بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کا بیان، اور بہتر یہ ہے کہ جو باب: روزہ کی طاقت رکھتا ہے وہ روزہ رکھے، اور جس کے لیے مشقت ہو تو وہ نہ رکھے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم روزوں کے احکام و مسائل باب: رمضان المبارک کے مہینے میں مسافر کے لئے جبکہ اس کا سفر دو منزل یا اس سے زیادہ ہو تو روزہ رکھنے اور نہ رکھنے کے جواز کا بیان، اور بہتر یہ ہے کہ جو باب: روزہ کی طاقت رکھتا ہے وہ روزہ رکھے، اور جس کے لیے مشقت ہو تو وہ نہ رکھے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1113 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ "، قَالَ: وَكَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے تو آپ نے روزہ رکھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر نئے سے نئے حکم کی پیروی کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2604]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2604 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ الْكَدِيدَ، ثُمَّ أَفْطَرَ "، قَالَ: وَكَانَ صَحَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں نکلے تو آپ نے روزہ رکھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ افطار کر لیا۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہر نئے سے نئے حکم کی پیروی کیا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2604]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1113 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُفْيَانَ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ يَعْنِي، وَكَانَ يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سفیان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری قول کو لیا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2605]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2605 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، سُفْيَانَ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، قَالَ يَحْيَى: قَالَ سُفْيَانُ: لَا أَدْرِي مِنْ قَوْلِ مَنْ هُوَ يَعْنِي، وَكَانَ يُؤْخَذُ بِالْآخِرِ مِنْ قَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عمر، اسحاق بن ابراہیم، سفیان، حضرت زہری سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث نقل کی گئی ہے سفیان نے کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ یہ کس کا قول ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری قول کو لیا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2605]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1113 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ الْفِطْرُ آخر الأمرين وإنما يؤخذ من أمر رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: " فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری عمل کو ہی اپنایا جاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2606]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2606 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ وَكَانَ الْفِطْرُ آخر الأمرين وإنما يؤخذ من أمر رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْآخِرِ فَالْآخِرِ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: " فَصَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ لِثَلَاثَ عَشْرَةَ لَيْلَةً خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، حضرت زہری رضی اللہ عنہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور زہری نے کہا کہ روزہ افطار کرنا آخری عمل تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری عمل کو ہی اپنایا جاتا ہے زہری نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان کی تیرہ تاریخ کو مکہ مکرمہ پہنچے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2606]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1113 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ، وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سے لیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2607]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2607 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ
وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَكَانُوا يَتَّبِعُونَ الْأَحْدَثَ فَالْأَحْدَثَ مِنْ أَمْرِهِ، وَيَرَوْنَهُ النَّاسِخَ الْمُحْكَمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حرملہ بن یحییٰ، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، لیث اس سند کے ساتھ ابن شہاب سے لیث کی حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے ابن شہاب نے فرمایا کہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری عمل کی پیروی کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری عمل کو ناسخ قرار دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2607]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1113 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان میں ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں کوئی پینے کی چیز تھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دن کے وقت میں پیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر کے دوران روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا تو جو چاہے سفر میں روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2608]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2608 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٌ ، مَنْصُورٍ ، مُجَاهِدٍ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " سَافَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ عُسْفَانَ، ثُمَّ دَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ فَشَرِبَهُ نَهَارًا لِيَرَاهُ النَّاسُ، ثُمَّ أَفْطَرَ حَتَّى دَخَلَ مَكَّةَ، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَفْطَرَ، فَمَنْ شَاءَ صَامَ، وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، مجاہد، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رمضان میں ایک سفر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عسفان کے مقام پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک برتن منگوایا جس میں کوئی پینے کی چیز تھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دن کے وقت میں پیا تاکہ لوگ اسے دیکھ لیں پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ نہیں رکھا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں داخل ہو گئے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر کے دوران روزہ رکھا بھی اور نہیں بھی رکھا تو جو چاہے سفر میں روزہ رکھ لے اور جو چاہے روزہ نہ رکھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2608]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1113 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ، قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوکریب، وکیع، سفیان، عبدالکریم، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم برا بھلا نہیں کہتے تھے کہ جو روزہ رکھے اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں جو آدمی سفر میں روزہ نہ رکھے تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی اور روزہ افطار بھی کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2609]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2609 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ ، طَاوُسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " لَا تَعِبْ عَلَى مَنْ صَامَ وَلَا عَلَى مَنْ أَفْطَرَ، قَدْ صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوکریب، وکیع، سفیان، عبدالکریم، طاؤس، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم برا بھلا نہیں کہتے تھے کہ جو روزہ رکھے اور نہ ہی برا بھلا کہتے ہیں جو آدمی سفر میں روزہ نہ رکھے تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر میں روزہ رکھا بھی اور روزہ افطار بھی کیا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2609]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1114 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، جَعْفَرٌ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ، فَقَالَ: " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مثنیٰ، عبدالوہاب، ابن عبدالمجید، جعفر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا پھر اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا پھر آپ نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ نافرمان ہیں یہ لوگ نافرمان ہیں۔ (فائدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر کے دوران میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اس موقع پر روزے لوگوں کے لیے تکلیف اور مشقت کا باعث بن رہے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی شدید مشقت کی بنا پر اس انداز میں افطار کیا کہ سب دیکھ لیں اور افطار کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس عمل کے باوجود نہ افطار کرنے والے سخت زجر و توبیخ کے مستحق تھے) [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2610]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2610 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، جَعْفَرٌ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَامَ الْفَتْحِ إِلَى مَكَّةَ فِي رَمَضَانَ، فَصَامَ حَتَّى بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِيمِ فَصَامَ النَّاسُ، ثُمَّ دَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ فَرَفَعَهُ حَتَّى نَظَرَ النَّاسُ إِلَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَقِيلَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ: إِنَّ بَعْضَ النَّاسِ قَدْ صَامَ، فَقَالَ: " أُولَئِكَ الْعُصَاةُ أُولَئِكَ الْعُصَاةُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن مثنیٰ، عبدالوہاب، ابن عبدالمجید، جعفر، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ والے سال رمضان میں مکہ کی طرف نکلے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا جب آپ کراع الغمیم پہنچے تو لوگوں نے بھی روزہ رکھا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پانی کا ایک پیالہ منگوایا پھر اسے بلند کیا یہاں تک کہ لوگوں نے اسے دیکھ لیا پھر آپ نے وہ پی لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ کچھ لوگوں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ نافرمان ہیں یہ لوگ نافرمان ہیں۔ (فائدہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفر کے دوران میں روزہ رکھنے یا نہ رکھنے کی اجازت دے رکھی تھی لیکن اس موقع پر روزے لوگوں کے لیے تکلیف اور مشقت کا باعث بن رہے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی شدید مشقت کی بنا پر اس انداز میں افطار کیا کہ سب دیکھ لیں اور افطار کر لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس عمل کے باوجود نہ افطار کرنے والے سخت زجر و توبیخ کے مستحق تھے) [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2610]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1114 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، جَعْفَرٍ
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ جَعْفَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ، " فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، حضرت جعفر سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ آپ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو رہا ہے اور وہ اس بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2611]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2611 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، جَعْفَرٍ
وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ ، عَنْ جَعْفَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ شَقَّ عَلَيْهِمُ الصِّيَامُ وَإِنَّمَا يَنْظُرُونَ فِيمَا فَعَلْتَ، " فَدَعَا بِقَدَحٍ مِنْ مَاءٍ بَعْدَ الْعَصْرِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز، حضرت جعفر سے اس سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں یہ زائد ہے کہ آپ سے عرض کیا گیا کہ لوگوں پر روزہ دشوار ہو رہا ہے اور وہ اس بارے میں انتظار کر رہے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا کرتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عصر کے بعد پانی کا ایک پیالہ منگوایا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2611]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1115 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلًا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا لَهُ؟ "، قَالُوا: رَجُلٌ صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنیٰ، ابن بشار، محمد بن جعفر، غندر، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، ابن سعد، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ ایک آدمی ہے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2612]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2612 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَرَأَى رَجُلًا قَدِ اجْتَمَعَ النَّاسُ عَلَيْهِ، وَقَدْ ظُلِّلَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: " مَا لَهُ؟ "، قَالُوا: رَجُلٌ صَائِمٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَيْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُومُوا فِي السَّفَرِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنیٰ، ابن بشار، محمد بن جعفر، غندر، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، ابن سعد، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک سفر میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا کہ لوگ اس کے ارد گرد جمع ہیں اور اس پر سایہ کیا گیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس آدمی کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: یہ ایک آدمی ہے جس نے روزہ رکھا ہوا ہے تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ نیکی نہیں کہ تم سفر میں روزہ رکھو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2612]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1115 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2613]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2613 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ ، جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْحَسَنِ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا بِمِثْلِهِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، محمد بن عبدالرحمن، محمد بن عمرو بن حسن، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا باقی حدیث اسی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصِّيَامِ/حدیث: 2613]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة