يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ ، أَنَّهَا قَالَتْ: " فَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، قَالَتْ: تَعْنِي يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَأَخَذَ دِرْعًا حَتَّى أُدْرِكَ بِرِدَائِهِ، فَقَامَ لِلنَّاسِ قِيَامًا طَوِيلًا، لَوْ أَنَّ إِنْسَانًا أَتَى لَمْ يَشْعُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكَعَ مَا حَدَّثَ أَنَّهُ رَكَعَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
خالد بن حارث نے کہا: ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا:) مجھ سے منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے اور انہوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہما سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیزی سے (لپک کر) گئے۔ کہا: ان کی مراد اس دن سے تھی جس دن سورج کو گرہن لگا تھا۔ تو (جلدی میں) آپ نے ایک زنانہ قمیص اٹھا لی حتیٰ کہ پیچھے سے آپ کو آپ کی چادر لا کر دی گئی۔ آپ نے لوگوں کی امامت کرتے ہوئے انتہائی طویل قیام کیا۔ اگر کوئی ایسا انسان آتا جس کو یہ پتہ نہ ہوتا کہ آپ (قیام کے بعد) رکوع کر چکے ہیں تو اس قیام کی لمبائی کی بناء پر وہ کبھی نہ کہہ سکتا کہ آپ (ایک دفعہ) رکوع کر چکے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2106]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة