بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قبر کو برابر کرنے کا حکم۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: قبر کو برابر کرنے کا حکم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 968 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ ، ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ ، فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، فِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمّ قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اثامہ بن شفی نے بیان کیا، کہا: ہم سرزمین روم کے جزیرہ رودس میں فضالہ بن عبید (اوسی انصاری) رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہمارا ایک دوست وفات پا گیا۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے ان کی قبر کے بارے میں حکم دیا تو اس کو برابر کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان (قبروں) کو (زمین کے) برابر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2242]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2242 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ ، ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ ، فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، فِي رِوَايَةِ أَبِي الطَّاهِرِ، أَنَّ أَبَا عَلِيٍّ الْهَمْدَانِيّ حَدَّثَهُ وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ أَنَّ ثُمَامَةَ بْنَ شُفَيٍّ حَدَّثَهُ، قَالَ: كُنَّا مَعَ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ بِأَرْضِ الرُّومِ بِرُودِسَ، فَتُوُفِّيَ صَاحِبٌ لَنَا، فَأَمَرَ فَضَالَةُ بْنُ عُبَيْدٍ بِقَبْرِهِ فَسُوِّيَ، ثُمّ قَالَ: " سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِتَسْوِيَتِهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اثامہ بن شفی نے بیان کیا، کہا: ہم سرزمین روم کے جزیرہ رودس میں فضالہ بن عبید (اوسی انصاری) رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ ہمارا ایک دوست وفات پا گیا۔ حضرت فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ نے ان کی قبر کے بارے میں حکم دیا تو اس کو برابر کر دیا گیا، پھر انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان (قبروں) کو (زمین کے) برابر کرنے کا حکم دیتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2242]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 969 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے ابوالہیاج اسدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اس (مہم) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ (وہ یہ ہے) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے (زمین کے) برابر کر دینا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2243]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2243 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ أَبِي الْهَيَّاجِ الْأَسَدِيِّ ، قَالَ: قَالَ لِي عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَلَا أَبْعَثُكَ عَلَى مَا بَعَثَنِي عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ أَنْ لَا تَدَعَ تِمْثَالًا إِلَّا طَمَسْتَهُ، وَلَا قَبْرًا مُشْرِفًا إِلَّا سَوَّيْتَهُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وکیع نے سفیان سے، انہوں نے حبیب بن ابی ثابت سے، انہوں نے ابووائل سے اور انہوں نے ابوالہیاج اسدی سے روایت کی، انہوں نے کہا: حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: کیا میں تمہیں اس (مہم) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ (وہ یہ ہے) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے (زمین کے) برابر کر دینا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2243]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 969 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبٌ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ القطان نے کہا: ہمیں سفیان نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے ( «لا تدع تمثالا إلا طمسته» کے بجائے) «ولا صورة إلا طمستها» (کوئی تصویر نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2244]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2244 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، سُفْيَانُ ، حَبِيبٌ
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي حَبِيبٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: " وَلَا صُورَةً إِلَّا طَمَسْتَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ القطان نے کہا: ہمیں سفیان نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) حدیث بیان کی اور انہوں نے ( «لا تدع تمثالا إلا طمسته» کے بجائے) «ولا صورة إلا طمستها» (کوئی تصویر نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا) کہا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2244]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة