بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سخت سزا دیئے جانے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم زکاۃ کے احکام و مسائل باب: زکوٰۃ نہ دینے والوں کی سخت سزا دیئے جانے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 8
حدیث نمبر: 990 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مَنْ هُمْ؟، قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے کہا: اعمش نے ہمیں معرور بن سوید کے حوالے سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: رب کعب کی قسم! وہی لوگ سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ کہا: میں آکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا (ہی تھا) اور اطمینان سے بیٹھا ہی نہ تھا کہ کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان، وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ زیادہ مالدار لوگ ہیں، سوائے اس کے جس نے، اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں، اپنے بائیں، ایسے، ایسے اور ایسے کہا (لے لو، لے لو) اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ جو بھی اونٹوں، گایوں یا بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اس طرح بڑی اور موٹی ہو کر آئیں گی جتنی زیادہ سے زیادہ تھیں، اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی جب بھی ان میں سے آخری گزر کر جائے گی، پہلی اس (کے سر) پر واپس آ جائے گی حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2300]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2300 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، أَبِي ذَرٍّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَلَمَّا رَآنِي، قَالَ: " هُمُ الْأَخْسَرُونَ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ "، قَالَ: فَجِئْتُ حَتَّى جَلَسْتُ فَلَمْ أَتَقَارَّ أَنْ قُمْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، مَنْ هُمْ؟، قَالَ: " هُمُ الْأَكْثَرُونَ أَمْوَالًا، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا مِنْ بَيْنَ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ وَعَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ مَا مِنْ صَاحِبِ إِبِلٍ وَلَا بَقَرٍ وَلَا غَنَمٍ، لَا يُؤَدِّي زَكَاتَهَا إِلَّا جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَعْظَمَ مَا كَانَتْ وَأَسْمَنَهُ، تَنْطَحُهُ بِقُرُونِهَا وَتَطَؤُهُ بِأَظْلَافِهَا، كُلَّمَا نَفِدَتْ أُخْرَاهَا، عَادَتْ عَلَيْهِ أُولَاهَا، حَتَّى يُقْضَى بَيْنَ النَّاسِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے کہا: اعمش نے ہمیں معرور بن سوید کے حوالے سے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبے کے سائے میں تشریف فرما تھے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو فرمایا: رب کعب کی قسم! وہی لوگ سب سے زیادہ خسارہ اٹھانے والے ہیں۔ کہا: میں آکر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بیٹھا (ہی تھا) اور اطمینان سے بیٹھا ہی نہ تھا کہ کھڑا ہو گیا اور میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان، وہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ زیادہ مالدار لوگ ہیں، سوائے اس کے جس نے، اپنے آگے، اپنے پیچھے، اپنے دائیں، اپنے بائیں، ایسے، ایسے اور ایسے کہا (لے لو، لے لو) اور ایسے لوگ بہت کم ہیں۔ جو بھی اونٹوں، گایوں یا بکریوں کا مالک ان کی زکاۃ ادا نہیں کرتا تو وہ قیامت کے دن اس طرح بڑی اور موٹی ہو کر آئیں گی جتنی زیادہ سے زیادہ تھیں، اسے اپنے سینگوں سے ماریں گی اور اپنے کھروں سے روندیں گی جب بھی ان میں سے آخری گزر کر جائے گی، پہلی اس (کے سر) پر واپس آ جائے گی حتیٰ کہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کر دیا جائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2300]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 990 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، الْمَعْرُورِ ، أَبِي ذَرٍّ
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ، فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے معرور سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔۔۔ آگے وکیع کی روایت کی طرح ہے، البتہ (اس میں ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین پر جو بھی آدمی فوت ہوتا ہے اور ایسے اونٹ، گائے یا بکریاں پیچھے چھوڑ جاتا ہے جن کی اس نے زکاۃ ادا نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2301]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2301 صحیح مسلم
أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشِ ، الْمَعْرُورِ ، أَبِي ذَرٍّ
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ الْمَعْرُورِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ جَالِسٌ فِي ظِلِّ الْكَعْبَةِ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ وَكِيعٍ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا عَلَى الْأَرْضِ رَجُلٌ يَمُوتُ، فَيَدَعُ إِبِلًا أَوْ بَقَرًا أَوْ غَنَمًا لَمْ يُؤَدِّ زَكَاتَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے اعمش سے، انہوں نے معرور سے اور انہوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبہ کے سائے میں تشریف فرما تھے۔۔۔ آگے وکیع کی روایت کی طرح ہے، البتہ (اس میں ہے کہ) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! زمین پر جو بھی آدمی فوت ہوتا ہے اور ایسے اونٹ، گائے یا بکریاں پیچھے چھوڑ جاتا ہے جن کی اس نے زکاۃ ادا نہیں کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2301]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 991 صحیح مسلم
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یہ بات خوشی کا باعث نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لیے رکھ لوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2302]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2302 صحیح مسلم
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلَّامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ لِي أُحُدًا ذَهَبًا تَأْتِي عَلَيَّ ثَالِثَةٌ، وَعِنْدِي مِنْهُ دِينَارٌ إِلَّا دِينَارٌ أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ عَلَيَّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے لیے یہ بات خوشی کا باعث نہیں کہ میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا ہو اور تیسرا دن مجھ پر اس طرح آئے کہ میرے پاس اس میں سے کوئی دینار بچا ہوا موجود ہو سوائے اس دینار کے جس کو میں اپنا قرض چکانے کے لیے رکھ لوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2302]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 991 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے سنا۔۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2303]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2303 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے محمد بن زیاد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کرتے سنا۔۔۔ اسی کے مانند۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 2303]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة