هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، أَبُو الطَّاهِرِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَبَا النَّضْرِ ، سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا النَّضْرِ حَدَّثَهُ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهَا قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَجْمِعًا ضَاحِكًا حَتَّى أَرَى مِنْهُ لَهَوَاتِهِ، إِنَّمَا كَانَ يَتَبَسَّمُ، قَالَتْ: وَكَانَ إِذَا رَأَى غَيْمًا أَوْ رِيحًا، عُرِفَ ذَلِكَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَى النَّاسَ إِذَا رَأَوْا الْغَيْمَ فَرِحُوا رَجَاءَ أَنْ يَكُونَ فِيهِ الْمَطَرُ، وَأَرَاكَ إِذَا رَأَيْتَهُ عَرَفْتُ فِي وَجْهِكَ الْكَرَاهِيَةَ، قَالَتْ: فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ مَا يُؤَمِّنُنِي أَنْ يَكُونَ فِيهِ عَذَابٌ، قَدْ عُذِّبَ قَوْمٌ بِالرِّيحِ، وَقَدْ رَأَى قَوْمٌ الْعَذَابَ فَقَالُوا: هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلمان بن یسار نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کبھی پوری طرح اس طرح ہنستا ہوا نہیں دیکھا کہ میں آپ کے حلق مبارک کے اندر کا ابھرا ہوا حصہ دیکھ لوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے، اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثر آپ کے چہرہ انور پر عیاں ہو جاتا تو (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: اے اللہ کے رسول! میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس امید پر خوش ہو جاتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اس (بادل) کو دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس کرتی ہوں؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”عائشہ! مجھے اس بات سے کیا چیز امن دلا سکتی ہے کہ کہیں ان میں عذاب (نہ) ہو، ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی اور ایک قوم نے عذاب کو (دور) سے دیکھا تو کہا: ”یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا۔““ [صحيح مسلم/كِتَاب صَلَاةِ الِاسْتِسْقَاءِ/حدیث: 2086]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة