أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّهُمَا سَمِعَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " التَّسْبِيحُ لِلرِّجَالِ وَالتَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ "، زَادَ حَرْمَلَةُ فِي رِوَايَتِهِ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَقَدْ رَأَيْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يُسَبِّحُونَ وَيُشِيرُونَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی، انہوں نے ابوسلمہ سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی، نیز ہارون بن معروف اور حرملہ بن یحییٰ نے کہا: ہمیں ابن وہب نے بتایا، انہوں نے کہا: مجھے یونس نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”(امام کو متنبہ کرنے کا طریقہ) مردوں کے لیے تسبیح (سبحان اللہ کہنا) ہے اور عورتوں کے لیے ہاتھ پر ہاتھ مارنا ہے۔“ حرملہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا کہ ابن شہاب نے کہا: میں نے علم والے لوگوں کو دیکھا، وہ تسبیح کہتے تھے اور اشارہ کرتے تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 954]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة