زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حُمَيْدٌ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي رَافِعٍ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، قَالَ حُمَيْدٌ حَدَّثَنَا. ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنَّهُ لَقِيَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي طَرِيقٍ مِنْ طُرُقِ الْمَدِينَةِ، وَهُوَ جُنُبٌ، فَانْسَلَّ، فَذَهَبَ فَاغْتَسَلَ، فَتَفَقَّدَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا جَاءَهُ، قَالَ: أَيْنَ كُنْتَ يَا أَبَا هُرَيْرَةَ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَقِيتَنِي وَأَنَا جُنُبٌ، فَكَرِهْتُ أَنْ أُجَالِسَكَ حَتَّى أَغْتَسِلَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَنْجُسُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ کے راستوں میں سے کسی راستے پر انہیں ملے تو وہ کھسک گئے اور جا کر غسل کیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں تلاش کروایا۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا: ”ابوہریرہ! تم کہاں تھے؟“ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! جب آپ مجھے ملے تو میں جنابت کی حالت میں تھا، میں نے غسل کیے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! مومن ناپاک (نجس) نہیں ہوتا۔“ (یعنی اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ اسے کوئی چھو جائے، قریب بیٹھے یا اس سے ہاتھ ملائے تو وہ بھی ناپاک ہو جائے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 824]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة