عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، أَبِي ، جَدِّي ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: " لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاشْتَدَّ بِهِ وَجَعُهُ، اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِي، فَأَذِنَّ لَهُ، فَخَرَجَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ، تَخُطُّ رِجْلَاهُ فِي الأَرْضِ، بَيْنَ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، وَبَيْنَ رَجُلٍ آخَرَ، قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّهِ بِالَّذِي قَالَتْ عَائِشَةُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ: هَلْ تَدْرِي مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ عَلِيٌّ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عقیل بن خالد نے کہا: ابن شہاب (زہری) نے کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری شدت اختیار کر گئی اور آپ کی تکلیف میں اضافہ ہو گیا تو آپ نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ ان کی تیمار داری میرے گھر میں ہو، انہوں نے اجازت دے دی، پھر آپ دو آدمیوں کے درمیان (ان کا سہارا لے کر) نکلے، آپ کے دونوں پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے (اور آپ) عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور ایک دوسرے آدمی کے درمیان تھے۔ (حدیث کے راوی) عبید اللہ نے کہا: عائشہ رضی اللہ عنہا نے جو کچھ کہا تھا، میں نے اس کا تذکرہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تو انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو وہ آدمی کون تھا جس کا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نام نہیں لیا؟ انہوں نے کہا: میں نے کہا: نہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: وہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّلَاةِ/حدیث: 938]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة