مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، لِابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا حَسَّانَ الْأَعْرَجَ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْهُجَيْمِ لِابْنِ عَبَّاسٍ : مَا هَذَا الْفُتْيَا الَّتِي قَدْ تَشَغَّفَتْ أَوْ تَشَغَّبَتْ بِالنَّاسِ، أَنَّ مَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ فَقَدْ حَلَّ؟، فَقَالَ: " سُنَّةُ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِنْ رَغِمْتُمْ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی، کہا: میں نے ابوحسان اعرج سے سنا، انہوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا یہ کیا فتویٰ ہے۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے (عمرہ کر لے) وہ احرام سے باہر آ جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا: یہی تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت ہے چاہے تمہاری مرضی نہ ہو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 3018]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة