بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
باب: پیشاب یا نجاست وغیرہ اگر مسجد میں پائی جائیں تو ان کے دھونے کے وجوب اور زمین پانی سے پاک ہو جاتی ہے اور اس کو کھودنے کی ضرورت نہیں۔
Sahih Muslim
کتب صحیح مسلم طہارت کے احکام و مسائل باب: پیشاب یا نجاست وغیرہ اگر مسجد میں پائی جائیں تو ان کے دھونے کے وجوب اور زمین پانی سے پاک ہو جاتی ہے اور اس کو کھودنے کی ضرورت نہیں۔
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 6
حدیث نمبر: 284 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ وَلَا تُزْرِمُوهُ، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب (کرنا شروع) کر دیا، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اسے (پیشاب کے) درمیان میں مت روکو۔ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ (پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کے اندر چلا گیا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 659]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 659 صحیح مسلم
قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، ثَابِتٍ ، أَنَسٍ
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، " أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَالَ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَامَ إِلَيْهِ بَعْضُ الْقَوْمِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: دَعُوهُ وَلَا تُزْرِمُوهُ، قَالَ: فَلَمَّا فَرَغَ، دَعَا بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب (کرنا شروع) کر دیا، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اسے (پیشاب کے) درمیان میں مت روکو۔ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ (پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کے اندر چلا گیا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 659]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 284 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الدَّرَاوَرْدِيِّ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَبَالَ فِيهَا فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ "، فَلَمَّا فَرَغَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا، لوگ اس پر چلائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو۔ جب وہ فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (پانی کا) ایک بڑا ڈول لانے کا حکم دیا اور وہ ڈول اس (پیشاب) پر بہا دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 660]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 660 صحیح مسلم
مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ ، يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، الدَّرَاوَرْدِيِّ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ جميعا، عَنِ الدَّرَاوَرْدِيِّ ، قَالَ يَحْيَى بْنُ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَذْكُرُ: أَنَّ أَعْرَابِيًّا، قَامَ إِلَى نَاحِيَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَبَالَ فِيهَا فَصَاحَ بِهِ النَّاسُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " دَعُوهُ "، فَلَمَّا فَرَغَ، أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَنُوبٍ فَصُبَّ عَلَى بَوْلِهِ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یحییٰ بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا، لوگ اس پر چلائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو۔ جب وہ فارغ ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (پانی کا) ایک بڑا ڈول لانے کا حکم دیا اور وہ ڈول اس (پیشاب) پر بہا دیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 660]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 285 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاق، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، مَهْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزْرِمُوهُ، دَعُوهُ "، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ، لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ، وَلَا الْقَذَرِ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَشَنَّهُ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی، کہا: مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ اسحاق کے چچا تھے، کہا: ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے (درمیان میں) مت روکو، اسے چھوڑ دو۔ صحابہ کرام نے اسے چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں۔ یا جو (بھی) الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 661]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
حدیث نمبر: 661 صحیح مسلم
زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ وَهُوَ عَمُّ إِسْحَاق، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ، فَقَامَ يَبُولُ فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَهْ، مَهْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُزْرِمُوهُ، دَعُوهُ "، فَتَرَكُوهُ حَتَّى بَالَ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَاهُ، فَقَالَ لَهُ: " إِنَّ هَذِهِ الْمَسَاجِدَ، لَا تَصْلُحُ لِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْبَوْلِ، وَلَا الْقَذَرِ، إِنَّمَا هِيَ لِذِكْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالصَّلَاةِ، وَقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ "، أَوْ كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَأَمَرَ رَجُلًا مِنَ الْقَوْمِ، فَجَاءَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ، فَشَنَّهُ عَلَيْهِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی، کہا: مجھ سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، وہ اسحاق کے چچا تھے، کہا: ہم مسجد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھیوں نے کہا: کیا کر رہے ہو؟ کیا کر رہے ہو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے (درمیان میں) مت روکو، اسے چھوڑ دو۔ صحابہ کرام نے اسے چھوڑ دیا حتیٰ کہ اس نے پیشاب کر لیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلایا اور فرمایا: یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں۔ یا جو (بھی) الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائے۔ (انس رضی اللہ عنہ نے) کہا: پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 661]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة