بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمروں کی تعداد کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمروں کی تعداد کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1253 صحیح مسلم
هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنْ جِعْرَانَةَ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہذاب بن خالد نے ہمیں حدیث سنائی (کہا) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کل) چار عمرے کیے، اور اپنے حج والے عمرہ کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کیے۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے کا ذوالقعدہ میں (جو عملاً نہ ہو سکا لیکن حکماً ہو گیا) اور دوسرا عمرہ (اس کی ادائیگی کے لیے) اگلے سال ذوالقعدہ میں ادا فرمایا (تیسرا) عمرہ جعرانہ مقام سے (آ کر) کیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت تقسیم فرمائے۔ (یہ بھی) ذوالقعدہ میں کیا اور (چوتھا) عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ادا کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3033]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3033 صحیح مسلم
هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَنَّ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَخْبَرَهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ، كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، إِلَّا الَّتِي مَعَ حَجَّتِهِ عُمْرَةً مِنَ الْحُدَيْبِيَةِ، أَوْ زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مِنْ جِعْرَانَةَ حَيْثُ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ فِي ذِي الْقَعْدَةِ، وَعُمْرَةً مَعَ حَجَّتِهِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہذاب بن خالد نے ہمیں حدیث سنائی (کہا) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کل) چار عمرے کیے، اور اپنے حج والے عمرہ کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کیے۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے کا ذوالقعدہ میں (جو عملاً نہ ہو سکا لیکن حکماً ہو گیا) اور دوسرا عمرہ (اس کی ادائیگی کے لیے) اگلے سال ذوالقعدہ میں ادا فرمایا (تیسرا) عمرہ جعرانہ مقام سے (آ کر) کیا جہاں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت تقسیم فرمائے۔ (یہ بھی) ذوالقعدہ میں کیا اور (چوتھا) عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ادا کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3033]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1253 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: " سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ". ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عبدالصمد نے حدیث سنائی (کہا) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنے حج کیے؟ انہوں نے کہا: حج ایک ہی کیا (البتہ) عمرے چار کیے، پھر آگے ہذاب کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3034]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3034 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، أَنَسًا
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قَالَ: " سَأَلْتُ أَنَسًا كَمْ حَجَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: " حَجَّةً وَاحِدَةً وَاعْتَمَرَ أَرْبَعَ عُمَرٍ ". ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ هَدَّابٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے عبدالصمد نے حدیث سنائی (کہا) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی (کہا:) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کتنے حج کیے؟ انہوں نے کہا: حج ایک ہی کیا (البتہ) عمرے چار کیے، پھر آگے ہذاب کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3034]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1254 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: " سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "، قَالَ: " سَبْعَ عَشْرَةَ "، قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ "، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: " وَبِمَكَّةَ أُخْرَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسحاق سے روایت ہے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مل کر کتنی جنگیں لڑیں؟ کہا: سترہ۔ (ابواسحاق نے) کہا: مجھے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کل) انیس غزوے کیے۔ آپ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع ادا کیا۔ ابواسحاق نے کہا: آپ نے مکہ میں (رہتے ہوئے) اور حج (بھی) کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3035]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3035 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاق ، زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، قَالَ: " سَأَلْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ كَمْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ "، قَالَ: " سَبْعَ عَشْرَةَ "، قَالَ: وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ، وَأَنَّهُ حَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً وَاحِدَةً حَجَّةَ الْوَدَاعِ "، قَالَ أَبُو إِسْحَاق: " وَبِمَكَّةَ أُخْرَى ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسحاق سے روایت ہے کہا: میں نے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مل کر کتنی جنگیں لڑیں؟ کہا: سترہ۔ (ابواسحاق نے) کہا: مجھے حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کل) انیس غزوے کیے۔ آپ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع ادا کیا۔ ابواسحاق نے کہا: آپ نے مکہ میں (رہتے ہوئے) اور حج (بھی) کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3035]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1255 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ عُمَرَ ، لِعَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُخْبِرُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِنَّا لَنَسْمَعُ ضَرْبَهَا بِالسِّوَاكِ تَسْتَنُّ، قَالَ: فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيْ أُمَّتَاهُ أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قُلْتُ: يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَعَمْرِي مَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ وَمَا اعْتَمَرَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَإِنَّهُ لَمَعَهُ "، قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ، فَمَا قَالَ لَا، وَلَا نَعَمْ، سَكَتَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے خبر دی کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ان کی (دانتوں پر) مسواک رگڑنے کی آواز سن رہے تھے۔ عروہ نے کہا: میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت!) کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں بھی عمرہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے (وہیں بیٹھے بیٹھے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکارا۔ میری ماں! کیا آپ ابوعبدالرحمٰن کی بات نہیں سن رہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا (بتاؤ) وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے عرض کی وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں (بھی) عمرہ کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کو معاف فرمائے مجھے اپنی زندگی کی قسم! آپ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا مگر یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔ (عروہ نے) کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو) سن رہے تھے انہوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا، خاموش رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3036]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3036 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، وَابْنُ عُمَرَ ، لِعَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يُخْبِرُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: كُنْتُ أَنَا وَابْنُ عُمَرَ مُسْتَنِدَيْنِ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَإِنَّا لَنَسْمَعُ ضَرْبَهَا بِالسِّوَاكِ تَسْتَنُّ، قَالَ: فَقُلْتُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَيْ أُمَّتَاهُ أَلَا تَسْمَعِينَ مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟، قَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قُلْتُ: يَقُولُ اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ لَعَمْرِي مَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ وَمَا اعْتَمَرَ مِنْ عُمْرَةٍ إِلَّا وَإِنَّهُ لَمَعَهُ "، قَالَ: وَابْنُ عُمَرَ يَسْمَعُ، فَمَا قَالَ لَا، وَلَا نَعَمْ، سَكَتَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عطاء نے خبر دی کہا: مجھے حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہا: میں اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور ان کی (دانتوں پر) مسواک رگڑنے کی آواز سن رہے تھے۔ عروہ نے کہا: میں نے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی کنیت!) کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں بھی عمرہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ میں نے (وہیں بیٹھے بیٹھے) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پکارا۔ میری ماں! کیا آپ ابوعبدالرحمٰن کی بات نہیں سن رہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے کہا (بتاؤ) وہ کیا کہتے ہیں؟ میں نے عرض کی وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں (بھی) عمرہ کیا تھا۔ انہوں نے جواب دیا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن کو معاف فرمائے مجھے اپنی زندگی کی قسم! آپ نے رجب میں کوئی عمرہ نہیں کیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیا مگر یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) بھی آپ کے ساتھ ہوتے تھے۔ (عروہ نے) کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی گفتگو) سن رہے تھے انہوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا، خاموش رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3036]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1255 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: أَلَا تَسْمَعِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قَالَ: يَقُولُ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجاہد سے روایت ہے کہا: میں اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے دیکھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے (کی دیوار) سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے۔ ہم نے ان سے لوگوں کی (اس) نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ بدعت ہے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کل) کتنے عمرے کیے؟ انہوں نے جواب دیا: چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا۔ (ان کی یہ بات سن کر) ہم نے انہیں جھٹلانا اور نہ رد کرنا مناسب نہ سمجھا، (اسی دوران میں) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی۔ عروہ نے کہا: ام المؤمنین! ابوعبدالرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ (عروہ نے) کہا: وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) ان کے ساتھ تھے (یہ بھول گئے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3037]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 3037 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ الْمَسْجِدَ، فَإِذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ جَالِسٌ إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ الضُّحَى فِي الْمَسْجِدِ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ صَلَاتِهِمْ، فَقَالَ: بِدْعَةٌ، فَقَالَ لَهُ عُرْوَةُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ كَمِ اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، فَقَالَ: أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَكَرِهْنَا أَنْ نُكَذِّبَهُ وَنَرُدَّ عَلَيْهِ، وَسَمِعْنَا اسْتِنَانَ عَائِشَةَ فِي الْحُجْرَةِ، فَقَالَ عُرْوَةُ: أَلَا تَسْمَعِينَ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ إِلَى مَا يَقُولُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، فَقَالَتْ: وَمَا يَقُولُ؟، قَالَ: يَقُولُ: اعْتَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ عُمَرٍ إِحْدَاهُنَّ فِي رَجَبٍ، فَقَالَتْ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا وَهُوَ مَعَهُ، وَمَا اعْتَمَرَ فِي رَجَبٍ قَطُّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مجاہد سے روایت ہے کہا: میں اور حضرت عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے دیکھا تو حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرے (کی دیوار) سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے اور لوگ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے۔ ہم نے ان سے لوگوں کی (اس) نماز کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے فرمایا کہ بدعت ہے۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کل) کتنے عمرے کیے؟ انہوں نے جواب دیا: چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا۔ (ان کی یہ بات سن کر) ہم نے انہیں جھٹلانا اور نہ رد کرنا مناسب نہ سمجھا، (اسی دوران میں) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی۔ عروہ نے کہا: ام المؤمنین! ابوعبدالرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انہوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ (عروہ نے) کہا: وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انہوں نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ابوعبدالرحمٰن پر رحم فرمائے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) ان کے ساتھ تھے (یہ بھول گئے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3037]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة