إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ ، يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَبَا الْخَيْرِ ، ابْنُ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاق ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: حَدَّثَنَا، وَقَالَ ابْنُ مَنْصُور: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ أَبَا الْخَيْرِ حَدَّثَهُ، قَالَ: " رَأَيْتُ عَلَى ابْنِ وَعْلَةَ السَّبَئِيُّ، فَرْوًا فَمَسِسْتُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ تَمَسُّهُ؟ قَدْ سَأَلْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ، قُلْتُ: إِنَّا نَكُونُ بِالْمَغْرِبِ، وَمَعَنَا الْبَرْبَرُ، وَالْمَجُوسُ، نُؤْتَى بِالْكَبْشِ، قَدْ ذَبَحُوهُ وَنَحْنُ لَا نَأْكُلُ ذَبَائِحَهُمْ، وَيَأْتُونَا بِالسِّقَاءِ، يَجْعَلُونَ فِيهِ الْوَدَكَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : قَدْ سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " دِبَاغُهُ طَهُورُهُ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید بن ابی حبیب نے ابوخیر سے روایت کی کہ میں نے عبدالرحمن بن وعلہ سبائی کو ایک پوستین (چمڑے کا کوٹ) پہنے ہوئے دیکھا، میں نے اسے چھوا تو اس نے کہا: اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا تھا: ہم مغرب میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی ہوتے ہیں، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبح کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 814]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة