بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: مصیبت کے وقت کیا کہنا چاہیئے؟
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم جنازے کے احکام و مسائل باب: مصیبت کے وقت کیا کہنا چاہیئے؟
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 918 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، ابْنِ سَفِينَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا ". قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ، فَقَالَ: أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے کہا: مجھے سعد بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے خبر دی، انہوں نے (عمر) ابن سفینہ سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ (وہی کچھ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ’یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘، ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما‘ مگر اللہ تعالیٰ اسے اس (ضائع شدہ چیز) کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب (میرے خاوند) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: کون سا مسلمان ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر (ہو سکتا) ہے! وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے وہ (کلمات) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صورت میں اس کا بدل عطا فرما دیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیتے ہوئے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت کرنے والی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کو اس (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے بے نیاز کر دے اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ (بے جا) غیرت کو (اس سے) ہٹا دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2126 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، إِسْمَاعِيلُ ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، ابْنِ سَفِينَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، جميعا، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ ، قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنِي سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ مُسْلِمٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ، فَيَقُولُ مَا أَمَرَهُ اللَّهُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَخْلَفَ اللَّهُ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا ". قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ أَوَّلُ بَيْتٍ هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ إِنِّي قُلْتُهَا، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: أَرْسَلَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاطِبَ بْنَ أَبِي بَلْتَعَةَ يَخْطُبُنِي لَهُ، فَقُلْتُ: إِنَّ لِي بِنْتًا وَأَنَا غَيُورٌ، فَقَالَ: أَمَّا ابْنَتُهَا فَنَدْعُو اللَّهَ أَنْ يُغْنِيَهَا عَنْهَا، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَذْهَبَ بِالْغَيْرَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسماعیل بن جعفر نے کہا: مجھے سعد بن سعید نے عمر بن کثیر بن افلح سے خبر دی، انہوں نے (عمر) ابن سفینہ سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی مسلمان نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ (وہی کچھ) کہے جس کا اللہ نے اسے حکم دیا ہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ’یقیناً ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘، ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت پر اجر دے اور مجھے اس سے بہتر بدل عطا فرما‘ مگر اللہ تعالیٰ اسے اس (ضائع شدہ چیز) کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب (میرے خاوند) ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: کون سا مسلمان ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر (ہو سکتا) ہے! وہ پہلا گھرانہ ہے جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہجرت کی۔ پھر میں نے وہ (کلمات) کہے تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صورت میں اس کا بدل عطا فرما دیا، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے لیے نکاح کا پیغام دیتے ہوئے حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کو میرے پاس بھیجا تو میں نے کہا: میری ایک بیٹی ہے اور میں بہت غیرت کرنے والی ہوں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کی بیٹی کے بارے میں ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ اس کو اس (ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے بے نیاز کر دے اور میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ (بے جا) غیرت کو (اس سے) ہٹا دے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2126]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 918 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، ابْنَ سَفِينَةَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ، وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا "، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ابن سفینہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» ’بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘۔ ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت کا اجر دے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما‘، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔ (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2127]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2127 صحیح مسلم
أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، ابْنَ سَفِينَةَ ، أُمَّ سَلَمَةَ
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ سَفِينَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّهُ سَمِعَ أُمَّ سَلَمَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنْ عَبْدٍ تُصِيبُهُ مُصِيبَةٌ فَيَقُولُ: إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا، إِلَّا أَجَرَهُ اللَّهُ فِي مُصِيبَتِهِ، وَأَخْلَفَ لَهُ خَيْرًا مِنْهَا "، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ كَمَا أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْلَفَ اللَّهُ لِي خَيْرًا مِنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسامہ نے سعد بن سعید سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر بن افلح نے خبر دی، انہوں نے کہا: میں نے ابن سفینہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کوئی بندہ نہیں جسے مصیبت پہنچے اور وہ کہے: «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللَّهُمَّ أَجِرْنِي فِي مُصِيبَتِي، وَأَخْلِفْ لِي خَيْرًا مِنْهَا» ’بے شک ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں‘۔ ’اے اللہ! مجھے میری مصیبت کا اجر دے اور مجھے اس کا بہتر بدل عطا فرما‘، مگر اللہ تعالیٰ اسے اس کی مصیبت کا اجر دیتا ہے اور اسے اس کا بہتر بدل عطا فرماتا ہے۔ (حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: تو جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے، میں نے اس طرح کہا جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صورت میں ان سے بہتر بدل عطا فرما دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2127]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 918 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، ابْنِ سَفِينَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي، فَقُلْتُهَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابن سفینہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ (آگے) ابواسامہ کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) اور یہ اضافہ کیا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ارادے کو پختہ کر دیا تو میں نے وہی (کلمات) کہے۔ اس کے بعد میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شادی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2128]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2128 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، أَبِي ، سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، ابْنِ سَفِينَةَ ، أُمِّ سَلَمَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ يَعْنِي ابْنَ كَثِيرٍ ، عَنْ ابْنِ سَفِينَةَ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ، وَزَادَ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ أَبُو سَلَمَةَ، قُلْتُ: مَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ ثُمَّ عَزَمَ اللَّهُ لِي، فَقُلْتُهَا، قَالَتْ: فَتَزَوَّجْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں سعد بن سعید نے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: مجھے عمر بن کثیر نے حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابن سفینہ سے خبر دی اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔۔۔ (آگے) ابواسامہ کی حدیث کے مانند (حدیث بیان کی) اور یہ اضافہ کیا: حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب ابوسلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے تو میں نے (دل میں) کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابی ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہو سکتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے میرے ارادے کو پختہ کر دیا تو میں نے وہی (کلمات) کہے۔ اس کے بعد میری رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شادی ہو گئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 2128]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة