مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَفْصٌ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ ، سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ، فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتِ الْآخَرَ، فَقَالَ: الَّذِي لَمْ يُشَمِّتْهُ عَطَسَ فُلَانٌ فَشَمَّتَّهُ وَعَطَسْتُ أَنَا فَلَمْ تُشَمِّتْنِي، قَالَ: " إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّكَ لَمْ تَحْمَدِ اللَّهَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
حفص بن غیاث نے سلیمان تیمی سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس دو آدمیوں کو چھینک آئی تو آپ نے ایک آدمی کو چھینک کی دعا دی اور جس کو چھینک کی دعا نہ دی تھی اس نے کہا: فلاں کو چھینک آئی تو آپ نے اسے دعا دی اور مجھے چھینک آئی تو آپ نے مجھے دعا نہ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اس نے الحمد اللہ کہا تھا اور تم نے الحمد اللہ نہیں کیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7486]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة