بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: سجدوں کی فضیلت اور اس کی ترغیب۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نماز کے احکام و مسائل باب: سجدوں کی فضیلت اور اس کی ترغیب۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 488 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الأَوْزَاعِيَّ ، الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، ثَوْبَانَ ، مَعْدَانُ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، قَالَ: " لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ، يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ أَوَ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَسَكَت، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً "، قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ، مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے، یا انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو، تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کی (اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا، انہوں نے خاموشی اختیار کی، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا: تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا۔ معدان نے کہا: پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے (یہی) سوال کیا، انہوں نے بھی مجھے وہی کہا جو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1093]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1093 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، الأَوْزَاعِيَّ ، الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، ثَوْبَانَ ، مَعْدَانُ ، أَبَا الدَّرْدَاءِ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ هِشَامٍ الْمُعَيْطِيُّ ، حَدَّثَنِي مَعْدَانُ بْنُ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمَرِيُّ ، قَالَ: " لَقِيتُ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ أَعْمَلُهُ، يُدْخِلُنِي اللَّهُ بِهِ الْجَنَّةَ؟ أَوَ قَالَ: قُلْتُ: بِأَحَبِّ الأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ، فَسَكَتَ، ثُمَّ سَأَلْتُهُ، فَسَكَت، ثُمَّ سَأَلْتُهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: سَأَلْتُ عَنْ ذَلِكَ، رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " عَلَيْكَ بِكَثْرَةِ السُّجُودِ لِلَّهِ، فَإِنَّكَ لَا تَسْجُدُ لِلَّهِ سَجْدَةً، إِلَّا رَفَعَكَ اللَّهُ بِهَا دَرَجَةً وَحَطَّ عَنْكَ بِهَا خَطِيئَةً "، قَالَ مَعْدَانُ : ثُمَّ لَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ، مَا قَالَ لِي ثَوْبَانُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
معدان بن ابی طلحہ یعمری نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ سے ملا تو میں نے کہا: مجھے کوئی ایسا عمل بتائیے جسے کروں تو اللہ اس کی وجہ سے مجھے جنت میں داخل فرما دے، یا انہوں نے کہا: میں نے پوچھا: جو عمل اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہو، تو ثوبان رضی اللہ عنہ نے خاموشی اختیار کی (اور میری بات کا کوئی جواب نہ دیا) پھر میں نے دوبارہ ان سے سوال کیا، انہوں نے خاموشی اختیار کی، پھر میں نے ان سے تیسری دفعہ یہی سوال کیا تو انہوں نے کہا: میں نے یہی سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا تھا تو آپ نے فرمایا تھا: تم اللہ کے حضور کثرت سے سجدے کیا کرو کیونکہ تم اللہ کے لیے جو بھی سجدہ کرو گے اللہ اس کے نتیجے میں تمہارا درجہ ضرور بلند کرے گا اور تمہارا کوئی گناہ معاف کر دے گا۔ معدان نے کہا: پھر میں ابوالدرداء رضی اللہ عنہ سے ملا تو ان سے (یہی) سوال کیا، انہوں نے بھی مجھے وہی کہا جو ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1093]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 489 صحیح مسلم
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، الأَوْزَاعِيَّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: " كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي: سَلْ، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ، بِكَثْرَةِ السُّجُودِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ربیعہ بن کعب (بن مالک) اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (خدمت کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (صفہ میں آپ کے قریب) رات گزارا کرتا تھا، (جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ (ایک مرتبہ) آپ نے مجھے فرمایا: (کچھ) مانگو۔ تو میں نے عرض کی: میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ نے فرمایا: یا اس کے سوا کچھ اور؟ میں نے عرض کی: بس یہی۔ تو آپ نے فرمایا: تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1094]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1094 صحیح مسلم
الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، الأَوْزَاعِيَّ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبُو سَلَمَةَ ، رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ
حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى أَبُو صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا هِقْلُ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ الأَوْزَاعِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ كَعْبٍ الأَسْلَمِيُّ ، قَالَ: " كُنْتُ أَبِيتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَيْتُهُ بِوَضُوئِهِ وَحَاجَتِهِ، فَقَالَ لِي: سَلْ، فَقُلْتُ: أَسْأَلُكَ مُرَافَقَتَكَ فِي الْجَنَّةِ؟ قَالَ: أَوْ غَيْرَ ذَلِكَ، قُلْتُ: هُوَ ذَاكَ، قَالَ: فَأَعِنِّي عَلَى نَفْسِكَ، بِكَثْرَةِ السُّجُودِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ربیعہ بن کعب (بن مالک) اسلمی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (خدمت کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ (صفہ میں آپ کے قریب) رات گزارا کرتا تھا، (جب آپ تہجد کے لیے اٹھتے تو) میں وضو کا پانی اور دوسری ضروریات لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ (ایک مرتبہ) آپ نے مجھے فرمایا: (کچھ) مانگو۔ تو میں نے عرض کی: میں آپ سے یہ چاہتا ہوں کہ جنت میں بھی آپ کی رفاقت نصیب ہو۔ آپ نے فرمایا: یا اس کے سوا کچھ اور؟ میں نے عرض کی: بس یہی۔ تو آپ نے فرمایا: تم اپنے معاملے میں سجدوں کی کثرت سے میری مدد کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1094]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة