أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ سورة الإسراء آية 57، قَالَ: كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا، وَكَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَى عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ ".
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو گا۔" (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہو گئی تھی اور (اس سے پہلے) ان کی پوجا کی جاتی تھی، تو جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کی عبادت پر قائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب التَّفْسِيرِ/حدیث: 7554]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة