بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

صحیح مسلم

حدیث نمبر: 7425 — باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
کتب صحیح مسلم زہد اور رقت انگیز باتیں باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔ حدیث 7425
حدیث نمبر: 7425 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ ، ابْنُ وَهْبٍ ، يُونُسُ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ ، عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ، فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ، فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ، ثُمَّ قَالَ: " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ؟، فَقَالُوا: أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: " فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں بتایا کہ عمرو بن عوف جو بنی عامر کے حلیف تھے، انہوں نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی، انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جزیہ لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بذات خود اہل بحرین سے صلح کی تھی اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے آئے، انصار نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس پہنچے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز ادا کر لی، واپس ہوئے تو وہ (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب انھیں دیکھا تو مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے بجا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: خوش ہو جاؤ اور اس کی امید رکھو جس سے تمھیں خوشی ہو گی۔ اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں (کہ تمھیں اس سے نقصان پہنچے گا) لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا اسی طرح تم پر کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جس طرح ان لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور یہ تمھیں بھی تباہ کر دے گی جس طرح اس نے ان کو تباہ کر دیا تھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7425]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
← پچھلی حدیث (7424) باب پر واپس اگلی حدیث (7426) →