہ کا) طریقہ قرار پایا۔ اصل میں جو لوگ مناۃ طاغیہ (بت) کے لیے جو کہ مثلل میں تھا، احرام باندھتے تھے وہ صفا مروہ کے مابین طواف نہیں کرتے تھے۔ جب اسلام آیا تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔ اگر وہ بات ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہو تو (آیت کے الفاظ) اس طرح ہوتے: تو اس پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے۔ زہری نے کہا: میں نے اس بات کا ذکر (جو حضرت عروہ سے سنی تھی) ابوبکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام سے کیا، انہیں یہ بات بہت اچھی لگی، انہوں نے فرمایا: بلاشبہ یہی تو علم ہے۔ میں نے بھی کئی اہل علم سے سنا، وہ کہتے تھے: عربوں میں سے جو لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے: ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا تو جاہلیت کے معاملات میں سے تھا، اور انصار میں سے کچھ اور لوگوں نے کہا: ہمیں تو صرف بیت اللہ کے طواف کا حکم دیا گیا ہے۔ صفا مروہ کے مابین (طواف) کا تو حکم نہیں دیا گیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ ابوبکر بن عبدالرحمان نے کہا: مجھے لگتا ہے یہ آیت ان دونوں طرح کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3081]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1277 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، قَالَتْ عَائِشَةُ: " قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اور (آگے) اسی (سفیان کی ابن شہاب سے) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور (اپنی) حدیث میں کہا: جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو صفا مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقرر فرمایا: کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3082]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3082 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158، قَالَتْ عَائِشَةُ: " قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: اور (آگے) اسی (سفیان کی ابن شہاب سے) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور (اپنی) حدیث میں کہا: جب انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا: اے اللہ کے رسول! ہم تو صفا مروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مقرر فرمایا: کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3082]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1277 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ، مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ انصار اور بنو غسان اسلام لانے سے قبل مناۃ کا تلبیہ پکارا کرتے تھے اور اس بات میں سخت حرج محسوس کرتے تھے کہ وہ صفا مروہ کے مابین طواف کریں۔ (درحقیقت) یہ طریقہ ان کے آباء و اجداد میں رائج تھا کہ جو بھی مناۃ کے لیے احرام باندھے وہ صفا مروہ کا طواف نہیں کرے گا۔ ان لوگوں نے جب یہ اسلام لائے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے استفسار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے سب جاننے والا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3083]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3083 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ: " أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ، مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے انہوں نے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ انصار اور بنو غسان اسلام لانے سے قبل مناۃ کا تلبیہ پکارا کرتے تھے اور اس بات میں سخت حرج محسوس کرتے تھے کہ وہ صفا مروہ کے مابین طواف کریں۔ (درحقیقت) یہ طریقہ ان کے آباء و اجداد میں رائج تھا کہ جو بھی مناۃ کے لیے احرام باندھے وہ صفا مروہ کا طواف نہیں کرے گا۔ ان لوگوں نے جب یہ اسلام لائے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے استفسار کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے سب جاننے والا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3083]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1278 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، حَتَّى نَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: انصار صفا مروہ کے درمیان طواف کرنا ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ (یہ آیت) نازل ہوئی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3084]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3084 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: " كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ، حَتَّى نَزَلَتْ: إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہا: انصار صفا مروہ کے درمیان طواف کرنا ناپسند کرتے تھے یہاں تک کہ (یہ آیت) نازل ہوئی: بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3084]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة