بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: جب فتنہ کا اندیشہ ہو تو جہری نمازوں میں قراءت درمیانی آواز سے کرنے کا بیان۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم نماز کے احکام و مسائل باب: جب فتنہ کا اندیشہ ہو تو جہری نمازوں میں قراءت درمیانی آواز سے کرنے کا بیان۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 446 صحیح مسلم
أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، هُشَيْمٍ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم متوار بمكة، فكان إذا صلى بأصحابه، رفع صوته بالقرآن، فإذا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ، سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ قِرَاءَتَكَ، وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ، أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ، وَلَا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا، يَقُولُ: بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا» اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں کے بارے میں روایت کی، انہوں نے کہا: یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں پوشیدہ (عبادت کرتے) تھے۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہدایت کی: اپنی نماز میں (آواز کو اس قدر) بلند نہ کریں کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے اور نہ اس (کی آواز) کو پست کریں اپنے ساتھیوں سے، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیادہ اونچی نہ کریں اور ان (دونوں) کے درمیان کی راہ اختیار کریں۔ (اللہ تعالیٰ) فرماتا ہے: بلند اور آہستہ کے درمیان (میں رہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1001]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1001 صحیح مسلم
أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، هُشَيْمٍ ، أَبُو بِشْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جميعا، عَنْ هُشَيْمٍ ، قَالَ ابْنُ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَ: نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و آله وسلم متوار بمكة، فكان إذا صلى بأصحابه، رفع صوته بالقرآن، فإذا سَمِعَ ذَلِكَ الْمُشْرِكُونَ، سَبُّوا الْقُرْآنَ، وَمَنْ أَنْزَلَهُ، وَمَنْ جَاءَ بِهِ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ سورة الإسراء آية 110، فَيَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ قِرَاءَتَكَ، وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110 عَنْ أَصْحَابِكَ، أَسْمِعْهُمُ الْقُرْآنَ، وَلَا تَجْهَرْ ذَلِكَ الْجَهْرَ، وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا، يَقُولُ: بَيْنَ الْجَهْرِ وَالْمُخَافَتَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: «وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا» اور اپنی نماز نہ بلند آواز سے پڑھیں اور نہ اسے پست کریں کے بارے میں روایت کی، انہوں نے کہا: یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکہ میں پوشیدہ (عبادت کرتے) تھے۔ جب آپ اپنے ساتھیوں کو جماعت کراتے تو قراءت بلند آواز سے کرتے تھے، مشرک جب یہ قراءت سنتے تو قرآن کو، اس کے نازل کرنے والے کو اور اس کے لانے والے کو برا بھلا کہتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہدایت کی: اپنی نماز میں (آواز کو اس قدر) بلند نہ کریں کہ آپ کی قراءت مشرکوں کو سنائی دے اور نہ اس (کی آواز) کو پست کریں اپنے ساتھیوں سے، انہیں قرآن سنائیں اور آواز اتنی زیادہ اونچی نہ کریں اور ان (دونوں) کے درمیان کی راہ اختیار کریں۔ (اللہ تعالیٰ) فرماتا ہے: بلند اور آہستہ کے درمیان (میں رہیں)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1001]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 447 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَتْ: أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان: نہ اپنی نماز میں (قراءت) بلند کریں اور نہ آہستہ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1002]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1002 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّاءَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: وَلا تَجْهَرْ بِصَلاتِكَ وَلا تُخَافِتْ بِهَا سورة الإسراء آية 110، قَالَتْ: أُنْزِلَ هَذَا فِي الدُّعَاءِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن زکریا نے ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے اسی فرمان: نہ اپنی نماز میں (قراءت) بلند کریں اور نہ آہستہ کے بارے میں روایت کی کہ انہوں (عائشہ رضی اللہ عنہا) نے کہا کہ یہ آیت دعا کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1002]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 447 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، وَوَكِيعٌ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَكِيعٌ . ح قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید، ابواسامہ، وکیع اور ابومعاویہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ہشام سے اسی سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1003]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 1003 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبُو أُسَامَةَ ، وَوَكِيعٌ ، أَبُو كُرَيْبٍ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ . ح قَالَ: وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَوَكِيعٌ . ح قَالَ أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ كُلُّهُمْ، عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حماد بن زید، ابواسامہ، وکیع اور ابومعاویہ نے اپنی اپنی سند کے ساتھ ہشام سے اسی سابقہ سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 1003]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة