بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: قوی الایمان لوگوں کو صبر کی تلقین۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 20
حدیث نمبر: 1059 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْأنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَحُدِّثَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ " فَقَالَ لَهُ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا، وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ "، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ "، قَالُوا: سَنَصْبِرُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حنین کے دن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطور فے (قبیلہ) ہوازن کے وہ اموال عطا کیے جو عطا کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو سو سو اونٹ دینے شروع کیے تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاف فرمائے! آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواریں (ابھی تک) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کی باتوں میں سے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتائی گئیں تو آپ نے انصار کو بلوا بھیجا اور انہیں چمڑے کے ایک (بڑے) سائبان (کے سائے) میں جمع کیا، جب وہ سب اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ کیا بات ہے جو مجھے تم لوگوں کی طرف سے پہنچی ہے؟ انصار کے سمجھدار لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے اہل رائے تو کچھ نہیں کہتے، البتہ ہم میں سے ان لوگوں نے، جو نو عمر ہیں، یہ بات کہی ہے کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاف فرمائے، وہ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواریں (ابھی تک) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو دے رہا ہوں جو کچھ عرصہ قبل تک کفر پر تھے، ایسے لوگوں کی تالیف قلب کرنا چاہتا ہوں، کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر گھروں کی طرف لوٹو؟ اللہ کی قسم! جو کچھ تم لے کر واپس جا رہے ہو وہ اس سے بہت بہتر ہے جسے وہ لوگ لے کر لوٹ رہے ہیں۔ تو (انصار) کہنے لگے: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم (بالکل) راضی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم (اپنی نسبت دوسروں کو) بہت زیادہ ترجیح ملتی دیکھو گے تو تم (اس پر) صبر کرنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آملو۔ میں حوض پر ہوں گا (وہیں ملاقات ہو گی۔) انصار نے کہا: ہم (ہر صورت میں) صبر کریں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2436]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2436 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، يُونسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّ أُنَاسًا مِنْ الْأنْصَارِ قَالُوا يَوْمَ حُنَيْنٍ حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ، فَطَفِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَتْرُكُنَا، وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، قَالَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ: فَحُدِّثَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِهِمْ، فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ " فَقَالَ لَهُ فُقَهَاءُ الْأَنْصَارِ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا، وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِهِ يُعْطِي قُرَيْشًا، وَيَتْرُكُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ، أَفَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ، وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ، فَوَاللَّهِ لَمَا تَنْقَلِبُونَ بِهِ خَيْرٌ مِمَّا يَنْقَلِبُونَ بِهِ "، فَقَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ رَضِينَا، قَالَ: " فَإِنَّكُمْ سَتَجِدُونَ أَثَرَةً شَدِيدَةً، فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْا اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَإِنِّي عَلَى الْحَوْضِ "، قَالُوا: سَنَصْبِرُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب (زہری) سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ حنین کے دن جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بطور فے (قبیلہ) ہوازن کے وہ اموال عطا کیے جو عطا کیے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قریش کے لوگوں کو سو سو اونٹ دینے شروع کیے تو انصار میں سے کچھ لوگوں نے کہا: اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاف فرمائے! آپ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں چھوڑ رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواریں (ابھی تک) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کی باتوں میں سے یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتائی گئیں تو آپ نے انصار کو بلوا بھیجا اور انہیں چمڑے کے ایک (بڑے) سائبان (کے سائے) میں جمع کیا، جب وہ سب اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا: یہ کیا بات ہے جو مجھے تم لوگوں کی طرف سے پہنچی ہے؟ انصار کے سمجھدار لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہمارے اہل رائے تو کچھ نہیں کہتے، البتہ ہم میں سے ان لوگوں نے، جو نو عمر ہیں، یہ بات کہی ہے کہ اللہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاف فرمائے، وہ قریش کو دے رہے ہیں اور ہمیں نظر انداز کر رہے ہیں، حالانکہ ہماری تلواریں (ابھی تک) ان کے خون کے قطرے ٹپکا رہی ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں ان کو دے رہا ہوں جو کچھ عرصہ قبل تک کفر پر تھے، ایسے لوگوں کی تالیف قلب کرنا چاہتا ہوں، کیا تم اس پر راضی نہیں ہو کہ لوگ مال و دولت لے جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر گھروں کی طرف لوٹو؟ اللہ کی قسم! جو کچھ تم لے کر واپس جا رہے ہو وہ اس سے بہت بہتر ہے جسے وہ لوگ لے کر لوٹ رہے ہیں۔ تو (انصار) کہنے لگے: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم (بالکل) راضی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بے شک تم (اپنی نسبت دوسروں کو) بہت زیادہ ترجیح ملتی دیکھو گے تو تم (اس پر) صبر کرنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آملو۔ میں حوض پر ہوں گا (وہیں ملاقات ہو گی۔) انصار نے کہا: ہم (ہر صورت میں) صبر کریں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2436]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1059 صحیح مسلم
حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ "، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ، وَقَالَ: " فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب (زہری) سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (قبیلہ) ہوازن کے اموال میں سے بطور فے عطا فرمایا جو عطا فرمایا۔۔۔ اور اس (پچھلی حدیث کے) مانند حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں (صالح) نے کہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے صبر نہ کیا۔ اور انہوں نے (اور ہم میں سے ان لوگوں نے جو نو عمر ہیں، کے بجائے) نو عمر لوگوں نے کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2437]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2437 صحیح مسلم
حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: لَمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا أَفَاءَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ "، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: فَلَمْ نَصْبِرْ، وَقَالَ: " فَأَمَّا أُنَاسٌ حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
صالح نے ابن شہاب (زہری) سے روایت کی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے کہا: جب اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو (قبیلہ) ہوازن کے اموال میں سے بطور فے عطا فرمایا جو عطا فرمایا۔۔۔ اور اس (پچھلی حدیث کے) مانند حدیث بیان کی، اس کے سوا کہ انہوں (صالح) نے کہا، حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نے صبر نہ کیا۔ اور انہوں نے (اور ہم میں سے ان لوگوں نے جو نو عمر ہیں، کے بجائے) نو عمر لوگوں نے کہا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2437]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1059 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بمثله، إلا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَالُوا: نَصْبِرُ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) نے اپنے چچا سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور اسی طرح حدیث بیان کی، سوائے اس بات کے کہ انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں (انصار) نے کہا: ہم صبر کریں گے۔ جس طرح یونس نے زہری سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2438]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2438 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بمثله، إلا أَنَّهُ قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: قَالُوا: نَصْبِرُ، كَرِوَايَةِ يُونُسَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن شہاب کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ) نے اپنے چچا سے خبر دی، کہا: مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور اسی طرح حدیث بیان کی، سوائے اس بات کے کہ انہوں نے کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان لوگوں (انصار) نے کہا: ہم صبر کریں گے۔ جس طرح یونس نے زہری سے روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2438]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1059 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟، فَقَالُوا: لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایا اور پوچھا: کیا تم میں تمہارے سوا کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، ہمارے بھانجے کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قوم کا بھانجا ان میں سے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قریش تھوڑے دن قبل جاہلیت اور (گمراہی) کی مصیبت میں تھے اور میں نے چاہا کہ ان کو (اسلام پر) پکا کروں اور ان کی دلجوئی کروں، کیا تم اس پر خوش نہیں ہو گے کہ لوگ دنیا واپس لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2439]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2439 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، قَتَادَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ، فَقَالَ: " أَفِيكُمْ أَحَدٌ مِنْ غَيْرِكُمْ؟، فَقَالُوا: لَا إِلَّا ابْنُ أُخْتٍ لَنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ ابْنَ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ، فَقَالَ: إِنَّ قُرَيْشًا حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ وَمُصِيبَةٍ، وَإِنِّي أَرَدْتُ أَنْ أَجْبُرَهُمْ وَأَتَأَلَّفَهُمْ، أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتادہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انصار کو جمع فرمایا اور پوچھا: کیا تم میں تمہارے سوا کوئی اور بھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: نہیں، ہمارے بھانجے کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قوم کا بھانجا ان میں سے ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: قریش تھوڑے دن قبل جاہلیت اور (گمراہی) کی مصیبت میں تھے اور میں نے چاہا کہ ان کو (اسلام پر) پکا کروں اور ان کی دلجوئی کروں، کیا تم اس پر خوش نہیں ہو گے کہ لوگ دنیا واپس لے کر جائیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟ اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک اور گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2439]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1059 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ، قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ: " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ "، قَالُوا: هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، قَالَ: " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَى بُيُوتِهِمْ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوتیاح سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: جب مکہ فتح ہو گیا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنین کی) غنیمتیں قریش میں تقسیم کیں تو انصار نے کہا: یہ بڑے تعجب کی بات ہے، ہماری تلواروں سے ان لوگوں کے خون ٹپک رہے ہیں اور ہمارے اموال غنیمت انہی کو دیے جا رہے ہیں! یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو جمع کیا اور فرمایا: وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ انہوں نے کہا: بات وہی ہے جو آپ تک پہنچ چکی ہے وہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم (اس پر) خوش نہ ہو گے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔ (انصار سے بھی یہی توقع ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2440]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2440 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي التَّيَّاحِ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ، قَسَمَ الْغَنَائِمَ فِي قُرَيْشٍ، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِنَّ هَذَا لَهُوَ الْعَجَبُ إِنَّ سُيُوفَنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ، وَإِنَّ غَنَائِمَنَا تُرَدُّ عَلَيْهِمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ، فَقَالَ: " مَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ "، قَالُوا: هُوَ الَّذِي بَلَغَكَ، وَكَانُوا لَا يَكْذِبُونَ، قَالَ: " أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَرْجِعَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا إِلَى بُيُوتِهِمْ، وَتَرْجِعُونَ بِرَسُولِ اللَّهِ إِلَى بُيُوتِكُمْ، لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا، لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ، أَوْ شِعْبَ الْأَنْصَارِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوتیاح سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے کہا: جب مکہ فتح ہو گیا اور (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنین کی) غنیمتیں قریش میں تقسیم کیں تو انصار نے کہا: یہ بڑے تعجب کی بات ہے، ہماری تلواروں سے ان لوگوں کے خون ٹپک رہے ہیں اور ہمارے اموال غنیمت انہی کو دیے جا رہے ہیں! یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو جمع کیا اور فرمایا: وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ انہوں نے کہا: بات وہی ہے جو آپ تک پہنچ چکی ہے وہ لوگ جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم (اس پر) خوش نہ ہو گے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر اپنے گھروں کو لوٹو؟ اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی یا انصار کی گھاٹی میں چلوں گا۔ (انصار سے بھی یہی توقع ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2440]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1059 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، يزيد أحدهما على الآخر الحرف بعد الحرف، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ، قَالَ: فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، قَالَ: فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، قَالَ: وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ، فَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِذَا كَانَتِ الشِّدَّةُ فَنَحْنُ نُدْعَى وَتُعْطَى الْغَنَائِمُ غَيْرَنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَسَكَتُوا، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ "، قَالَ هِشَامٌ: فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ؟، قَالَ: وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن زید بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حنین کی جنگ ہوئی تو حوازن اور غطفان اور دوسرے لوگ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس روز دس ہزار (اپنے ساتھی) تھے اور وہ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے جنہیں (فتح مکہ کے موقع پر غلام بنانے کی بجائے) آزاد کیا گیا تھا۔ یہ آپ کو چھوڑ کر پیچھے بھاگ گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکیلے رہ گئے، کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دن (مہاجرین کے بعد انصار کو) دو دفعہ پکارا، ان دونوں کو آپس میں زرہ برابر گڈ مڈ نہ کیا، آپ دائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی: اے جماعت انصار! انہوں نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہو جائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بائیں طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے جماعت انصار! انہوں نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہو جائیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ (اس وقت) سفید خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے اترے اور فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں۔ چنانچہ مشرک شکست کھا گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غنیمت کے بہت سے اموال حاصل کیے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں (فتح مکہ سے زرا قبل) ہجرت کرنے والوں اور (فتح مکہ کے موقع پر) آزاد رکھے جانے والوں میں تقسیم کر دیا اور انصار کو کچھ نہ دیا، اس پر انصار نے کہا: جب سختی اور شدت کا موقع ہو تو ہمیں بلایا جاتا ہے۔ اور غنیمتیں دوسروں کو دی جاتی ہیں! یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچ گئی، اس پر آپ نے انہیں سائبان میں جمع کیا اور فرمایا: اے انصار کی جماعت! وہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے؟ وہ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیا تم اس بات پر راضی نہ ہو گے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی جمعیت میں شامل کر کے اپنے ساتھ گھروں کو لے جاؤ۔ وہ کہہ اٹھے: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم (اس پر) راضی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں، تو میں انصار کی وادی کو اختیار کروں گا۔ ہشام نے کہا میں نے پوچھا: ابوحمزہ! (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت) آپ اس کے (عینی) شاہد تھے؟ انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ کر کہاں غائب ہو سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2441]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2441 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، ابْنُ عَوْنٍ ، هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَرْعَرَةَ ، يزيد أحدهما على الآخر الحرف بعد الحرف، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ، أَقْبَلَتْ هَوَازِنُ وَغَطَفَانُ وَغَيْرُهُمْ بِذَرَارِيِّهِمْ وَنَعَمِهِمْ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ عَشَرَةُ آلَافٍ وَمَعَهُ الطُّلَقَاءُ، فَأَدْبَرُوا عَنْهُ حَتَّى بَقِيَ وَحْدَهُ، قَالَ: فَنَادَى يَوْمَئِذٍ نِدَاءَيْنِ لَمْ يَخْلِطْ بَيْنَهُمَا شَيْئًا، قَالَ: فَالْتَفَتَ عَنْ يَمِينِهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، فَقَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، قَالَ: ثُمَّ الْتَفَتَ عَنْ يَسَارِهِ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، قَالُوا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَبْشِرْ نَحْنُ مَعَكَ، قَالَ: وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ بَيْضَاءَ فَنَزَلَ، فَقَالَ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنَائِمَ كَثِيرَةً، فَقَسَمَ فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالطُّلَقَاءِ، وَلَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ شَيْئًا، فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ: إِذَا كَانَتِ الشِّدَّةُ فَنَحْنُ نُدْعَى وَتُعْطَى الْغَنَائِمُ غَيْرَنَا، فَبَلَغَهُ ذَلِكَ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، مَا حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟ فَسَكَتُوا، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالدُّنْيَا، وَتَذْهَبُونَ بِمُحَمَّدٍ تَحُوزُونَهُ إِلَى بُيُوتِكُمْ، قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ رَضِينَا، قَالَ: فَقَالَ: لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا، وَسَلَكَتْ الْأَنْصَارُ شِعْبًا، لَأَخَذْتُ شِعْبَ الْأَنْصَارِ "، قَالَ هِشَامٌ: فَقُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ أَنْتَ شَاهِدٌ ذَاكَ؟، قَالَ: وَأَيْنَ أَغِيبُ عَنْهُ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہشام بن زید بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: جب حنین کی جنگ ہوئی تو حوازن اور غطفان اور دوسرے لوگ اپنے بیوی بچوں اور مویشیوں کو لے کر آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اس روز دس ہزار (اپنے ساتھی) تھے اور وہ لوگ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے جنہیں (فتح مکہ کے موقع پر غلام بنانے کی بجائے) آزاد کیا گیا تھا۔ یہ آپ کو چھوڑ کر پیچھے بھاگ گئے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکیلے رہ گئے، کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دن (مہاجرین کے بعد انصار کو) دو دفعہ پکارا، ان دونوں کو آپس میں زرہ برابر گڈ مڈ نہ کیا، آپ دائیں طرف متوجہ ہوئے اور آواز دی: اے جماعت انصار! انہوں نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہو جائیں ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بائیں طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اے جماعت انصار! انہوں نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہو جائیے، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ آپ (اس وقت) سفید خچر پر سوار تھے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نیچے اترے اور فرمایا: میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں۔ چنانچہ مشرک شکست کھا گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے غنیمت کے بہت سے اموال حاصل کیے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں (فتح مکہ سے زرا قبل) ہجرت کرنے والوں اور (فتح مکہ کے موقع پر) آزاد رکھے جانے والوں میں تقسیم کر دیا اور انصار کو کچھ نہ دیا، اس پر انصار نے کہا: جب سختی اور شدت کا موقع ہو تو ہمیں بلایا جاتا ہے۔ اور غنیمتیں دوسروں کو دی جاتی ہیں! یہ بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچ گئی، اس پر آپ نے انہیں سائبان میں جمع کیا اور فرمایا: اے انصار کی جماعت! وہ کیا بات ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے؟ وہ خاموش رہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کی جماعت! کیا تم اس بات پر راضی نہ ہو گے کہ لوگ دنیا لے کر جائیں اور تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی جمعیت میں شامل کر کے اپنے ساتھ گھروں کو لے جاؤ۔ وہ کہہ اٹھے: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول! ہم (اس پر) راضی ہیں۔ کہا: تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار دوسری وادی میں، تو میں انصار کی وادی کو اختیار کروں گا۔ ہشام نے کہا میں نے پوچھا: ابوحمزہ! (حضرت انس رضی اللہ عنہ کی کنیت) آپ اس کے (عینی) شاہد تھے؟ انہوں نے کہا: میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چھوڑ کر کہاں غائب ہو سکتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2441]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1059 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، السُّمَيْطُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: افْتَتَحْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا، فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ، قَالَ: فَصُفَّتِ الْخَيْلُ، ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتِلَةُ، ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ، ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ، ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ، قَالَ: وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ، وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خَيْلُنَا، وَفَرَّتِ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ "، ثُمَّ قَالَ: " يَا لَلْأَنْصَارِ يَا لَلْأَنْصَارِ "، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ، قَالَ: قُلْنَا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَايْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ "، قَالَ: فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ فَنَزَلْنَا، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ، وَأَبِي التَّيَّاحِ، وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سمیط نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے مکہ فتح کر لیا، پھر ہم نے حنین میں جنگ کی، میرے مشاہدے کے مطابق مشرک بہترین صف بندی کر کے (مقابلہ میں) آئے۔ پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی، پھر جنگجوؤں (لڑنے والوں) کی، پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی گئی، پھر بکریوں کی قطاریں کھڑی کی گئیں، پھر اونٹوں کی قطاریں۔ کہا: اور ہم (انصار) بہت لوگ تھے، ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی اور ہمارے پہلو کے سواروں پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمارے گھڑ سوار ہماری پشتوں کی طرف مڑنے لگے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے سوار بکھر گئے اور بدو بھی بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جن کو ہم جانتے ہیں (مکہ کے نو مسلم) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آواز دی: اے مہاجرین! اے مہاجرین! پھر فرمایا: اے انصار! اے انصار! کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ (میرے اپنے مشاہدے کے علاوہ جنگ میں شریک لوگوں کی) جماعت کی روایت ہے۔ کہا: ہم نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھے، اور ہم اللہ کی قسم! ان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ نے ان کو شکست سے دوچار کر دیا، اس پر ہم نے اس سارے مال پر قبضہ کر لیا، پھر ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس دن تک ان کا محاصرہ کیا، پھر ہم مکہ واپس آئے اور وہاں پڑاؤ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو سو اونٹ (کے حساب سے) دینے کا آغاز فرمایا۔۔۔ پھر حدیث کا باقی حصہ اسی طرح بیان کیا جس طرح (اوپر کی روایات میں) قتادہ، ابوتیاح اور ہشام بن زید کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2442]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2442 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، أَبِيهِ ، السُّمَيْطُ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، وَحَامِدُ بْنُ عُمَرَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَ ابْنُ مُعَاذٍ: حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي السُّمَيْطُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: افْتَتَحْنَا مَكَّةَ، ثُمَّ إِنَّا غَزَوْنَا حُنَيْنًا، فَجَاءَ الْمُشْرِكُونَ بِأَحْسَنِ صُفُوفٍ رَأَيْتُ، قَالَ: فَصُفَّتِ الْخَيْلُ، ثُمَّ صُفَّتِ الْمُقَاتِلَةُ، ثُمَّ صُفَّتِ النِّسَاءُ مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ، ثُمَّ صُفَّتِ الْغَنَمُ، ثُمَّ صُفَّتِ النَّعَمُ، قَالَ: وَنَحْنُ بَشَرٌ كَثِيرٌ قَدْ بَلَغْنَا سِتَّةَ آلَافٍ، وَعَلَى مُجَنِّبَةِ خَيْلِنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، قَالَ: فَجَعَلَتْ خَيْلُنَا تَلْوِي خَلْفَ ظُهُورِنَا، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنِ انْكَشَفَتْ خَيْلُنَا، وَفَرَّتِ الْأَعْرَابُ وَمَنْ نَعْلَمُ مِنَ النَّاسِ، قَالَ فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا لَلْمُهَاجِرِينَ يَا لَلْمُهَاجِرِينَ "، ثُمَّ قَالَ: " يَا لَلْأَنْصَارِ يَا لَلْأَنْصَارِ "، قَالَ: قَالَ أَنَسٌ: هَذَا حَدِيثُ عِمِّيَّةٍ، قَالَ: قُلْنَا: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَايْمُ اللَّهِ مَا أَتَيْنَاهُمْ حَتَّى هَزَمَهُمُ اللَّهُ "، قَالَ: فَقَبَضْنَا ذَلِكَ الْمَالَ، ثُمَّ انْطَلَقْنَا إِلَى الطَّائِفِ فَحَاصَرْنَاهُمْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ رَجَعْنَا إِلَى مَكَّةَ فَنَزَلْنَا، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي الرَّجُلَ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ، ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ كَنَحْوِ حَدِيثِ قَتَادَةَ، وَأَبِي التَّيَّاحِ، وَهِشَامِ بْنِ زَيْدٍ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سمیط نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم نے مکہ فتح کر لیا، پھر ہم نے حنین میں جنگ کی، میرے مشاہدے کے مطابق مشرک بہترین صف بندی کر کے (مقابلہ میں) آئے۔ پہلے گھڑ سواروں کی صف بنائی گئی، پھر جنگجوؤں (لڑنے والوں) کی، پھر اس کے پیچھے عورتوں کی صف بنائی گئی، پھر بکریوں کی قطاریں کھڑی کی گئیں، پھر اونٹوں کی قطاریں۔ کہا: اور ہم (انصار) بہت لوگ تھے، ہماری تعداد چھ ہزار کو پہنچ گئی تھی اور ہمارے پہلو کے سواروں پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ ہمارے گھڑ سوار ہماری پشتوں کی طرف مڑنے لگے اور کچھ دیر نہ گزری تھی کہ ہمارے سوار بکھر گئے اور بدو بھی بھاگ گئے اور وہ لوگ بھی جن کو ہم جانتے ہیں (مکہ کے نو مسلم) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آواز دی: اے مہاجرین! اے مہاجرین! پھر فرمایا: اے انصار! اے انصار! کہا: حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ (میرے اپنے مشاہدے کے علاوہ جنگ میں شریک لوگوں کی) جماعت کی روایت ہے۔ کہا: ہم نے کہا: لبیک، اے اللہ کے رسول! اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھے، اور ہم اللہ کی قسم! ان تک پہنچے بھی نہ تھے کہ اللہ نے ان کو شکست سے دوچار کر دیا، اس پر ہم نے اس سارے مال پر قبضہ کر لیا، پھر ہم طائف کی طرف روانہ ہوئے اور چالیس دن تک ان کا محاصرہ کیا، پھر ہم مکہ واپس آئے اور وہاں پڑاؤ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو سو اونٹ (کے حساب سے) دینے کا آغاز فرمایا۔۔۔ پھر حدیث کا باقی حصہ اسی طرح بیان کیا جس طرح (اوپر کی روایات میں) قتادہ، ابوتیاح اور ہشام بن زید کی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2442]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1060 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، سُفْيَانُ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، أَبِيهِ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أنجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ فَمَا كَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا كُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضْ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ، قَالَ: فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن ابی عمر مکی نے کہا: سفیان (بن عینیہ) نے ہمیں عمر بن سعید بن مسروق سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (سعید بن مسروق) سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عینیہ بن حصین اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیے اور عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو اس سے کم دیے تو عباس بن مرداس نے (اشعار میں) کہا: کیا آپ میری اور میرے گھوڑے عبید کی غنیمت عینیہ (بن حصین بن حذیفہ بن بدر سید بن غطفان) اور اقرع (بن حابس رئیس تمیم) کے درمیان قرار دیتے ہیں، حالانکہ (عینیہ کے پردادا) بدر اور (اقرع کے والد) حابس کسی (بڑوں کے) مجمع میں (میرے والد) سے فوقیت نہیں رکھتے تھے اور میں ان دونوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جس کو پست قرار دیا جائے گا اس کو بلند نہیں کیا جا سکے گا۔ کہا: اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بھی سو پورے کر دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2443]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2443 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، سُفْيَانُ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، أَبِيهِ ، عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، قَالَ: أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ، وَصَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَعُيَيْنَةَ بْنَ حِصْنٍ، وَالْأَقْرَعَ بْنَ حَابِسٍ، كُلَّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَأَعْطَى عَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ دُونَ ذَلِكَ، فَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ: أنجْعَلُ نَهْبِي وَنَهْبَ الْعُبَيْدِ بَيْنَ عُيَيْنَةَ وَالْأَقْرَعِ فَمَا كَانَ بَدْرٌ وَلَا حَابِسٌ يَفُوقَانِ مِرْدَاسَ فِي الْمَجْمَعِ وَمَا كُنْتُ دُونَ امْرِئٍ مِنْهُمَا وَمَنْ تَخْفِضْ الْيَوْمَ لَا يُرْفَعِ، قَالَ: فَأَتَمَّ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِائَةً،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن ابی عمر مکی نے کہا: سفیان (بن عینیہ) نے ہمیں عمر بن سعید بن مسروق سے حدیث بیان کی، انہوں نے اپنے والد (سعید بن مسروق) سے، انہوں نے عبایہ بن رفاعہ سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب، صفوان بن امیہ، عینیہ بن حصین اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیے اور عباس بن مرداس رضی اللہ عنہ کو اس سے کم دیے تو عباس بن مرداس نے (اشعار میں) کہا: کیا آپ میری اور میرے گھوڑے عبید کی غنیمت عینیہ (بن حصین بن حذیفہ بن بدر سید بن غطفان) اور اقرع (بن حابس رئیس تمیم) کے درمیان قرار دیتے ہیں، حالانکہ (عینیہ کے پردادا) بدر اور (اقرع کے والد) حابس کسی (بڑوں کے) مجمع میں (میرے والد) سے فوقیت نہیں رکھتے تھے اور میں ان دونوں میں سے کسی سے کم نہیں ہوں اور جس کو پست قرار دیا جائے گا اس کو بلند نہیں کیا جا سکے گا۔ کہا: اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے بھی سو پورے کر دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2443]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1060 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ، فَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ وَأَعْطَى عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ مِائَةً،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
احمد بن عبدہ ضبی نے کہا: ہمیں سفیان (بن عینیہ) نے عمر بن سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنین کے غنائم تقسیم کیے تو ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے۔۔۔ اور پچھلی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علقمہ بن علاثہ رضی اللہ عنہ کو بھی سو اونٹ دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2444]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2444 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ، فَأَعْطَى أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبٍ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ وَأَعْطَى عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ مِائَةً،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
احمد بن عبدہ ضبی نے کہا: ہمیں سفیان (بن عینیہ) نے عمر بن سعید بن مسروق سے اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حنین کے غنائم تقسیم کیے تو ابوسفیان بن حرب رضی اللہ عنہ کو سو اونٹ دیے۔۔۔ اور پچھلی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور یہ اضافہ کیا: اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علقمہ بن علاثہ رضی اللہ عنہ کو بھی سو اونٹ دیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2444]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1060 صحیح مسلم
مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ، سُفْيَانُ ، عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ، وَلَا صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشِّعْرَ فِي حَدِيثِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مخلد بن خالد شعیری نے کہا: ہمیں سفیان (بن عینیہ) نے حدیث سنائی، کہا: مجھے عمر بن سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور اس میں نہ علقمہ بن علاثہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا نہ صفوان بن امیہ کا اور نہ اپنی حدیث میں اشعار ہی ذکر کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2445]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2445 صحیح مسلم
مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ، سُفْيَانُ ، عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ
وحَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ الشَّعِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ سَعِيدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ عَلْقَمَةَ بْنَ عُلَاثَةَ، وَلَا صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ، وَلَمْ يَذْكُرِ الشِّعْرَ فِي حَدِيثِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
مخلد بن خالد شعیری نے کہا: ہمیں سفیان (بن عینیہ) نے حدیث سنائی، کہا: مجھے عمر بن سعید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور اس میں نہ علقمہ بن علاثہ رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا نہ صفوان بن امیہ کا اور نہ اپنی حدیث میں اشعار ہی ذکر کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2445]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة