بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ایسے وقت احرام باندھنے کی فضیلت جب سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہو جائے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حج کے احکام و مسائل باب: ایسے وقت احرام باندھنے کی فضیلت جب سواری مکہ مکرمہ کی طرف متوجہ ہو کر کھڑی ہو جائے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1187 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا "، قَالَ: " مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ "، قَالَ: " رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ "، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ، حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابی سعید مقبری نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمان! میں نے آپ کو چار (ایسے) کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کے کسی اور ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر نے کہا: ابن جریج! وہ کون سے (چار کام) ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ (بیت اللہ کے) دو یمانی رکنوں (کونوں) کے سوا اور کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگاتے، میں نے آپ کو دیکھا ہے سبتی (رنگے ہوئے صاف چمڑے کے) جوتے پہنتے ہیں۔ (نیز آپ کو دیکھا کہ زرد رنگ سے (کپڑوں کو) رنگتے ہیں اور آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہوتے ہیں تو لوگ (ذوالحجہ کی) پہلی کا چاند دیکھتے ہی لبیک پکارنا شروع کر دیتے ہیں لیکن آپ آٹھویں دن آنے تک تلبیہ نہیں پکارتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جہاں تک ارکان (بیت اللہ کے کونوں) کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو یمانی رکنوں کے سوا (کسی اور رکن کو) ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا۔ رہے سبتی جوتے تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے دیکھا کہ جن پر بال نہ ہوتے تھے، آپ انھیں پہن کر وضو فرماتے (لہٰذا) مجھے پسند ہے کہ میں یہی (سبتی جوتے) پہنوں۔ رہا زرد رنگ تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ یہ (رنگ) استعمال کرتے تھے۔ اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میں بھی اس رنگ کو استعمال کروں۔ اور رہی بات تلبیہ کی تو میں نے آپ کو تلبیہ کہتے نہیں سنا جب تک آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی نہ ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2818]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2818 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: " يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُكَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِكَ يَصْنَعُهَا "، قَالَ: " مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ؟ "، قَالَ: " رَأَيْتُكَ لَا تَمَسُّ مِنَ الْأَرْكَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَرَأَيْتُكَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ، وَرَأَيْتُكَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ، وَرَأَيْتُكَ إِذَا كُنْتَ بِمَكَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ، وَلَمْ تُهْلِلْ أَنْتَ حَتَّى يَكُونَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ "، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ : " أَمَّا الْأَرْكَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَيْنِ، وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعَرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا، وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا، وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ، حَتَّى تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابی سعید مقبری نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: اے ابوعبدالرحمان! میں نے آپ کو چار (ایسے) کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کے کسی اور ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا۔ ابن عمر نے کہا: ابن جریج! وہ کون سے (چار کام) ہیں؟ ابن جریج نے کہا: میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ (بیت اللہ کے) دو یمانی رکنوں (کونوں) کے سوا اور کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگاتے، میں نے آپ کو دیکھا ہے سبتی (رنگے ہوئے صاف چمڑے کے) جوتے پہنتے ہیں۔ (نیز آپ کو دیکھا کہ زرد رنگ سے (کپڑوں کو) رنگتے ہیں اور آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہوتے ہیں تو لوگ (ذوالحجہ کی) پہلی کا چاند دیکھتے ہی لبیک پکارنا شروع کر دیتے ہیں لیکن آپ آٹھویں دن آنے تک تلبیہ نہیں پکارتے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: جہاں تک ارکان (بیت اللہ کے کونوں) کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو یمانی رکنوں کے سوا (کسی اور رکن کو) ہاتھ لگاتے نہیں دیکھا۔ رہے سبتی جوتے تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایسے جوتے پہنے دیکھا کہ جن پر بال نہ ہوتے تھے، آپ انھیں پہن کر وضو فرماتے (لہٰذا) مجھے پسند ہے کہ میں یہی (سبتی جوتے) پہنوں۔ رہا زرد رنگ تو بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا آپ یہ (رنگ) استعمال کرتے تھے۔ اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میں بھی اس رنگ کو استعمال کروں۔ اور رہی بات تلبیہ کی تو میں نے آپ کو تلبیہ کہتے نہیں سنا جب تک آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی نہ ہو جاتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2818]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1187 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، ابْنِ قُسَيْطٍ ، عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى، إِلَّا فِي قِصَّةِ الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن قسیط نے عبید بن جریج سے روایت کی کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بارہ دفعہ حج اور عمرے کیے۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمان! میں نے آپ میں چار چیزیں دیکھی ہیں اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی مگر (تلبیہ بلند کرنے کے) قصے میں مقبری کی روایت کی مخالفت کی، ان الفاظ کے بغیر روایت بالمعنی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2819]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2819 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، أَبُو صَخْرٍ ، ابْنِ قُسَيْطٍ ، عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: حَجَجْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ مَرَّةً، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكَ أَرْبَعَ خِصَالٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَى، إِلَّا فِي قِصَّةِ الْإِهْلَالِ فَإِنَّهُ خَالَفَ رِوَايَةَ الْمَقْبُرِيِّ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنًى سِوَى ذِكْرِهِ إِيَّاهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن قسیط نے عبید بن جریج سے روایت کی کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بارہ دفعہ حج اور عمرے کیے۔ میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمان! میں نے آپ میں چار چیزیں دیکھی ہیں اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی مگر (تلبیہ بلند کرنے کے) قصے میں مقبری کی روایت کی مخالفت کی، ان الفاظ کے بغیر روایت بالمعنی کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2819]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1187 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً، أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکاب میں پاؤں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو جاتی تو آپ ذو الحلیفہ سے (اس وقت) بلند آواز میں لبیک پکارنا شروع فرماتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2820]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2820 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ رِجْلَهُ فِي الْغَرْزِ، وَانْبَعَثَتْ بِهِ رَاحِلَتُهُ قَائِمَةً، أَهَلَّ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبید اللہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب رکاب میں پاؤں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو جاتی تو آپ ذو الحلیفہ سے (اس وقت) بلند آواز میں لبیک پکارنا شروع فرماتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2820]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1187 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح بن کیسان نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ بتایا کرتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2821]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2821 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّهُ كَانَ يُخْبِرُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَهَلَّ حِينَ اسْتَوَتْ بِهِ نَاقَتُهُ قَائِمَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح بن کیسان نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، وہ بتایا کرتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2821]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1187 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آل ذو الحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ پھر سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ تلبیہ پکارنے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2822]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2822 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، ثُمَّ يُهِلُّ حِينَ تَسْتَوِي بِهِ قَائِمَةً ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ آل ذو الحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہوئے۔ پھر سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ تلبیہ پکارنے لگے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَجِّ/حدیث: 2822]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة