عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، جَعْفَرٍ ، أَبِيهِ ، جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِالسُّوقِ دَاخِلًا مِنْ بَعْضِ الْعَالِيَةِ، وَالنَّاسُ كَنَفَتَهُ فَمَرَّ بِجَدْيٍ أَسَكَّ مَيِّتٍ، فَتَنَاوَلَهُ فَأَخَذَ بِأُذُنِهِ، ثُمَّ قَالَ: " أَيُّكُمْ يُحِبُّ أَنَّ هَذَا لَهُ بِدِرْهَمٍ "، فَقَالُوا: مَا نُحِبُّ أَنَّهُ لَنَا بِشَيْءٍ، وَمَا نَصْنَعُ بِهِ، قَالَ: " أَتُحِبُّونَ أَنَّهُ لَكُمْ؟ "، قَالُوا: وَاللَّهِ لَوْ كَانَ حَيًّا كَانَ عَيْبًا فِيهِ لِأَنَّهُ أَسَكُّ، فَكَيْفَ وَهُوَ مَيِّتٌ؟، فَقَالَ: " فَوَاللَّهِ لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذَا عَلَيْكُمْ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سلیمان بن بلال نے جعفر سے، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (مدینہ کی) کسی بالائی جانب سے داخل ہوتے ہوئے بازار سے گزرے، لوگ آپ کے پہلو میں (آپ کے ساتھ چل رہے) تھے۔ آپ حقیر سے کانوں والے مرے ہوئے میمنے کے پاس سے گزرے، آپ نے اسے کان سے پکڑ کر اٹھایا، پھر فرمایا: ”تم میں سے کون اسے ایک درہم کے عوض لینا پسند کرے گا؟“ تو انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: ہمیں یہ کسی بھی چیز کے عوض لینا پسند نہیں، ہم اسے لے کر کیا کریں گے؟ آپ نے فرمایا: ”(پھر) کیا تم پسند کرتے ہو کہ یہ تمھیں مل جائے؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کی: اللہ کی قسم! اگر یہ زندہ ہوتا تو تب بھی اس میں عیب تھا، کیونکہ (ایک تو) یہ حقیر سے کانوں والا ہے (بھلا نہیں لگتا)۔ پھر جب وہ مرا ہوا ہے تو کس کام کا؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! جتنا تمھارے نزدیک یہ حقیر ہے اللہ کے نزدیک دنیا اس سے بھی زیادہ حقیر ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ/حدیث: 7418]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة