بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مؤلفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اس کو دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکامات کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: مؤلفتہ القلوب اور جسے اگر نہ دیا جائے تو اس کے ایمان کا خوف ہو اس کو دینے اور جو اپنی جہالت کی وجہ سے سختی سے سوال کرے اور خوارج اور ان کے احکامات کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 1056 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إسحاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ، قَالَ: " إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ، أَوْ يُبَخِّلُونِي، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ان کے علاوہ (جنہیں آپ نے عطا فرمایا) دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ نے فرمایا: انہوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بے جا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنا دیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2428]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2428 صحیح مسلم
عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، جَرِيرٌ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَإسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ إسحاق أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ سَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسْمًا، فَقُلْتُ: وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَغَيْرُ هَؤُلَاءِ كَانَ أَحَقَّ بِهِ مِنْهُمْ، قَالَ: " إِنَّهُمْ خَيَّرُونِي أَنْ يَسْأَلُونِي بِالْفُحْشِ، أَوْ يُبَخِّلُونِي، فَلَسْتُ بِبَاخِلٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ مال تقسیم کیا تو میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! ان کے علاوہ (جنہیں آپ نے عطا فرمایا) دوسرے لوگ اس کے زیادہ حقدار تھے۔ آپ نے فرمایا: انہوں نے مجھے ایک چیز اختیار کرنے پر مجبور کر دیا کہ یا تو یہ مذموم طریقے (بے جا اصرار) سے سوال کریں یا مجھے بخیل بنا دیں تو میں بخیل بننے والا نہیں ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2428]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1057 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، مَالِكًا ، يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا آپ (کے کندھوں) پر خاصے موٹے کنارے کی ایک نجرانی چادر تھی اتنے میں ایک بدوی آپ کے پاس آیا اور آپ کی چادر سے (پکڑ کر) آپ کو زور سے کھینچا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن کی ایک جانب کی طرف نظر کی جس پر اس کے زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے کنارے نے گہرا نشان ڈال دیا تھا پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2429]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2429 صحیح مسلم
عَمْرٌو النَّاقِدُ ، إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، مَالِكًا ، يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا إسحاق بْنُ سُلَيْمَانَ الرَّازِيُّ ، قَالَ: سَمِعْتُ مَالِكًا . ح وحَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ رِدَاءٌ نَجْرَانِيٌّ غَلِيظُ الْحَاشِيَةِ، فَأَدْرَكَهُ أَعْرَابِيٌّ، فَجَبَذَهُ بِرِدَائِهِ جَبْذَةً شَدِيدَةً نَظَرْتُ إِلَى صَفْحَةِ عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ أَثَّرَتْ بِهَا حَاشِيَةُ الرِّدَاءِ مِنْ شِدَّةِ جَبْذَتِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا مُحَمَّدُ مُرْ لِي مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي عِنْدَكَ، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ، ثُمَّ أَمَرَ لَهُ بِعَطَاءٍ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک بن انس نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ چل رہا تھا آپ (کے کندھوں) پر خاصے موٹے کنارے کی ایک نجرانی چادر تھی اتنے میں ایک بدوی آپ کے پاس آیا اور آپ کی چادر سے (پکڑ کر) آپ کو زور سے کھینچا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن کی ایک جانب کی طرف نظر کی جس پر اس کے زور سے کھینچنے کے باعث چادر کے کنارے نے گہرا نشان ڈال دیا تھا پھر اس نے کہا: اے محمد! اللہ کا جو مال آپ کے پاس ہے اس میں سے مجھے بھی دینے کا حکم دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی طرف متوجہ ہوئے ہنس پڑے اور اسے کچھ دینے کا حکم دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2429]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1057 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، هَمَّامٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، كُلُّهُمْ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، قَالَ: " ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً، رَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ "، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: " فَجَاذَبَهُ حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ، وَحَتَّى بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام، عکرمہ بن عمار اور اوزاعی سب نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث میں یہ اضافہ ہے پھر اس نے آپ کو زور سے اپنی طرف کھینچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بدوی کے سینے سے جا ٹکرائے۔ اور ہمام کی حدیث میں ہے اس نے آپ کے ساتھ کھینچا تانی شروع کر دی یہاں تک کہ چادر پھٹ گئی اور یہاں تک کہ اس کا کنارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارک میں رہ گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2430]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2430 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، هَمَّامٌ ، زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، أَبُو الْمُغِيرَةِ ، الْأَوْزَاعِيُّ ، إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ . ح وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، كُلُّهُمْ، عَنْ إسحاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ، وَفِي حَدِيثِ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ مِنَ الزِّيَادَةِ، قَالَ: " ثُمَّ جَبَذَهُ إِلَيْهِ جَبْذَةً، رَجَعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْأَعْرَابِيِّ "، وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ: " فَجَاذَبَهُ حَتَّى انْشَقَّ الْبُرْدُ، وَحَتَّى بَقِيَتْ حَاشِيَتُهُ فِي عُنُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمام، عکرمہ بن عمار اور اوزاعی سب نے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی۔ عکرمہ بن عمار کی حدیث میں یہ اضافہ ہے پھر اس نے آپ کو زور سے اپنی طرف کھینچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس بدوی کے سینے سے جا ٹکرائے۔ اور ہمام کی حدیث میں ہے اس نے آپ کے ساتھ کھینچا تانی شروع کر دی یہاں تک کہ چادر پھٹ گئی اور یہاں تک کہ اس کا کنارا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارک میں رہ گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2430]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1058 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " رَضِيَ مَخْرَمَةُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے (عبداللہ) بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز نہ دی تو مخرمہ نے کہا: میرے بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے جاؤ تو میں ان کے ساتھ گیا انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور میری خاطر آپ کو بلا لاؤ میں نے ان کی خاطر آپ کو بلایا تو آپ اس طرح اس کی طرف آئے کہ آپ (کے کندھے) پر ان (قباؤں) میں سے ایک قباء تھی آپ نے فرمایا: یہ میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: مخرمہ راضی ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2431]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2431 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةً وَلَمْ يُعْطِ مَخْرَمَةَ شَيْئًا، فَقَالَ مَخْرَمَةُ: يَا بُنَيَّ انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، قَالَ: ادْخُلْ فَادْعُهُ لِي، قَالَ: فَدَعَوْتُهُ لَهُ فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَعَلَيْهِ قَبَاءٌ مِنْهَا، فَقَالَ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " قَالَ: فَنَظَرَ إِلَيْهِ، فَقَالَ: " رَضِيَ مَخْرَمَةُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
لیث نے (عبداللہ) بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبائیں تقسیم کیں اور مخرمہ رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز نہ دی تو مخرمہ نے کہا: میرے بیٹے! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے جاؤ تو میں ان کے ساتھ گیا انہوں نے کہا: اندر جاؤ اور میری خاطر آپ کو بلا لاؤ میں نے ان کی خاطر آپ کو بلایا تو آپ اس طرح اس کی طرف آئے کہ آپ (کے کندھے) پر ان (قباؤں) میں سے ایک قباء تھی آپ نے فرمایا: یہ میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی طرف نظر اٹھا کر فرمایا: مخرمہ راضی ہو گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2431]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1058 صحیح مسلم
أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ ، أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب سختیانی نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے آپ کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے (کوئی قباء) عنایت فرمائیں گے۔ میرے والد نے دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی۔ آپ باہر نکلے تو قباء آپ کے ساتھ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے: میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2432]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2432 صحیح مسلم
أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ ، أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَى الْحَسَّانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ ، قَالَ: قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا، قَالَ: فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ، فَخَرَجَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ، وَهُوَ يَقُولُ: " خَبَأْتُ هَذَا لَكَ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ایوب سختیانی نے عبداللہ بن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قبائیں آئیں تو مجھے میرے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا مجھے آپ کے پاس لے چلو امید ہے آپ ہمیں بھی ان میں سے (کوئی قباء) عنایت فرمائیں گے۔ میرے والد نے دروازے پر کھڑے ہو کر گفتگو کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی۔ آپ باہر نکلے تو قباء آپ کے ساتھ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے: میں نے یہ تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی میں نے تمہارے لیے چھپا کر رکھی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2432]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة