بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: ہوا اور بادل دیکھ کر پناہ مانگنا اور بارش دیکھ کر خوش ہونے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم بارش طلب کرنے کی نماز باب: ہوا اور بادل دیکھ کر پناہ مانگنا اور بارش دیکھ کر خوش ہونے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 899 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي "، وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ: " رَحْمَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جعفر بن محمد نے عطاء بن ابی رباح سے روایت کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آندھی یا بادل کا دن ہوتا تو آپ کے چہرہ مبارک پر اس کا اثر پہچانا جا سکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اضطراب کے عالم میں) کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، پھر جب بارش برسنے شروع ہو جاتی تو آپ اس سے خوش ہو جاتے اور وہ (پہلی کیفیت) آپ سے دور ہو جاتی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (ایک بار) آپ سے (اس کا سبب) پوچھا تو آپ نے فرمایا: میں ڈر گیا کہ یہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کر دیا گیا ہو۔ اور بارش کو دیکھ لیتے تو فرماتے رحمت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2084]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2084 صحیح مسلم
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ يَوْمُ الرِّيحِ وَالْغَيْمِ، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرَّ بِهِ وَذَهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " إِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ عَذَابًا سُلِّطَ عَلَى أُمَّتِي "، وَيَقُولُ إِذَا رَأَى الْمَطَرَ: " رَحْمَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جعفر بن محمد نے عطاء بن ابی رباح سے روایت کی انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو کہتے ہوئے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آندھی یا بادل کا دن ہوتا تو آپ کے چہرہ مبارک پر اس کا اثر پہچانا جا سکتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (اضطراب کے عالم میں) کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، پھر جب بارش برسنے شروع ہو جاتی تو آپ اس سے خوش ہو جاتے اور وہ (پہلی کیفیت) آپ سے دور ہو جاتی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں نے (ایک بار) آپ سے (اس کا سبب) پوچھا تو آپ نے فرمایا: میں ڈر گیا کہ یہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کر دیا گیا ہو۔ اور بارش کو دیکھ لیتے تو فرماتے رحمت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2084]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 899 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنَ جُرَيْجٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُنَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ "، قَالَتْ: وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے: اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے ذریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر (کا طلبگار ہوں) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آپ (اضطراب کے عالم میں) کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر آتے، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، اس کے بعد جب بارش برسنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (یہ کیفیت) دور ہو جاتی، مجھے اس کیفیت کا پتہ چل گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہو سکتا ہے (یہ اسی طرح ہو) جیسے قوم عاد نے (بادلوں کو دیکھ کر) کہا تھا: «فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا» (جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2085]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2085 صحیح مسلم
أَبُو الطَّاهِرِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنَ جُرَيْجٍ ، عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ جُرَيْجٍ ، يُحَدِّثُنَا، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَصَفَتِ الرِّيحُ، قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَهَا وَخَيْرَ مَا فِيهَا وَخَيْرَ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا وَشَرِّ مَا أُرْسِلَتْ بِهِ "، قَالَتْ: وَإِذَا تَخَيَّلَتِ السَّمَاءُ تَغَيَّرَ لَوْنُهُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَأَقْبَلَ وَأَدْبَرَ، فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ، فَعَرَفْتُ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ. قَالَتْ عَائِشَةُ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ: " لَعَلَّهُ يَا عَائِشَةُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ: فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا سورة الأحقاف آية 24 ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: جب تیز ہوا چلتی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے: اے اللہ! میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوال کرتا ہوں۔ اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے ذریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر (کا طلبگار ہوں) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے اس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آپ (اضطراب کے عالم میں) کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر آتے، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے، اس کے بعد جب بارش برسنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (یہ کیفیت) دور ہو جاتی، مجھے اس کیفیت کا پتہ چل گیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! ہو سکتا ہے (یہ اسی طرح ہو) جیسے قوم عاد نے (بادلوں کو دیکھ کر) کہا تھا: «فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا» (جب انہوں نے اس (عذاب) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے کہا: یہ بادل ہے جو ہم پر برسے گا)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2085]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 899 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبَا النَّضْرِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلمان بن یسار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی پوری طرح اس طرح ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق مبارک کے اندر کا ابھرا ہوا حصہ دیکھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ انور پر عیاں ہو جاتا تو (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول! میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہو جاتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اس (بادل) کو دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس کرتی ہوں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے اس بات سے کیا چیز امن دلا سکتی ہے کہ کہیں ان میں عذاب (نہ) ہو، ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی اور ایک قوم نے عذاب کو (دور) سے دیکھا تو کہا: یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2086]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 2086 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبَا النَّضْرِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلمان بن یسار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی پوری طرح اس طرح ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق مبارک کے اندر کا ابھرا ہوا حصہ دیکھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ انور پر عیاں ہو جاتا تو (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول! میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہو جاتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اس (بادل) کو دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس کرتی ہوں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! مجھے اس بات سے کیا چیز امن دلا سکتی ہے کہ کہیں ان میں عذاب (نہ) ہو، ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی اور ایک قوم نے عذاب کو (دور) سے دیکھا تو کہا: یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2086]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة