بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ضعیف الایمان لوگوں کو دینے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: ضعیف الایمان لوگوں کو دینے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 150 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا "، قَالَ: " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ "، وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَكْرِيرُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حسن بن علی حلوانی اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی کہا میرے والد نے ہمیں صالح سے حدیث بیان کی انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا جبکہ میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اس کو نہ دیا۔ وہ میرے لیے ان سب کی نسبت زیادہ پسندیدہ تھا میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا اور ازراہ رازداری کے ساتھ آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے آپ فلاں سے اعراض فرما رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: یا مسلمان۔ میں کچھ دیر کے لیے چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ فلاں کو نہیں دے رہے؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: یا مسلمان۔ اس کے بعد میں تھوڑی دیر چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی میں نے پھر عرض کی: فلاں سے آپ کے اعراض کا سبب کیا ہے اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: یا مسلمان۔ (پھر) آپ نے فرمایا: میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس ڈر سے (دیتا ہوں) کہ وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور حلوانی کی حدیث میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان یا مسلمان کا) تکرار دو بار ہے (تین بار نہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2433]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2433 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، سَعْدٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَهْطًا وَأَنَا جَالِسٌ فِيهِمْ، قَالَ: فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ رَجُلًا لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ، فَقُمْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَارَرْتُهُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا " فَسَكَتُّ قَلِيلًا، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا؟، قَالَ: " أَوْ مُسْلِمًا "، قَالَ: " إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ، وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ "، وَفِي حَدِيثِ الْحُلْوَانِيِّ تَكْرِيرُ الْقَوْلِ مَرَّتَيْنِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حسن بن علی حلوانی اور عبدبن حمید نے کہا: ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی کہا میرے والد نے ہمیں صالح سے حدیث بیان کی انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا: مجھے عامر بن سعد نے اپنے والد حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا جبکہ میں بھی ان میں بیٹھا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان میں سے ایک آدمی کو چھوڑ دیا اس کو نہ دیا۔ وہ میرے لیے ان سب کی نسبت زیادہ پسندیدہ تھا میں اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا اور ازراہ رازداری کے ساتھ آپ سے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے آپ فلاں سے اعراض فرما رہے ہیں؟ اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: یا مسلمان۔ میں کچھ دیر کے لیے چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ فلاں کو نہیں دے رہے؟ اللہ کی قسم! میں اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: یا مسلمان۔ اس کے بعد میں تھوڑی دیر چپ رہا پھر جو میں اس کے بارے میں جانتا تھا وہ بات مجھ پر غالب آگئی میں نے پھر عرض کی: فلاں سے آپ کے اعراض کا سبب کیا ہے اللہ کی قسم! میں تو اسے مومن سمجھتا ہوں آپ نے فرمایا: یا مسلمان۔ (پھر) آپ نے فرمایا: میں ایک آدمی کو دیتا ہوں جبکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے اس ڈر سے (دیتا ہوں) کہ وہ اوندھے منہ آگ میں نہ ڈال دیا جائے۔ اور حلوانی کی حدیث میں (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان یا مسلمان کا) تکرار دو بار ہے (تین بار نہیں۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2433]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 150 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَلَى مَعْنَى حَدِيثِ صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری، ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب) اور معمر سب نے (زہری) سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2434]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2434 صحیح مسلم
ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، سُفْيَانُ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ . ح وحَدَّثَنَاه إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، كُلُّهُمْ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَلَى مَعْنَى حَدِيثِ صَالِحٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سفیان ثوری، ابن شہاب (زہری) کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن شہاب) اور معمر سب نے (زہری) سے اسی سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2434]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 150 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: " أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں یعنی زہری مذکورہ بالا حدیث انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: جنگ کر رہے ہو؟ اے سعد! میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔۔۔ (آگے اسی طرح ہے جس طرح پہلی روایت میں ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2435]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2435 صحیح مسلم
الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ سَعْدٍ يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ يَعْنِي حَدِيثَ الزُّهْرِيِّ الَّذِي ذَكَرْنَا، فَقَالَ فِي حَدِيثِهِ: فَضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ بَيْنَ عُنُقِي وَكَتِفِي، ثُمَّ قَالَ: " أَقِتَالًا أَيْ سَعْدُ إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن سعد یہ حدیث بیان کرتے ہیں یعنی زہری مذکورہ بالا حدیث انہوں نے اپنی حدیث میں کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری گردن اور کندھے کے درمیان اپنا ہاتھ مارا اور فرمایا: جنگ کر رہے ہو؟ اے سعد! میں ایک شخص کو دیتا ہوں۔۔۔ (آگے اسی طرح ہے جس طرح پہلی روایت میں ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2435]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة