بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: احصار کے وقت احرام کھولنے کا جواز، قران کا جواز اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کا جواز۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: احصار کے وقت احرام کھولنے کا جواز، قران کا جواز اور قارن کے لئے ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی کا جواز۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1230 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا، وَقَالَ: إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ "، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے (حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے ایام میں عمرہ کے لیے نکلے اور کہا: اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا۔ وہ (مدینہ سے) نکلے اور (میقات سے) عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور چل پڑے جب مقام بیداء (کی بلندی) پر نمودار ہوئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے۔ پھر آپ نکل پڑے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے تو اس کے (گرد) سات چکر لگائے۔ اور صفا مروہ کے مابین بھی سات چکر پورے کیے، ان پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ان کی رائے تھی کہ یہی (ایک طواف اور ایک سعی) ان کی طرف سے کافی ہے اور (بعدازاں) انہوں نے (حج قران ہونے کی بنا پر) قربانی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2989]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2989 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، نَافِعٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا خَرَجَ فِي الْفِتْنَةِ مُعْتَمِرًا، وَقَالَ: إِنْ صُدِدْتُ عَنِ الْبَيْتِ صَنَعْنَا كَمَا صَنَعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ فَأَهَلَّ بِعُمْرَةٍ، وَسَارَ حَتَّى إِذَا ظَهَرَ عَلَى الْبَيْدَاءِ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ الْحَجَّ مَعَ الْعُمْرَةِ "، فَخَرَجَ حَتَّى إِذَا جَاءَ الْبَيْتَ طَافَ بِهِ سَبْعًا، وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ سَبْعًا، لَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، وَرَأَى أَنَّهُ مُجْزِئٌ عَنْهُ وَأَهْدَى.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا: میں نے امام مالک کے سامنے (حدیث کی) قراءت کی، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فتنہ کے ایام میں عمرہ کے لیے نکلے اور کہا: اگر مجھے بیت اللہ جانے سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا۔ وہ (مدینہ سے) نکلے اور (میقات سے) عمرہ کا تلبیہ پکارا، اور چل پڑے جب مقام بیداء (کی بلندی) پر نمودار ہوئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: دونوں (حج و عمرہ) کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے۔ میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے۔ پھر آپ نکل پڑے حتیٰ کہ بیت اللہ پہنچے تو اس کے (گرد) سات چکر لگائے۔ اور صفا مروہ کے مابین بھی سات چکر پورے کیے، ان پر کوئی اضافہ نہیں کیا۔ ان کی رائے تھی کہ یہی (ایک طواف اور ایک سعی) ان کی طرف سے کافی ہے اور (بعدازاں) انہوں نے (حج قران ہونے کی بنا پر) قربانی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2989]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1230 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، يُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ: " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ، حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ "، فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا، حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ جس سال حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ میں پڑاؤ کیا تو عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی کہ اگر آپ اس سال حج نہ فرمائیں تو کوئی حرج نہیں ہمیں اندیشہ ہے کہ لوگوں (حجاج بن یوسف اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی فوجوں) کے درمیان جنگ ہو گی اور آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل ہو جائے گی (آپ بیت اللہ تک پہنچ نہیں پائیں گے) انہوں نے فرمایا: اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا (اس موقع پر) میں بھی آپ کے ساتھ (شریک سفر) تھا جب قریش مکہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے۔ (پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نکلے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر فرمایا: اگر میرا راستہ خالی رہا تو میں اپنا عمرہ مکمل کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیدا ہو گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا جب میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ پھر (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) یہ آیت تلاوت فرمائی: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کے عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔ پھر (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) چل پڑے جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا: ان دونوں (حج و عمرہ) کا حکم ایک جیسا ہے۔ اگر میرے اور عمرہ کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل ہو گئی تو (وہی رکاوٹ) میرے اور میرے حج کے درمیان حائل ہو گی۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی لازم ٹھہرا لیا ہے۔ آپ چلتے رہے حتیٰ کہ مقام قدید آپ نے قربانی کے اونٹ خریدے، پھر آپ نے ان دونوں (حج اور عمرہ) کے لیے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا ایک (ہی) طواف کیا، اور ان دونوں کے لیے جو احرام باندھا تھا اسے نہ کھولا یہاں تک کہ قربانی کے دن حج (مکمل) کر کے دونوں کے احرام سے فارغ ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2990]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2990 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَسَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، كَلَّمَا عَبْدَ اللَّهِ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ لِقِتَالِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَا: لَا يَضُرُّكَ أَنْ لَا تَحُجَّ الْعَامَ، فَإِنَّا نَخْشَى أَنْ يَكُونَ بَيْنَ النَّاسِ قِتَالٌ، يُحَالُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، قَالَ: فَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، حِينَ حَالَتْ كُفَّارُ قُرَيْشٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْبَيْتِ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً، فَانْطَلَقَ حَتَّى أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ فَلَبَّى بِالْعُمْرَةِ، ثُمَّ قَالَ: إِنْ خُلِّيَ سَبِيلِي قَضَيْتُ عُمْرَتِي، وَإِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَعَلْتُ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ، ثُمَّ تَلَا لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ سورة الأحزاب آية 21 ثُمَّ سَارَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَهْرِ الْبَيْدَاءِ قَالَ: " مَا أَمْرُهُمَا إِلَّا وَاحِدٌ، إِنْ حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْعُمْرَةِ، حِيلَ بَيْنِي وَبَيْنَ الْحَجِّ، أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجَّةً مَعَ عُمْرَةٍ "، فَانْطَلَقَ حَتَّى ابْتَاعَ بِقُدَيْدٍ هَدْيًا، ثُمَّ طَافَ لَهُمَا طَوَافًا وَاحِدًا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ، ثُمَّ لَمْ يَحِلَّ مِنْهُمَا، حَتَّى حَلَّ مِنْهُمَا بِحَجَّةٍ يَوْمَ النَّحْرِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ سے روایت ہے کہا: مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ جس سال حجاج بن یوسف نے حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کرنے کے لیے مکہ میں پڑاؤ کیا تو عبداللہ بن عبداللہ اور سالم بن عبداللہ نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے گفتگو کی کہ اگر آپ اس سال حج نہ فرمائیں تو کوئی حرج نہیں ہمیں اندیشہ ہے کہ لوگوں (حجاج بن یوسف اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی فوجوں) کے درمیان جنگ ہو گی اور آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل ہو جائے گی (آپ بیت اللہ تک پہنچ نہیں پائیں گے) انہوں نے فرمایا: اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا (اس موقع پر) میں بھی آپ کے ساتھ (شریک سفر) تھا جب قریش مکہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حائل ہو گئے تھے میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرہ کی نیت کر لی ہے۔ (پھر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) نکلے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرہ کا تلبیہ پکارا پھر فرمایا: اگر میرا راستہ خالی رہا تو میں اپنا عمرہ مکمل کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کوئی رکاوٹ پیدا ہو گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا جب میں بھی آپ کے ساتھ تھا۔ پھر (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے) یہ آیت تلاوت فرمائی: «لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ» یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کے عمل) میں بہترین نمونہ ہے۔ پھر (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) چل پڑے جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا: ان دونوں (حج و عمرہ) کا حکم ایک جیسا ہے۔ اگر میرے اور عمرہ کے درمیان کوئی رکاوٹ حائل ہو گئی تو (وہی رکاوٹ) میرے اور میرے حج کے درمیان حائل ہو گی۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی لازم ٹھہرا لیا ہے۔ آپ چلتے رہے حتیٰ کہ مقام قدید آپ نے قربانی کے اونٹ خریدے، پھر آپ نے ان دونوں (حج اور عمرہ) کے لیے بیت اللہ اور صفا و مروہ کا ایک (ہی) طواف کیا، اور ان دونوں کے لیے جو احرام باندھا تھا اسے نہ کھولا یہاں تک کہ قربانی کے دن حج (مکمل) کر کے دونوں کے احرام سے فارغ ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2990]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1230 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں میرے والد (عبداللہ) نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس موقع پر جب حجاج بن یوسف، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں اترا، حج کا ارادہ کیا۔ (ابن نمیر نے پوری) حدیث (یحییٰ قطان کے) اس قصے کی طرح بیان کی۔ البتہ حدیث کے آخر میں کہا کہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) یہ کہا کرتے تھے: جو شخص حج و عمرہ اکٹھا (حج قران کی صورت میں) ادا کرے تو اسے ایک ہی طواف کافی ہے۔ اور وہ اس وقت تک احرام سے فارغ نہیں ہو گا جب تک دونوں سے فارغ نہ ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2991]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2991 صحیح مسلم
ابْنُ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، عُبَيْدُ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنُ عُمَرَ
وحَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ: أَرَادَ ابْنُ عُمَرَ الْحَجَّ حِينَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ هَذِهِ الْقِصَّةِ، وَقَالَ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: وَكَانَ يَقُولُ: " مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ كَفَاهُ طَوَافٌ وَاحِدٌ، وَلَمْ يَحِلَّ حَتَّى يَحِلَّ مِنْهُمَا جَمِيعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی، (کہا:) ہمیں میرے والد (عبداللہ) نے عبید اللہ سے، انہوں نے نافع سے روایت کی، کہا: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس موقع پر جب حجاج بن یوسف، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے مقابلے میں اترا، حج کا ارادہ کیا۔ (ابن نمیر نے پوری) حدیث (یحییٰ قطان کے) اس قصے کی طرح بیان کی۔ البتہ حدیث کے آخر میں کہا کہ (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) یہ کہا کرتے تھے: جو شخص حج و عمرہ اکٹھا (حج قران کی صورت میں) ادا کرے تو اسے ایک ہی طواف کافی ہے۔ اور وہ اس وقت تک احرام سے فارغ نہیں ہو گا جب تک دونوں سے فارغ نہ ہو جائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2991]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1230 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً "، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ اشْهَدُوا، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ، وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن رمح اور قتیبہ نے لیث سے، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ جس سال حجاج بن یوسف، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا قصد فرمایا، ان سے کہا گیا: لوگوں کے مابین تو لڑائی ہونے والی ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو (بیت اللہ سے پہلے ہی) روک دیں گے۔ انہوں نے فرمایا: بلاشبہ تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ میں اس طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے (خود پر) عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر روانہ ہوئے، جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا: (کسی رکاوٹ کے باعث بیت اللہ تک نہ پہنچ سکنے کے لحاظ سے) حج و عمرہ کا معاملہ یکساں ہی ہے۔ (لوگو!) تم گواہ رہو۔ ابن رمح کی روایت ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں۔ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی خود پر واجب کر لیا ہے۔ اور وہ قربانی جو مقام قدید سے خریدی تھی اسے ساتھ لیا۔ اور حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے آگے بڑھے، حتیٰ کہ مکہ پہنچے، وہاں آپ نے بیت اللہ کا اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ اس سے زیادہ (کوئی اور طواف) نہیں کیا، نہ قربانی کی نہ بال منڈوائے، نہ کتروائے اور نہ کسی ایسی ہی چیز کو اپنے لیے حلال قرار دیا جو (احرام کی وجہ سے آپ پر) حرام تھی۔ یہاں تک کہ جب نحر کا دن (دس ذوالحجہ) آیا تو آپ نے قربانی کی اور سر منڈایا۔ ان (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی رائے یہی تھی کہ انہوں نے اپنے طواف کے ذریعے سے حج و عمرہ (دونوں) کا طواف مکمل کر لیا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا (ایک طواف کے ساتھ سعی کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2992]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2992 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، قُتَيْبَةُ ، لَيْثٌ ، نَافِعٍ ، ابْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَرَادَ الْحَجَّ عَامَ نَزَلَ الْحَجَّاجُ بِابْنِ الزُّبَيْرِ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ كَائِنٌ بَيْنَهُمْ قِتَالٌ، وَإِنَّا نَخَافُ أَنْ يَصُدُّوكَ، فَقَالَ: " لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ، أَصْنَعُ كَمَا صَنَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ عُمْرَةً "، ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِظَاهِرِ الْبَيْدَاءِ، قَالَ: مَا شَأْنُ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ إِلَّا وَاحِدٌ اشْهَدُوا، قَالَ ابْنُ رُمْحٍ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي قَدْ أَوْجَبْتُ حَجًّا مَعَ عُمْرَتِي وَأَهْدَى هَدْيًا اشْتَرَاهُ بِقُدَيْدٍ، ثُمَّ انْطَلَقَ يُهِلُّ بِهِمَا جَمِيعًا حَتَّى قَدِمَ مَكَّةَ، فَطَافَ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلَمْ يَزِدْ عَلَى ذَلِكَ، وَلَمْ يَنْحَرْ وَلَمْ يَحْلِقْ وَلَمْ يُقَصِّرْ وَلَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ، حَتَّى كَانَ يَوْمُ النَّحْرِ فَنَحَرَ وَحَلَقَ، وَرَأَى أَنْ قَدْ قَضَى طَوَافَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ بِطَوَافِهِ الْأَوَّلِ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَلِكَ فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن رمح اور قتیبہ نے لیث سے، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ جس سال حجاج بن یوسف، حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے لڑائی کی، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حج کا قصد فرمایا، ان سے کہا گیا: لوگوں کے مابین تو لڑائی ہونے والی ہے، ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو (بیت اللہ سے پہلے ہی) روک دیں گے۔ انہوں نے فرمایا: بلاشبہ تمہارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے۔ میں اس طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا۔ میں تمہیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے (خود پر) عمرہ واجب کر لیا ہے۔ پھر روانہ ہوئے، جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا: (کسی رکاوٹ کے باعث بیت اللہ تک نہ پہنچ سکنے کے لحاظ سے) حج و عمرہ کا معاملہ یکساں ہی ہے۔ (لوگو!) تم گواہ رہو۔ ابن رمح کی روایت ہے: میں تمہیں گواہ بناتا ہوں۔ میں نے اپنے عمرہ کے ساتھ حج بھی خود پر واجب کر لیا ہے۔ اور وہ قربانی جو مقام قدید سے خریدی تھی اسے ساتھ لیا۔ اور حج اور عمرہ دونوں کا تلبیہ پکارتے ہوئے آگے بڑھے، حتیٰ کہ مکہ پہنچے، وہاں آپ نے بیت اللہ کا اور صفا مروہ کا طواف کیا۔ اس سے زیادہ (کوئی اور طواف) نہیں کیا، نہ قربانی کی نہ بال منڈوائے، نہ کتروائے اور نہ کسی ایسی ہی چیز کو اپنے لیے حلال قرار دیا جو (احرام کی وجہ سے آپ پر) حرام تھی۔ یہاں تک کہ جب نحر کا دن (دس ذوالحجہ) آیا تو آپ نے قربانی کی اور سر منڈایا۔ ان (حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کی رائے یہی تھی کہ انہوں نے اپنے طواف کے ذریعے سے حج و عمرہ (دونوں) کا طواف مکمل کر لیا ہے۔ اور حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا (ایک طواف کے ساتھ سعی کی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2992]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1230 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، قَالَ: إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر صرف حدیث کی ابتداء میں کیا کہ جب ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کو بیت اللہ (تک پہنچنے) سے روک دیں گے، انہوں نے کہا: میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا۔ اور حدیث کے آخر میں یہ نہیں کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ لیث نے کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2993]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2993 صحیح مسلم
أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، إِسْمَاعِيل ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَأَبُو كَامِلٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيل كِلَاهُمَا، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَلَمْ يَذْكُرِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِلَّا فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ حِينَ قِيلَ لَهُ يَصُدُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ، قَالَ: إِذًا أَفْعَلَ كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي آخِرِ الْحَدِيثِ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا ذَكَرَهُ اللَّيْثُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب نے نافع سے، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی قصہ روایت کیا ہے، البتہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر صرف حدیث کی ابتداء میں کیا کہ جب ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کو بیت اللہ (تک پہنچنے) سے روک دیں گے، انہوں نے کہا: میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کیا تھا۔ اور حدیث کے آخر میں یہ نہیں کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ لیث نے کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2993]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة