بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: عصر اول وقت پڑھنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم مسجدوں اور نماز کی جگہ کے احکام باب: عصر اول وقت پڑھنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 18
حدیث نمبر: 621 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ: فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: لیث نے ہمیں ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز (ایسے وقت میں) پڑھتے تھے جب سورج بلند اور زندہ (روشنی میں کمی کے بغیر) ہوتا تھا، عوالی کی طرف جانے والا (عصر پڑھ کر) چلتا اور عوالی (مدینہ کے بالائی حصے کی بستیوں میں) پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ یہ بستیاں مدینہ سے دو تا آٹھ میل کی مسافت پر تھیں۔ قتیبہ نے (اپنی حدیث میں) عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1408]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1408 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، لَيْثٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، اللَّيْثُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح، قَالَ: وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ، فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي، فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ "، وَلَمْ يَذْكُرْ قُتَيْبَةُ: فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا: لیث نے ہمیں ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز (ایسے وقت میں) پڑھتے تھے جب سورج بلند اور زندہ (روشنی میں کمی کے بغیر) ہوتا تھا، عوالی کی طرف جانے والا (عصر پڑھ کر) چلتا اور عوالی (مدینہ کے بالائی حصے کی بستیوں میں) پہنچتا تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔ یہ بستیاں مدینہ سے دو تا آٹھ میل کی مسافت پر تھیں۔ قتیبہ نے (اپنی حدیث میں) عوالی پہنچنے کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1408]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 621 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے (آگے) بالکل (اوپر کی) روایت کے مطابق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1409]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1409 صحیح مسلم
هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرٌو ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ، بِمِثْلِهِ سَوَاءً.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تھے (آگے) بالکل (اوپر کی) روایت کے مطابق ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1409]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 621 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے، پھر جانے والا قباء جاتا، ان لوگوں کے پاس پہنچتا اور سورج ابھی اونچا ہوتا۔ (قباء مدینہ سے دو میل کی مسافت پر ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1410]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1410 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى قُبَاءٍ، فَيَأْتِيهِمْ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
امام مالک نے ابن شہاب سے، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ہم عصر کی نماز پڑھتے تھے، پھر جانے والا قباء جاتا، ان لوگوں کے پاس پہنچتا اور سورج ابھی اونچا ہوتا۔ (قباء مدینہ سے دو میل کی مسافت پر ہے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1410]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 621 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم عصر کی نماز پڑھتے، پھر ایک انسان بنو عمرو بن عوف کے محلے (قباء میں) جاتا تو انہیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1411]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1411 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، مَالِكٍ ، إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ الإِنْسَانُ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ، فَيَجِدُهُمْ يُصَلُّونَ الْعَصْرَ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ہم عصر کی نماز پڑھتے، پھر ایک انسان بنو عمرو بن عوف کے محلے (قباء میں) جاتا تو انہیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1411]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 622 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ، حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ، وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ، فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا "، لَا يَذْكُرُ: اللَّهَ فِيهَا، إِلَّا قَلِيلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علاء بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے ان سے عرض کی: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو عصر پڑھ لو۔ ہم نے اٹھ کر (عصر کی) نماز پڑھ لی، جب ہم فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ منافق کی نماز ہے، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ (جب وہ زرد پڑ کر) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس (نماز) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1412]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1412 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فِي دَارِهِ بِالْبَصْرَةِ، حِينَ انْصَرَفَ مِنَ الظُّهْرِ، وَدَارُهُ بِجَنْبِ الْمَسْجِدِ، فَلَمَّا دَخَلْنَا عَلَيْهِ، قَالَ: أَصَلَّيْتُمُ الْعَصْرَ؟ فَقُلْنَا لَهُ: إِنَّمَا انْصَرَفْنَا السَّاعَةَ مِنَ الظُّهْرِ، قَالَ: فَصَلُّوا الْعَصْرَ، فَقُمْنَا فَصَلَّيْنَا، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " تِلْكَ صَلَاةُ الْمُنَافِقِ، يَجْلِسُ يَرْقُبُ الشَّمْسَ، حَتَّى إِذَا كَانَتْ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ قَامَ، فَنَقَرَهَا أَرْبَعًا "، لَا يَذْكُرُ: اللَّهَ فِيهَا، إِلَّا قَلِيلًا.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
علاء بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ وہ ظہر کی نماز سے فارغ ہو کر حضرت انس رضی اللہ عنہ کے ہاں بصرہ میں ان کے گھر حاضر ہوئے، ان کا گھر مسجد کے پہلو میں تھا، جب ہم ان کی خدمت میں پہنچے تو انہوں نے پوچھا: کیا تم لوگوں نے عصر کی نماز پڑھ لی ہے؟ ہم نے ان سے عرض کی: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر لوٹے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: تو عصر پڑھ لو۔ ہم نے اٹھ کر (عصر کی) نماز پڑھ لی، جب ہم فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: یہ منافق کی نماز ہے، وہ بیٹھا ہوا سورج کو دیکھتا رہتا ہے یہاں تک کہ (جب وہ زرد پڑ کر) شیطان کے دو سینگوں کے درمیان چلا جاتا ہے تو کھڑا ہو کر اس (نماز) کی چار ٹھونگیں مار دیتا ہے اور اس میں اللہ کو بہت ہی کم یاد کرتا ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1412]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 623 صحیح مسلم
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، يَقُولُ: " صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: " الْعَصْرُ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انہیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا، میں نے پوچھا: چچا جان! یہ کون سی نماز ہے جو آپ نے پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: عصر کی ہے، اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1413]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1413 صحیح مسلم
مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
وحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُثْمَانِ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ ، يَقُولُ: " صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا، حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْنَاهُ يُصَلِّي الْعَصْرَ، فَقُلْتُ: يَا عَمِّ، مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ الَّتِي صَلَّيْتَ؟ قَالَ: " الْعَصْرُ، وَهَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، الَّتِي كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوامامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھی، پھر ہم باہر نکلے اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ہم نے انہیں عصر کی نماز پڑھتے ہوئے پایا، میں نے پوچھا: چچا جان! یہ کون سی نماز ہے جو آپ نے پڑھی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: عصر کی ہے، اور یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز ہے جو ہم آپ کے ساتھ پڑھا کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1413]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 624 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، عَمْرٌو ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيّ ، حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، الْمُرَادِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنَا وقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيّحَدَّثَهُ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا، قَالَ: نَعَمْ، فَانْطَلَقَ، وَانْطَلَقْنَا مَعَه، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ، فَنُحِرَتْ، ثُمَّ قُطِّعَتْ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا، ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ "، وقَالَ الْمُرَادِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن سواد عامری، محمد بن سلمہ مرادی اور احمد بن عیسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اس سب کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ عمرو نے کہا: ہمیں خبر دی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی، ابن وہب نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی کہ موسیٰ بن سعد انصاری نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حفص بن عبیداللہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو جب آپ فارغ ہوئے، آپ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنا اونٹ نحر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس موقع پر موجود ہوں۔ آپ نے فرمایا: اچھا۔ آپ نکل پڑے، ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے، ہم نے دیکھا، اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا، اسے ذبح کیا گیا، پھر اس کا گوشت کاٹا گیا، پھر اس میں سے کچھ پکایا گیا، پھر ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے (اسے) کھا لیا۔ مرادی کا قول ہے کہ ہمیں یہ حدیث ابن وہب نے ابن لہیعہ اور عمرو بن حارث دونوں سے روایت کرتے ہوئے سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1414]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1414 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، عَمْرٌو ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيّ ، حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، الْمُرَادِيُّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ الْعَامِرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ، قَالَ عَمْرٌو : أَخْبَرَنَا وقَالَ الآخَرَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنَ سَعْدٍ الأَنْصَارِيّحَدَّثَهُ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلِمَةَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهَا، قَالَ: نَعَمْ، فَانْطَلَقَ، وَانْطَلَقْنَا مَعَه، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ تُنْحَرْ، فَنُحِرَتْ، ثُمَّ قُطِّعَتْ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا، ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ "، وقَالَ الْمُرَادِيُّ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، فِي هَذَا الْحَدِيثِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن سواد عامری، محمد بن سلمہ مرادی اور احمد بن عیسیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی۔ اس سب کے الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ عمرو نے کہا: ہمیں خبر دی اور باقی دونوں نے کہا: ہمیں حدیث سنائی، ابن وہب نے کہا: مجھے عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے خبر دی کہ موسیٰ بن سعد انصاری نے انہیں حدیث بیان کی، انہوں نے حفص بن عبیداللہ سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی تو جب آپ فارغ ہوئے، آپ کے پاس بنو سلمہ کا ایک آدمی آیا اور کہا: اللہ کے رسول! ہم اپنا اونٹ نحر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں آپ بھی اس موقع پر موجود ہوں۔ آپ نے فرمایا: اچھا۔ آپ نکل پڑے، ہم بھی آپ کے ساتھ چل پڑے، ہم نے دیکھا، اونٹ ابھی ذبح نہیں کیا گیا تھا، اسے ذبح کیا گیا، پھر اس کا گوشت کاٹا گیا، پھر اس میں سے کچھ پکایا گیا، پھر ہم نے سورج غروب ہونے سے پہلے (اسے) کھا لیا۔ مرادی کا قول ہے کہ ہمیں یہ حدیث ابن وہب نے ابن لہیعہ اور عمرو بن حارث دونوں سے روایت کرتے ہوئے سنائی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1414]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 625 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الأَوْزَاعِيُّ ، أَبِي النَّجَاشِيِّ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا، قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے ابونجاشی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا، اس کے دس حصے کیے جاتے، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1415]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1415 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الأَوْزَاعِيُّ ، أَبِي النَّجَاشِيِّ ، رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، عَنْ أَبِي النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ، فَتُقْسَمُ عَشَرَ قِسَمٍ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا، قَبْلَ مَغِيبِ الشَّمْسِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ہمیں ولید بن مسلم نے حدیث سنائی، کہا: اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے ابونجاشی سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا، کہہ رہے تھے: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عصر کی نماز پڑھتے، پھر اونٹ ذبح کیا جاتا، اس کے دس حصے کیے جاتے، پھر ہم اسے پکاتے اور سورج کے غروب ہونے سے پہلے ہم اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھا لیتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1415]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 625 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق الدِّمَشْقِيُّ ، الأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: كُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ الْعَصْرِ، وَلَمْ يَقُلْ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس اور شعیب بن اسحاق دمشقی نے خبر دی، ان دونوں نے کہا: ہمیں اوزاعی نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی، البتہ انہوں (اسحاق) نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں عصر کے بعد اونٹ ذبح کرتے تھے، نہیں کہا: ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1416]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1416 صحیح مسلم
إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق الدِّمَشْقِيُّ ، الأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، وَشُعَيْبُ بْنُ إِسْحَاق الدِّمَشْقِيُّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ، قَالَ: كُنَّا نَنْحَرُ الْجَزُورَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بَعْدَ الْعَصْرِ، وَلَمْ يَقُلْ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابراہیم نے کہا: ہمیں عیسیٰ بن یونس اور شعیب بن اسحاق دمشقی نے خبر دی، ان دونوں نے کہا: ہمیں اوزاعی نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی، البتہ انہوں (اسحاق) نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں عصر کے بعد اونٹ ذبح کرتے تھے، نہیں کہا: ہم آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاة/حدیث: 1416]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة