بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: کسوف کی نماز کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم سورج اور چاند گرہن کے احکام باب: کسوف کی نماز کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 901 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ". وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ بن انس اور عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ سے حدیث سنائی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے قیام فرمایا اور بہت ہی لمبا قیام کیا، پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھایا تو انتہائی طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے (کچھ) کم تھا پھر آپ نے (دوبارہ) رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے سجدے کیے پھر آپ کھڑے ہو گئے اور قیام کو لمبا کیا وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور قیام کیا تو بہت لمبا قیام کیا جبکہ وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدے کیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (نماز سے فارغ ہو کر) پلٹے تو سورج روشن ہو چکا تھا اور آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا جب تم انہیں (اس حالت میں) دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو نماز پڑھو اور صدقہ کرو اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کوئی نہیں جو (اس بات پر) اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت رکھنے والا ہو کہ اس کا بندہ یا اس کی باندی زنا کرے! اے امت محمد! اللہ کی قسم! اگر تم ان باتوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوں۔ تو تم بہت زیادہ روؤ اور بہت کم ہنسو۔ دیکھو! کیا میں نے (پیغام) اچھی طرح پہنچا دیا؟ اور امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: یقیناً سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2089]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2089 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَال: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَأَطَالَ الْقِيَامَ جِدًّا، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ جِدًّا، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَكَبِّرُوا وَادْعُوا اللَّهَ، وَصَلُّوا وَتَصَدَّقُوا يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ، إِنْ مِنْ أَحَدٍ أَغْيَرَ مِنَ اللَّهِ أَنْ يَزْنِيَ عَبْدُهُ أَوْ تَزْنِيَ أَمَتُهُ، يَا أُمَّةَ مُحَمَّدٍ وَاللَّهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا، أَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ". وَفِي رِوَايَةِ مَالِكٍ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک رحمہ اللہ بن انس اور عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ہشام نے اپنے والد عروہ سے حدیث سنائی انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں سورج کو گرہن لگ گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے قیام فرمایا اور بہت ہی لمبا قیام کیا، پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا پھر آپ نے سر اٹھایا تو انتہائی طویل قیام کیا اور وہ پہلے قیام سے (کچھ) کم تھا پھر آپ نے (دوبارہ) رکوع کیا تو بہت لمبا رکوع کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے سجدے کیے پھر آپ کھڑے ہو گئے اور قیام کو لمبا کیا وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا اور رکوع کو لمبا کیا اور وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور قیام کیا تو بہت لمبا قیام کیا جبکہ وہ پہلے قیام سے کم تھا پھر آپ نے رکوع کیا تو انتہائی طویل رکوع کیا لیکن وہ پہلے رکوع سے کم تھا پھر سجدے کیے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (نماز سے فارغ ہو کر) پلٹے تو سورج روشن ہو چکا تھا اور آپ نے لوگوں سے خطاب فرمایا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی، پھر فرمایا: بے شک سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں ان کو کسی کی موت یا زندگی کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا جب تم انہیں (اس حالت میں) دیکھو تو اللہ کی بڑائی بیان کرو اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو نماز پڑھو اور صدقہ کرو اے امت محمد ( صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کوئی نہیں جو (اس بات پر) اللہ تعالیٰ سے زیادہ غیرت رکھنے والا ہو کہ اس کا بندہ یا اس کی باندی زنا کرے! اے امت محمد! اللہ کی قسم! اگر تم ان باتوں کو جان لو جن کو میں جانتا ہوں۔ تو تم بہت زیادہ روؤ اور بہت کم ہنسو۔ دیکھو! کیا میں نے (پیغام) اچھی طرح پہنچا دیا؟ اور امام مالک رحمہ اللہ کی روایت میں ہے: یقیناً سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2089]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 901 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ "، وَزَادَ أَيْضًا: " ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی اور اس میں یہ اضافہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: امابعد (حمد و صلاۃ کے بعد)! بلاشبہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اور یہ بھی اضافہ کیا: پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے (پیغام) اچھی طرح پہنچا دیا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2090]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2090 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَزَادَ، ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ "، وَزَادَ أَيْضًا: " ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ (سابقہ حدیث کے مانند) روایت کی اور اس میں یہ اضافہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: امابعد (حمد و صلاۃ کے بعد)! بلاشبہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں۔ اور یہ بھی اضافہ کیا: پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور فرمایا: اے اللہ! کیا میں نے (پیغام) اچھی طرح پہنچا دیا؟ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2090]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 901 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، أَبُو الطَّاهِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ "، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ "، ثُمَّ سَجَدَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى اسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ "، وَقَالَ أَيْضًا: " فَصَلُّوا حَتَّى يُفَرِّجَ اللَّهُ عَنْكُمْ "، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أُقَدِّمُ "، وقَالَ الْمُرَادِيُّ: " أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ ". وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ: " فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی، (کہا) مجھے ابن وہب نے یونس سے خبر دی نیز ابوطاہر اور محمد بن سلمہ مرادی نے کہا: ابن وہب نے یونس سے حدیث بیان کی انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر مسجد میں تشریف لے گئے آپ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہی اور لوگ آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طویل قراءت فرمائی پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ایک لمبا رکوع کیا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہا پھر آپ نے قیام کیا اور ایک طویل قراءت کی یہ پہلی (قراءت) سے کچھ کم تھی پھر اللہ اکبر کہا اور کہہ کر طویل رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہا پھر سجدہ کیا اور ابوطاہر نے (ثم سجد) (پھر آپ نے سجدہ کیا) کے الفاظ نہیں کہے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا حتیٰ کہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو گیا پھر آپ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطاب فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی (ایسی) ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں انہیں کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے جب تم انہیں (گرہن میں) دیکھو تو فوراً نماز کی طرف لپکو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا: اور نماز پڑھتے رہو یہاں تک کہ اللہ تمہارے لیے کشادگی کر دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی اس جگہ (پر ہوتے ہوئے) ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کا ایک گچھا لینا چاہتا ہوں اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا تھا کہ میں قدم آگے بڑھا رہا ہوں۔ اور (محمد بن سلمہ) مرادی نے آگے بڑھ رہا ہوں کہا۔ اور میں نے جہنم بھی دیکھی اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو ریزہ ریزہ کر رہا تھا یہ اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا۔ اور میں نے جہنم میں عمرو بن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کی نذر کی اونٹنیاں چھوڑیں۔ ابوطاہر کی روایت نماز کی طرف لپکو پر ختم ہو گئی انہوں نے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2091]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2091 صحیح مسلم
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، أَبُو الطَّاهِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: خَسَفَتِ الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَقَامَ وَكَبَّرَ وَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ "، ثُمَّ قَامَ فَاقْتَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنَ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا هُوَ أَدْنَى مِنَ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ، ثُمَّ قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ "، ثُمَّ سَجَدَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَبُو الطَّاهِرِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ فَعَلَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، حَتَّى اسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ، وَانْجَلَتِ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ، ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ النَّاسَ فَأَثْنَى عَلَى اللَّهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهَا فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ "، وَقَالَ أَيْضًا: " فَصَلُّوا حَتَّى يُفَرِّجَ اللَّهُ عَنْكُمْ "، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " رَأَيْتُ فِي مَقَامِي هَذَا كُلَّ شَيْءٍ وُعِدْتُمْ، حَتَّى لَقَدْ رَأَيْتُنِي أُرِيدُ أَنْ آخُذَ قِطْفًا مِنَ الْجَنَّةِ حِينَ رَأَيْتُمُونِي جَعَلْتُ أُقَدِّمُ "، وقَالَ الْمُرَادِيُّ: " أَتَقَدَّمُ وَلَقَدْ رَأَيْتُ جَهَنَّمَ يَحْطِمُ بَعْضُهَا بَعْضًا حِينَ رَأَيْتُمُونِي تَأَخَّرْتُ، وَرَأَيْتُ فِيهَا ابْنَ لُحَيٍّ وَهُوَ الَّذِي سَيَّبَ السَّوَائِبَ ". وَانْتَهَى حَدِيثُ أَبِي الطَّاهِرِ عِنْدَ قَوْلِهِ: " فَافْزَعُوا لِلصَّلَاةِ "، وَلَمْ يَذْكُرْ مَا بَعْدَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حرملہ بن یحییٰ نے مجھے حدیث بیان کی، (کہا) مجھے ابن وہب نے یونس سے خبر دی نیز ابوطاہر اور محمد بن سلمہ مرادی نے کہا: ابن وہب نے یونس سے حدیث بیان کی انہوں نے ابن شہاب سے روایت کی انہوں نے کہا مجھے عروہ بن زبیر نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی انہوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیات مبارکہ میں سورج کو گرہن لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر مسجد میں تشریف لے گئے آپ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور تکبیر کہی اور لوگ آپ کے پیچھے صف بستہ ہو گئے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طویل قراءت فرمائی پھر آپ نے اللہ اکبر کہا اور ایک لمبا رکوع کیا پھر آپ نے اپنا سر اٹھایا اور سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہا پھر آپ نے قیام کیا اور ایک طویل قراءت کی یہ پہلی (قراءت) سے کچھ کم تھی پھر اللہ اکبر کہا اور کہہ کر طویل رکوع کیا یہ پہلے رکوع سے کچھ کم تھا پھر سمع اللہ لمن حمدہ ربنا ولک الحمد کہا پھر سجدہ کیا اور ابوطاہر نے (ثم سجد) (پھر آپ نے سجدہ کیا) کے الفاظ نہیں کہے۔ پھر دوسری رکعت میں بھی اسی طرح کیا حتیٰ کہ چار رکوع اور چار سجدے مکمل کیے اور آپ کے سلام پھیرنے سے پہلے سورج روشن ہو گیا پھر آپ کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطاب فرمایا اور اللہ تعالیٰ کی (ایسی) ثنا بیان کی جو اس کے شایان شان تھی پھر فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں انہیں کسی کی موت کی وجہ سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی کی وجہ سے جب تم انہیں (گرہن میں) دیکھو تو فوراً نماز کی طرف لپکو۔ آپ نے یہ بھی فرمایا: اور نماز پڑھتے رہو یہاں تک کہ اللہ تمہارے لیے کشادگی کر دے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی اس جگہ (پر ہوتے ہوئے) ہر وہ چیز دیکھ لی جس کا تمہارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا کہ میں جنت کا ایک گچھا لینا چاہتا ہوں اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا تھا کہ میں قدم آگے بڑھا رہا ہوں۔ اور (محمد بن سلمہ) مرادی نے آگے بڑھ رہا ہوں کہا۔ اور میں نے جہنم بھی دیکھی اس کا ایک حصہ دوسرے حصے کو ریزہ ریزہ کر رہا تھا یہ اس وقت جب تم نے مجھے دیکھا کہ میں پیچھے ہٹا۔ اور میں نے جہنم میں عمرو بن لحی کو دیکھا جس نے سب سے پہلے بتوں کی نذر کی اونٹنیاں چھوڑیں۔ ابوطاہر کی روایت نماز کی طرف لپکو پر ختم ہو گئی انہوں نے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2091]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 901 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو ، ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو ، وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ مُنَادِيًا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا، وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعمرو اوزاعی اور ان کے علاوہ دوسرے (راوی، دونوں میں سے ہر ایک) نے کہا: میں نے ابن شہاب زہری سے سنا، وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ نے یہ اعلان کرنے والا (ایک شخص) بھیجا کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اس پر لوگ جمع ہو گئے، آپ آگے بڑھے، تکبیر تحریمہ کہی اور چار رکوعوں اور چار سجدوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2092]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2092 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو ، ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ أَبُو عَمْرٍو ، وَغَيْرُهُ سَمِعْتُ ابْنَ شِهَابٍ الزُّهْرِيَّ يُخْبِرُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَعَثَ مُنَادِيًا الصَّلَاةُ جَامِعَةٌ فَاجْتَمَعُوا، وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعمرو اوزاعی اور ان کے علاوہ دوسرے (راوی، دونوں میں سے ہر ایک) نے کہا: میں نے ابن شہاب زہری سے سنا، وہ عروہ سے اور وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ نے یہ اعلان کرنے والا (ایک شخص) بھیجا کہ نماز جمع کرنے والی ہے۔ اس پر لوگ جمع ہو گئے، آپ آگے بڑھے، تکبیر تحریمہ کہی اور چار رکوعوں اور چار سجدوں کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2092]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 901 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، ابْنَ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَهَرَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن نمر نے خبر دی کہ انہوں نے ابن شہاب سے سنا، وہ عروہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صلاۃ الخسوف (چاند یا سورج گرہن کی نماز) میں بلند آواز سے قراءت کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کر کے نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2093]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2093 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، ابْنَ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ شِهَابٍ يُخْبِرُ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " جَهَرَ فِي صَلَاةِ الْخُسُوفِ بِقِرَاءَتِهِ، فَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبدالرحمان بن نمر نے خبر دی کہ انہوں نے ابن شہاب سے سنا، وہ عروہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دے رہے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صلاۃ الخسوف (چاند یا سورج گرہن کی نماز) میں بلند آواز سے قراءت کی اور دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کر کے نماز ادا کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2093]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 902 صحیح مسلم
الزُّهْرِيُّ ، كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(عبدالرحمان بن نمر نے ہی کہا:) زہری نے کہا: کثیر بن عباس رضی اللہ عنہ نے (اپنے بھائی حضرت عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2094]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2094 صحیح مسلم
الزُّهْرِيُّ ، كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث موقوف) قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَنَّهُ صَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(عبدالرحمان بن نمر نے ہی کہا:) زہری نے کہا: کثیر بن عباس رضی اللہ عنہ نے (اپنے بھائی حضرت عبداللہ) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے دو رکعتوں میں چار رکوع اور چار سجدے کیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2094]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 902 صحیح مسلم
حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: کثیر بن عباس رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تھے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سورج گرہن والے دن کی نماز (اسی طرح) بیان کرتے تھے جس طرح عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2095]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2095 صحیح مسلم
حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، الزُّهْرِيِّ ، كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ ، ابْنَ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا حَاجِبُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ: كَانَ كَثِيرُ بْنُ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ كَانَ يُحَدِّثُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ كَسَفَتِ الشَّمْسُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثَ عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن ولید زبیدی نے زہری سے روایت کی، انہوں نے کہا: کثیر بن عباس رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے تھے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سورج گرہن والے دن کی نماز (اسی طرح) بیان کرتے تھے جس طرح عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2095]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 901 صحیح مسلم
إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ ، أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ قَائِمًا، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ "، ثُمَّ يَرْكَعُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ "، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللَّهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء (بن ابی رباح) کو کہتے ہوئے سنا: میں نے عبید بن عمیر سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے اس شخص نے حدیث بیان کی جنہیں میں سچا سمجھتا ہوں۔ (عطاء نے کہا:) میرا خیال ہے ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ نے بڑا پر مشقت قیام کیا۔ سیدھے کھڑے ہوتے، پھر رکوع میں چلے جاتے، پھر کھڑے ہوتے۔ پھر رکوع کرتے، پھر کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے، دو رکعتیں (تین) تین رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں، پھر آپ نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہا کرتے اس کے بعد جب رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ اس کے بعد آپ (خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند نہ کسی کی موت پر بے نور ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کی زندگی پر بلکہ وہ اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے، جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو حتیٰ کہ وہ روشن ہو جائیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2096]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2096 صحیح مسلم
إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءً ، عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا إسحاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً يَقُولُ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَنْ أُصَدِّقُ حَسِبْتُهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ ، أَنَّ الشَّمْسَ انْكَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ قَائِمًا، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُومُ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ فِي ثَلَاثِ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، فَانْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، وَكَانَ إِذَا رَكَعَ، قَالَ: " اللَّهُ أَكْبَرُ "، ثُمَّ يَرْكَعُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ، قَالَ: " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ "، فَقَامَ فَحَمِدَ اللَّهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا يَكْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ، وَلَكِنَّهُمَا مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، يُخَوِّفُ اللَّهُ بِهِمَا عِبَادَهُ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفًا فَاذْكُرُوا اللَّهَ حَتَّى يَنْجَلِيَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج نے کہا: میں نے عطاء (بن ابی رباح) کو کہتے ہوئے سنا: میں نے عبید بن عمیر سے سنا، کہہ رہے تھے: مجھ سے اس شخص نے حدیث بیان کی جنہیں میں سچا سمجھتا ہوں۔ (عطاء نے کہا:) میرا خیال ہے ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد مبارک میں سورج کو گرہن لگ گیا تو آپ نے بڑا پر مشقت قیام کیا۔ سیدھے کھڑے ہوتے، پھر رکوع میں چلے جاتے، پھر کھڑے ہوتے۔ پھر رکوع کرتے، پھر کھڑے ہوتے پھر رکوع کرتے، دو رکعتیں (تین) تین رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں، پھر آپ نے سلام پھیرا تو سورج روشن ہو چکا تھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع کرتے تو اللہ اکبر کہا کرتے اس کے بعد جب رکوع کرتے اور جب سر اٹھاتے تو سمع اللہ لمن حمدہ کہتے۔ اس کے بعد آپ (خطبہ کے لیے) کھڑے ہوئے۔ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: سورج اور چاند نہ کسی کی موت پر بے نور ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی کی زندگی پر بلکہ وہ اللہ کی نشانیاں ہیں، ان کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو خوف دلاتا ہے، جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کو یاد کرو حتیٰ کہ وہ روشن ہو جائیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2096]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 901 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتادہ نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے عبید بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کسوف میں) چھ رکوعوں اور چار سجدوں پر مشتمل نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2097]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2097 صحیح مسلم
أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، أَبِي ، قَتَادَةَ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتادہ نے عطاء بن ابی رباح سے، انہوں نے عبید بن عمیر سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (کسوف میں) چھ رکوعوں اور چار سجدوں پر مشتمل نماز پڑھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْكُسُوفِ/حدیث: 2097]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة