سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَاللَّفْظُ لِسَعِيدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، قَالَ: " دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَلَى ابْنِ عَامِرٍ، يَعُودُهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَقَالَ: أَلَا تَدْعُو اللَّهَ لِي يَا ابْنَ عُمَرَ؟ قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ، وَلَا صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ، وَكُنْتَ عَلَى الْبَصْرَةِ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوعوانہ نے سماک بن حرب سے، انہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گئے، وہ بیمار تھے۔ ابن عامر نے کہا: ’اے ابن عمر! کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گے؟‘ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: ”نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتا۔“ اور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں (مبادا کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہو)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الطَّهَارَةِ/حدیث: 535]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة