بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: اس بارے میں کہ عرفات سارا ہی ٹھہر نے کی جگہ ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: اس بارے میں کہ عرفات سارا ہی ٹھہر نے کی جگہ ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 1218 صحیح مسلم
عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، جَعْفَرٍ ، أَبِي ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جعفر بن محمد نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں قربانی کی ہے۔ (لیکن) پورا منیٰ قربان گاہ ہے، اس لیے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو، میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے۔ (لیکن) پورا عرفہ مقام وقوف ہے اور میں نے (مزدلفہ میں) یہاں وقوف کیا ہے۔ (ٹھہرا ہوں۔) اور پورا مزدلفہ موقف ہے۔ (اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جا سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2952]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2952 صحیح مسلم
عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، أَبِي ، جَعْفَرٍ ، أَبِي ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَابِرٍ فِي حَدِيثِهِ ذَلِكَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " نَحَرْتُ هَاهُنَا وَمِنًى كُلُّهَا مَنْحَرٌ، فَانْحَرُوا فِي رِحَالِكُمْ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَعَرَفَةُ كُلُّهَا مَوْقِفٌ، وَوَقَفْتُ هَاهُنَا وَجَمْعٌ كُلُّهَا مَوْقِفٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جعفر بن محمد نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی، (کہا:) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ عنہما سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے یہاں قربانی کی ہے۔ (لیکن) پورا منیٰ قربان گاہ ہے، اس لیے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو، میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے۔ (لیکن) پورا عرفہ مقام وقوف ہے اور میں نے (مزدلفہ میں) یہاں وقوف کیا ہے۔ (ٹھہرا ہوں۔) اور پورا مزدلفہ موقف ہے۔ (اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جا سکتا ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2952]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1218 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سابقہ سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے، اسے بوسہ دیا، پھر (طواف کے لیے) اپنی دائیں جانب روانہ ہوئے۔ (تین چکروں میں) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے اور (باقی) چار میں عام رفتار سے چلے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2953]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2953 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ أَتَى الْحَجَرَ فَاسْتَلَمَهُ، ثُمَّ مَشَى عَلَى يَمِينِهِ فَرَمَلَ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری نے جعفر بن محمد سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے سابقہ سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے، اسے بوسہ دیا، پھر (طواف کے لیے) اپنی دائیں جانب روانہ ہوئے۔ (تین چکروں میں) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے اور (باقی) چار میں عام رفتار سے چلے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2953]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة