إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، ومحمد بن عبد الله الرزي ، الثَّقَفِيِّ ، خَالِدٌ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، ومحمد بن عبد الله الرزي جميعا، عَنْ الثَّقَفِيِّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ، وَلَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْهُ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْهُ "، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ كَعْبًا، فَقَالَ: آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ذَلِكَ مِرَارًا، قُلْتُ: أَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ، وقَالَ إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ: لَا نَدْرِي مَا فَعَلَتْ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
اسحٰق بن ابراہیم، محمد بن مثنیٰ عنزی اور محمد بن عبداللہ رزی نے ہمیں ثقفی سے حدیث بیان کی، الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں۔ کہا: ہمیں عبدالوہاب نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں خالد نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بنی اسرائیل کی ایک امت گم ہو گئی تھی، معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور مجھے اس کے سوا اور کوئی بات نظر نہیں آئی کہ وہ لوگ (یہی) چوہے ہیں (انہوں نے مسخ ہو کر یہ شکل اختیار کر لی ہے)۔ تم دیکھتے نہیں کہ جب ان کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو (بنی اسرائیل کی طرح) وہ اس کو نہیں پیتے۔ اگر ان کے لیے بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتے ہیں۔“ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ حدیث کعب (احبار) کو سنائی تو انہوں نے کہا: کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا تھا؟ میں نے کہا: انہوں نے بار بار یہی کہا تو میں نے کہا: (نہیں تو) کیا میں تورات پڑھتا ہوں (کہ وہاں سے بیان کروں گا؟) اسحٰق نے اپنی روایت میں کہا: ”ہم نہیں جانتے ان کا کیا بنا؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7496]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة