بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: آرام پانے والے اور جس سے آرام حاصل کیا گیا ان کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: آرام پانے والے اور جس سے آرام حاصل کیا گیا ان کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 950 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟، فَقَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، انہوں نے معبدبن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے۔ انہوں (صحابہ) نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: بندہ مومن دنیا کی تکلیف سے آرام پاتا ہے اور فاجر بندے (کے مرنے) سے لوگ، شہر، درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2202]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2202 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فِيمَا قُرِئَ عَلَيْهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَةَ ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ بْنِ رِبْعِيٍّ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرَّ عَلَيْهِ بِجَنَازَةٍ، فَقَالَ: " مُسْتَرِيحٌ وَمُسْتَرَاحٌ مِنْهُ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا الْمُسْتَرِيحُ وَالْمُسْتَرَاحُ مِنْهُ؟، فَقَالَ: الْعَبْدُ الْمُؤْمِنُ يَسْتَرِيحُ مِنْ نَصَبِ الدُّنْيَا، وَالْعَبْدُ الْفَاجِرُ يَسْتَرِيحُ مِنْهُ الْعِبَادُ وَالْبِلَادُ وَالشَّجَرُ وَالدَّوَابُّ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک بن انس رحمہ اللہ نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے، انہوں نے معبدبن کعب بن مالک سے اور انہوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فرمایا: آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے۔ انہوں (صحابہ) نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: بندہ مومن دنیا کی تکلیف سے آرام پاتا ہے اور فاجر بندے (کے مرنے) سے لوگ، شہر، درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2202]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 950 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: " يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید اور عبدالرزاق نے عبداللہ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے کعب بن مالک کے بیٹے (معبد) سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سابقہ حدیث کے مانند) روایت بیان کی اور یحییٰ کی حدیث میں ہے: وہ (مومن بندہ) اللہ کی رحمت میں آکر دنیا کی اذیت اور تکان سے آرام حاصل کر لیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2203]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2203 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِي قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ ابْنٍ لِكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَفِي حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ: " يَسْتَرِيحُ مِنْ أَذَى الدُّنْيَا وَنَصَبِهَا إِلَى رَحْمَةِ اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید اور عبدالرزاق نے عبداللہ بن سعید سے، انہوں نے محمد بن عمرو سے، انہوں نے کعب بن مالک کے بیٹے (معبد) سے، انہوں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (سابقہ حدیث کے مانند) روایت بیان کی اور یحییٰ کی حدیث میں ہے: وہ (مومن بندہ) اللہ کی رحمت میں آکر دنیا کی اذیت اور تکان سے آرام حاصل کر لیتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2203]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة