بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: حائضہ کا غسل کرنے کے بعد مشک لگا روئی کا ٹکڑا خون کی جگہ میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم حیض کے احکام و مسائل باب: حائضہ کا غسل کرنے کے بعد مشک لگا روئی کا ٹکڑا خون کی جگہ میں استعمال کرنا مستحب ہے۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 10
حدیث نمبر: 332 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنَ حَيْضَتِهَا؟ قَالَ: فَذَكَرَتْ أَنَّهُ عَلَّمَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرُ بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: تَطَهَّرِي بِهَا سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاسْتَتَرَ "، وَأَشَارَ لَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ، وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی، عمرو نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: وہ غسل حیض کیسے کرے؟ کہا: پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا (اور فرمایا) پھر وہ کستوری سے (معطر) کپڑے کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے۔ عورت نے کہا: میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔ اور آپ نے (حیا سے) چہرہ چھپا کر دکھایا۔ صفیہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا (کہنا) چاہتے ہیں تو میں نے کہا: اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو۔ ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں کہا: اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 748]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 748 صحیح مسلم
عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، ابْنِ عُيَيْنَةَ ، مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ عَمْرٌو، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مَنْصُورِ ابْنِ صَفِيَّةَ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " سَأَلَتِ امْرَأَةٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ مِنَ حَيْضَتِهَا؟ قَالَ: فَذَكَرَتْ أَنَّهُ عَلَّمَهَا كَيْفَ تَغْتَسِلُ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مِنْ مِسْكٍ فَتَطَهَّرُ بِهَا، قَالَتْ: كَيْفَ أَتَطَهَّرُ بِهَا؟ قَالَ: تَطَهَّرِي بِهَا سُبْحَانَ اللَّهِ، وَاسْتَتَرَ "، وَأَشَارَ لَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ بِيَدِهِ عَلَى وَجْهِهِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: وَاجْتَذَبْتُهَا إِلَيَّ، وَعَرَفْتُ مَا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا أَثَرَ الدَّمِ، وَقَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: فَقُلْتُ: تَتَبَّعِي بِهَا آثَارَ الدَّمِ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی، عمرو نے کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے، انہوں نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، انہوں نے کہا: ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: وہ غسل حیض کیسے کرے؟ کہا: پھر عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا (اور فرمایا) پھر وہ کستوری سے (معطر) کپڑے کا ایک ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے۔ عورت نے کہا: میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔ اور آپ نے (حیا سے) چہرہ چھپا کر دکھایا۔ صفیہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کیا (کہنا) چاہتے ہیں تو میں نے کہا: اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو۔ ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں کہا: اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 748]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 332 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَنْصُورٌ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ؟ فَقَالَ: خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَوَضَّئِي بِهَا "، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہیب نے کہا: ہمیں منصور نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ میں پاکیزگی (کے حصول) کے لیے کیسے غسل کروں؟ تو آپ نے فرمایا: کستوری سے معطر کپڑے کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔ پھر سفیان کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 749]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 749 صحیح مسلم
أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَبَّانُ ، وُهَيْبٌ ، مَنْصُورٌ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ امْرَأَةً، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَيْفَ أَغْتَسِلُ عِنْدَ الطُّهْرِ؟ فَقَالَ: خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَوَضَّئِي بِهَا "، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
وہیب نے کہا: ہمیں منصور نے اپنی والدہ (صفیہ بنت شیبہ) سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ میں پاکیزگی (کے حصول) کے لیے کیسے غسل کروں؟ تو آپ نے فرمایا: کستوری سے معطر کپڑے کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔ پھر سفیان کی طرح حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 749]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 332 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، صَفِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ أَسْمَاءَ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ: تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا، فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا، حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَطَهَّرُ بِهَا، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِينَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: تَأْخُذُ مَاءً، فَتَطَهَّرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ، نِسَاءُ الأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی تھیں کہ اسماء (بنت شکیل انصاریہ) رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں سوال کیا؟ تو آپ نے فرمایا: ایک عورت اپنا پانی اور بیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے، پھر کستوری سے معطر کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے۔ تو اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں) خون کے نشان پر لگا کر۔ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: (غسل کرنے والی) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتیٰ کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم انہیں نہیں روکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 750]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 750 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، صَفِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ صَفِيَّةَ تُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ أَسْمَاءَ، سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ غُسْلِ الْمَحِيضِ؟ فَقَالَ: تَأْخُذُ إِحْدَاكُنَّ مَاءَهَا وَسِدْرَتَهَا، فَتَطَهَّرُ فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ دَلْكًا شَدِيدًا، حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَيْهَا الْمَاءَ، ثُمَّ تَأْخُذُ فِرْصَةً مُمَسَّكَةً، فَتَطَهَّرُ بِهَا، فَقَالَتْ أَسْمَاءُ: وَكَيْفَ تَطَهَّرُ بِهَا؟ فَقَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِينَ بِهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: كَأَنَّهَا تُخْفِي ذَلِكَ، تَتَبَّعِينَ أَثَرَ الدَّمِ، وَسَأَلَتْهُ عَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، فَقَالَ: تَأْخُذُ مَاءً، فَتَطَهَّرُ، فَتُحْسِنُ الطُّهُورَ، أَوْ تُبْلِغُ الطُّهُورَ، ثُمَّ تَصُبُّ عَلَى رَأْسِهَا، فَتَدْلُكُهُ حَتَّى تَبْلُغَ شُئُونَ رَأْسِهَا، ثُمَّ تُفِيضُ عَلَيْهَا الْمَاءَ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: نِعْمَ النِّسَاءُ، نِسَاءُ الأَنْصَارِ، لَمْ يَكُنْ يَمْنَعُهُنَّ الْحَيَاءُ أَنْ يَتَفَقَّهْنَ فِي الدِّينِ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی، انہوں نے کہا: میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی تھیں کہ اسماء (بنت شکیل انصاریہ) رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے غسل حیض کے بارے میں سوال کیا؟ تو آپ نے فرمایا: ایک عورت اپنا پانی اور بیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے، پھر کستوری سے معطر کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے۔ تو اسماء رضی اللہ عنہا نے کہا: اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: (جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں) خون کے نشان پر لگا کر۔ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: (غسل کرنے والی) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتیٰ کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم انہیں نہیں روکتی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 750]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 332 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتَرَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ کے ایک دوسرے شاگرد عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی (مذکورہ) سند سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا: آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔ اور آپ نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 751]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 751 صحیح مسلم
عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، أَبِي ، شُعْبَةُ
وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، فِي هَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَقَالَ: قَالَ: سُبْحَانَ اللَّهِ، تَطَهَّرِي بِهَا وَاسْتَتَرَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
شعبہ کے ایک دوسرے شاگرد عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی (مذکورہ) سند سے اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا: آپ نے فرمایا: سبحان اللہ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو۔ اور آپ نے اپنا چہرہ چھپا لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 751]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 332 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبِي الأَحْوَصِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ شَكَلٍ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: غُسْلَ الْجَنَابَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(شعبہ کے استاد) ابراہیم بن مہاجر سے (شعبہ کے بجائے) ابواحوص کی سند سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اسماء بنت شکیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے تو کیسے نہائے؟ اور (اسی طرح) حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 752]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 752 صحیح مسلم
يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، أَبِي الأَحْوَصِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ كِلَاهُمَا، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: دَخَلَتْ أَسْمَاءُ بِنْتُ شَكَلٍ، عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَغْتَسِلُ إِحْدَانَا إِذَا طَهُرَتْ مِنَ الْحَيْضِ؟ وَسَاقَ الْحَدِيثَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ: غُسْلَ الْجَنَابَةِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
(شعبہ کے استاد) ابراہیم بن مہاجر سے (شعبہ کے بجائے) ابواحوص کی سند سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: اسماء بنت شکیل رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے تو کیسے نہائے؟ اور (اسی طرح) حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 752]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة