بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: بیماروں کی خبر گیری کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: بیماروں کی خبر گیری کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 925 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَخَا الْأَنْصَارِ، كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟ " فَقَالَ: صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ؟ " فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلَا خِفَافٌ وَلَا قَلَانِسُ وَلَا قُمُصٌ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ، حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا، اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے بھائی (انصاری)! میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟ اس نے عرض کی: وہ اچھا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون اس کی عیادت کرے گا؟ پھر آپ اٹھے اور آپ کے ساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ہم دس سے زائد لوگ تھے، ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے، نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی۔ ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے، ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو آپ کے ساتھ تھے، (ان کے) قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2138 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ ، سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ عُمَارَةَ يَعْنِي ابْنَ غَزِيَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُعَلَّى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَدْبَرَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَخَا الْأَنْصَارِ، كَيْفَ أَخِي سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ؟ " فَقَالَ: صَالِحٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ يَعُودُهُ مِنْكُمْ؟ " فَقَامَ وَقُمْنَا مَعَهُ وَنَحْنُ بِضْعَةَ عَشَرَ، مَا عَلَيْنَا نِعَالٌ وَلَا خِفَافٌ وَلَا قَلَانِسُ وَلَا قُمُصٌ، نَمْشِي فِي تِلْكَ السِّبَاخِ حَتَّى جِئْنَاهُ، فَاسْتَأْخَرَ قَوْمُهُ مِنْ حَوْلِهِ، حَتَّى دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ الَّذِينَ مَعَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ انصار میں سے ایک آدمی آیا، اس نے آپ کو سلام کہا اور پھر وہ انصاری پشت پھیر کر چل دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے انصار کے بھائی (انصاری)! میرے بھائی سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا کیا حال ہے؟ اس نے عرض کی: وہ اچھا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کون اس کی عیادت کرے گا؟ پھر آپ اٹھے اور آپ کے ساتھ ہم بھی اٹھ کھڑے ہوئے، ہم دس سے زائد لوگ تھے، ہمارے پاس جوتے نہ تھے نہ موزے، نہ ٹوپیاں اور نہ قمیص ہی۔ ہم اس شوریلی زمین پر چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچ گئے، ان کی قوم کے لوگ ان کے ارد گرد سے پیچھے ہٹ گئے حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جو آپ کے ساتھ تھے، (ان کے) قریب ہو گئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2138]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة