بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» کی فضیلت۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم قرآن کے فضائل اور متعلقہ امور باب: «قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ» کی فضیلت۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 811 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالُوا: وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کر لے؟" انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عرض کی: (کوئی شخص) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1886]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1886 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، قَتَادَةَ ، سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَبِي الدَّرْدَاءِ
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ أَنْ يَقْرَأَ فِي لَيْلَةٍ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالُوا: وَكَيْفَ يَقْرَأْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے، انہوں نے معدان بن ابی طلحہ سے، انہوں نے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "کیا تم میں سے کوئی شخص اتنا بھی نہیں کر سکتا کہ ایک رات میں تہائی قرآن کی تلاوت کر لے؟" انہوں (صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین) نے عرض کی: (کوئی شخص) تہائی قرآن کی تلاوت کیسے کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: " «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» ایک تہائی قرآن کے برابر ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1886]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 811 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا، مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابی عروبہ اور ابان عطار نے قتادہ سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، ان دونوں (سعید اور ابان) کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء (حصے) کیے ہیں اور «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» کو قرآن کے اجزاء میں سے ایک جز قرار دیا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1887]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1887 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَفَّانُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، قَتَادَةَ
وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ جَمِيعًا، عَنْ قَتَادَةَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمَا، مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِنَّ اللَّهَ جَزَّأَ الْقُرْآنَ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَجَعَلَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ جُزْءًا مِنْ أَجْزَاءِ الْقُرْآنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن ابی عروبہ اور ابان عطار نے قتادہ سے اسی سابقہ سند کے ساتھ روایت کی، ان دونوں (سعید اور ابان) کی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ فرمان ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کے تین اجزاء (حصے) کیے ہیں اور «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» کو قرآن کے اجزاء میں سے ایک جز قرار دیا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1887]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 812 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْشُدُوا، فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ: بَعْضُنَا لِبَعْضٍ، إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ: " سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن کیسان نے کہا: ہمیں ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اکھٹے ہو جاؤ! میں تمہارے سامنے ایک تہائی قرآن مجید پڑھوں گا۔" جنہوں نے جمع ہونا تھا وہ جمع ہو گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» کی قراءت فرمائی، پھر گھر میں چلے گئے، تو ہم میں سے ایک سے دوسرے نے کہا: مجھے لگتا ہے آپ کے پاس شاید آسمان سے کوئی اہم خبر آئی ہے جو آپ کو اندر لے گئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (دوبارہ) باہر تشریف لائے اور فرمایا: "میں نے تم سے کہا تھا نا کہ میں تمہیں تہائی قرآن سناؤں گا، جان لو یہ کہ (سورت) قرآن کے تیسرے حصے کے برابر ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1888]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1888 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، يَحْيَى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، أَبُو حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْشُدُوا، فَإِنِّي سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، فَحَشَدَ مَنْ حَشَدَ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ثُمَّ دَخَلَ، فَقَالَ: بَعْضُنَا لِبَعْضٍ، إِنِّي أُرَى هَذَا خَبَرٌ جَاءَهُ مِنَ السَّمَاءِ فَذَاكَ الَّذِي أَدْخَلَهُ، ثُمَّ خَرَجَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي قُلْتُ لَكُمْ: " سَأَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ، أَلَا إِنَّهَا تَعْدِلُ ثُلُثَ الْقُرْآنِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن کیسان نے کہا: ہمیں ابوحازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اکھٹے ہو جاؤ! میں تمہارے سامنے ایک تہائی قرآن مجید پڑھوں گا۔" جنہوں نے جمع ہونا تھا وہ جمع ہو گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» کی قراءت فرمائی، پھر گھر میں چلے گئے، تو ہم میں سے ایک سے دوسرے نے کہا: مجھے لگتا ہے آپ کے پاس شاید آسمان سے کوئی اہم خبر آئی ہے جو آپ کو اندر لے گئی ہے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (دوبارہ) باہر تشریف لائے اور فرمایا: "میں نے تم سے کہا تھا نا کہ میں تمہیں تہائی قرآن سناؤں گا، جان لو یہ کہ (سورت) قرآن کے تیسرے حصے کے برابر ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1888]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 812 صحیح مسلم
وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} سورة الإخلاص آية 1-2 حَتَّى خَتَمَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسماعیل بشیر نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: "میں تمہارے سامنے تہائی قرآن کی قراءت کرتا ہوں۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ اللَّہُ الصَّمَدُ» پڑھا یہاں تک کہ اس (سورت) کو ختم کر دیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1889]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1889 صحیح مسلم
وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل ، أَبِي حَازِمٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
وحَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ بَشِيرٍ أَبِي إِسْمَاعِيل ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " أَقْرَأُ عَلَيْكُمْ ثُلُثَ الْقُرْآنِ؟ فَقَرَأَ: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ {1} اللَّهُ الصَّمَدُ {2} سورة الإخلاص آية 1-2 حَتَّى خَتَمَهَا ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابواسماعیل بشیر نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر نکل کر ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: "میں تمہارے سامنے تہائی قرآن کی قراءت کرتا ہوں۔" پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ اللَّہُ الصَّمَدُ» پڑھا یہاں تک کہ اس (سورت) کو ختم کر دیا۔ [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1889]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 813 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَكَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ، وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَلُوهُ، لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: " لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ "، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرہ بنت عبدالرحمن نے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک مہم کا امیر بنا کر روانہ فرمایا، وہ اپنے ساتھیوں کی نماز میں قراءت کرتا اور (اس کا) اختتام «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» سے کرتا تھا۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کیا۔ آپ نے فرمایا: "اسے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟" صحابہ کرام نے پوچھا تو اس نے جواب دیا: اس لیے کہ یہ رحمن (جل وعلا) کی صفت ہے، اس لیے مجھے اس بات سے محبت ہے کہ میں اس کی قراءت کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اسے بتا دو! اللہ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1890]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1890 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، عَنْ أُمِّهِ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَكَانَتْ فِي حَجْرِ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " بَعَثَ رَجُلًا عَلَى سَرِيَّةٍ، وَكَانَ يَقْرَأُ لِأَصْحَابِهِ فِي صَلَاتِهِمْ فَيَخْتِمُ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ فَلَمَّا رَجَعُوا، ذُكِرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: سَلُوهُ، لِأَيِّ شَيْءٍ يَصْنَعُ ذَلِكَ؟ فَسَأَلُوهُ، فَقَالَ: " لِأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمَنِ "، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَخْبِرُوهُ أَنَّ اللَّهَ يُحِبُّهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرہ بنت عبدالرحمن نے، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی پرورش میں تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک آدمی کو ایک مہم کا امیر بنا کر روانہ فرمایا، وہ اپنے ساتھیوں کی نماز میں قراءت کرتا اور (اس کا) اختتام «قُلْ ہُوَ اللَّہُ أَحَدٌ» سے کرتا تھا۔ جب وہ لوگ واپس آئے تو انہوں نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کیا۔ آپ نے فرمایا: "اسے پوچھو، وہ ایسا کیوں کرتا تھا؟" صحابہ کرام نے پوچھا تو اس نے جواب دیا: اس لیے کہ یہ رحمن (جل وعلا) کی صفت ہے، اس لیے مجھے اس بات سے محبت ہے کہ میں اس کی قراءت کروں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: "اسے بتا دو! اللہ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔" [صحيح مسلم/کتاب فَضَائِلِ الْقُرْآنِ وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهِ/حدیث: 1890]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة