أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَمَّادٌ ، أَيُّوبَ ، أَبِي قِلَابَةَ ، مُعَاذَةَ ، حَمَّادٌ ، يَزِيدَ الرِّشْكِ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، عَنْ مُعَاذَةَ . ح وحَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ يَزِيدَ الرِّشْكِ ، عَنْ مُعَاذَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً، " سَأَلَتْ عَائِشَةَ، فَقَالَتْ: أَتَقْضِي إِحْدَانَا الصَّلَاةَ أَيَّامَ مَحِيضِهَا؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ؟ قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ لَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یزید رشک سے، انہوں نے معاذہ سے روایت کی کہ ایک عورت نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: کیا ایک عورت ایام حیض کی نمازوں کی قضا دیتی ہے؟ تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: کیا تو حروریہ (خوارج میں سے) ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عہد میں جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا تو اسے (نمازوں کی) قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْحَيْضِ/حدیث: 761]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة