بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: قراءت سننے کا حکم۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نماز کے احکام و مسائل باب: قراءت سننے کا حکم۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 4
حدیث نمبر: 448 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلهم، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ، كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ، وَشَفَتَيْهِ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 أَخْذَهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 17 إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، قَالَ: أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19، أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن عبدالحمید نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وَلَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ» آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں کے بارے میں روایت بیان کی، کہا: جب جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ (اس کو پڑھنے کے لیے ساتھ ساتھ) اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ (کے چہرے) سے معلوم ہو جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: آپ اس (وحی کے پڑھنے) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں۔ بے شک اس کو (آپ کے دل میں) سمیٹ رکھنا اور (آپ کی زبان سے) اس کی قراءت ہمارا ذمہ ہے۔ یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کے سینہ مبارک میں جمع کریں اور اس کی قراءت (بھی ہمارے ذمے ہے) تاکہ آپ قراءت کریں۔ پھر جب ہم اسے پڑھیں (فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں۔ فرمایا: یعنی ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں۔ اس کا واضح کر دینا بھی یقیناً ہمارے ذمے ہے کہ آپ کی زبان اس (لوگوں کے سامنے) بیان کر دے، پھر جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس (وحی لے کر) آتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو اللہ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1004]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1004 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، جَرِيرٍ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ كلهم، عَنْ جَرِيرٍ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ، كَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ، وَشَفَتَيْهِ، فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ، فَكَانَ ذَلِكَ يُعْرَفُ مِنْهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16 أَخْذَهُ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 17 إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ فَتَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، قَالَ: أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ لَهُ إِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهُ سورة القيامة آية 19، أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ، فَكَانَ إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ أَطْرَقَ، فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا وَعَدَهُ اللَّهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
جریر بن عبدالحمید نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وَلَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ» آپ اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دیں تاکہ اسے جلدی حاصل کر لیں کے بارے میں روایت بیان کی، کہا: جب جبرائیل علیہ السلام نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس وحی لے کر آتے تو آپ (اس کو پڑھنے کے لیے ساتھ ساتھ) اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو حرکت دیتے تھے، ایسا کرنا آپ پر گراں گزرتا تھا اور یہ آپ (کے چہرے) سے معلوم ہو جاتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کیں: آپ اس (وحی کے پڑھنے) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں۔ بے شک اس کو (آپ کے دل میں) سمیٹ رکھنا اور (آپ کی زبان سے) اس کی قراءت ہمارا ذمہ ہے۔ یعنی ہمارا ذمہ ہے کہ ہم اسے آپ کے سینہ مبارک میں جمع کریں اور اس کی قراءت (بھی ہمارے ذمے ہے) تاکہ آپ قراءت کریں۔ پھر جب ہم اسے پڑھیں (فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں۔ فرمایا: یعنی ہم اس کو نازل کریں تو آپ اس کو غور سے سنیں۔ اس کا واضح کر دینا بھی یقیناً ہمارے ذمے ہے کہ آپ کی زبان اس (لوگوں کے سامنے) بیان کر دے، پھر جب جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس (وحی لے کر) آتے تو آپ سر جھکا کر غور سے سنتے اور جب وہ چلے جاتے تو اللہ کے وعدے کے مطابق آپ اس کی قراءت فرماتے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1004]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 448 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْله: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا، كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} سورة القيامة آية 16-17، قَالَ: جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، قَالَ: فَاسْتَمِعْ، وَأَنْصِتْ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ، قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا أَقْرَأَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(جریر بن عبدالحمید کے بجائے) ابوعوانہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان: آپ اس (وحی کو پڑھنے) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں کے بارے میں روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وحی کے نزول کی وجہ سے بہت مشقت برداشت کرتے، آپ (ساتھ ساتھ) اپنے ہونٹ ہلاتے تھے (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں، تو انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی اور سعید بن جبیر نے (اپنے شاگرد سے) کہا: میں اپنے ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما انہیں ہلاتے تھے، پھر اپنے ہونٹ ہلائے) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: آپ اس (وحی کو پڑھنے) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں۔ بے شک ہمارا ذمہ ہے اس کو (آپ کے دل میں) سمیٹ کر رکھنا اور (آپ کی زبان سے) اس کی قراءت۔ کہا: آپ کے سینے میں اسے جمع کرنا، پھر یہ کہ آپ اسے پڑھیں۔ پھر جب ہم پڑھیں (فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یعنی اس کو غور سے سنیں اور خاموش رہیں، پھر ہمارے ذمے ہے کہ آپ اس کی قراءت کریں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام (وحی لے کر) آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تو آپ اسے اسی طرح پڑھتے جس طرح انہوں نے آپ کو پڑھایا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1005]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1005 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، أَبُو عَوَانَةَ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْله: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ سورة القيامة آية 16، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يُعَالِجُ مِنَ التَّنْزِيلِ شِدَّةً، كَانَ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ، فَقَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا، كَمَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُهُمَا، فَقَالَ سَعِيدٌ: أَنَا أُحَرِّكُهُمَا، كَمَا كَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُحَرِّكُهُمَا، فَحَرَّكَ شَفَتَيْهِ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ {16} إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَقُرْءَانَهُ {17} سورة القيامة آية 16-17، قَالَ: جَمْعَهُ فِي صَدْرِكَ، ثُمَّ تَقْرَؤُهُ فَإِذَا قَرَأْنَاهُ فَاتَّبِعْ قُرْءَانَهُ سورة القيامة آية 18، قَالَ: فَاسْتَمِعْ، وَأَنْصِتْ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا أَنْ تَقْرَأَهُ، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذَا أَتَاهُ جِبْرِيلُ اسْتَمَعَ، فَإِذَا انْطَلَقَ جِبْرِيلُ، قَرَأَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَمَا أَقْرَأَهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(جریر بن عبدالحمید کے بجائے) ابوعوانہ نے موسیٰ بن ابی عائشہ سے، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ کے فرمان: آپ اس (وحی کو پڑھنے) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں کے بارے میں روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وحی کے نزول کی وجہ سے بہت مشقت برداشت کرتے، آپ (ساتھ ساتھ) اپنے ہونٹ ہلاتے تھے (ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے کہا: میں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح ہونٹ ہلا کر دکھاتا ہوں، تو انہوں نے اپنے ہونٹوں کو حرکت دی اور سعید بن جبیر نے (اپنے شاگرد سے) کہا: میں اپنے ہونٹوں کو اسی طرح ہلاتا ہوں جس طرح ابن عباس رضی اللہ عنہما انہیں ہلاتے تھے، پھر اپنے ہونٹ ہلائے) اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: آپ اس (وحی کو پڑھنے) کے لیے اپنی زبان کو نہ ہلائیں کہ آپ اسے جلد سیکھ لیں۔ بے شک ہمارا ذمہ ہے اس کو (آپ کے دل میں) سمیٹ کر رکھنا اور (آپ کی زبان سے) اس کی قراءت۔ کہا: آپ کے سینے میں اسے جمع کرنا، پھر یہ کہ آپ اسے پڑھیں۔ پھر جب ہم پڑھیں (فرشتہ ہماری طرف سے تلاوت کرے) تو آپ اس کے پڑھنے کی اتباع کریں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: یعنی اس کو غور سے سنیں اور خاموش رہیں، پھر ہمارے ذمے ہے کہ آپ اس کی قراءت کریں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اس کے بعد جب آپ کے پاس جبرائیل علیہ السلام (وحی لے کر) آتے تو آپ غور سے سنتے اور جب جبرائیل علیہ السلام چلے جاتے تو آپ اسے اسی طرح پڑھتے جس طرح انہوں نے آپ کو پڑھایا ہوتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1005]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة