يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ ، قُرَّةُ ، سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، الشَّعْبِيُّ ، فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ الْهُجَيْمِيُّ أَبُو عُثْمَانَ ، حَدَّثَنَا قُرَّةُ ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ أَبُو الْحَكَمِ ، حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ ، فَأَتْحَفَتْنَا بِرُطَبٍ، يُقَالُ لَهُ: رُطَبُ ابْنِ طَابٍ وَأَسْقَتْنَا سَوِيقَ سُلْتٍ، فَسَأَلْتُهَا عَنِ الْمُطَلَّقَةِ ثَلَاثًا أَيْنَ تَعْتَدُّ، قَالَتْ: طَلَّقَنِي بَعْلِي ثَلَاثًا، فَأَذِنَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَعْتَدَّ فِي أَهْلِي، قَالَتْ: فَنُودِيَ فِي النَّاسِ إِنَّ الصَّلَاةَ جَامِعَةً، قَالَتْ: فَانْطَلَقْتُ فِيمَنِ انْطَلَقَ مِنَ النَّاسِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ مِنَ النِّسَاءِ وَهُوَ يَلِي الْمُؤَخَّرَ مِنَ الرِّجَالِ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَخْطُبُ، فَقَالَ: إِنَّ بَنِي عَمٍّ لِتَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَكِبُوا فِي الْبَحْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ وَزَادَ فِيهِ، قَالَتْ: فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْوَى بِمِخْصَرَتِهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَقَالَ: هَذِهِ طَيْبَةُ يَعْنِي الْمَدِينَةَ،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
سیار ابوالحکم نے کہا: ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی، کہا: ہم حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہ کے ہاں گئے، انہوں نے ہمیں تازہ کھجوروں کا تحفہ دیا جن کو ابن طاب کی تازہ کھجوریں کہا جاتا تھا اور جو کے ستو پلائے، میں نے ان سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جس کو تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟ انہوں نے کہا: مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دی تھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اجازت دی تھی کہ میں اپنے گھر والوں کے درمیان عدت گزار لوں، (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: پھر (عدت کے بعد) لوگوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ نماز کی جماعت ہونے والی ہے، میں بھی دوسرے لوگوں کے ساتھ نماز کے لیے چل دی، میں عورتوں کی پہلی صف میں تھی جو مردوں کی آخری صف کے پیچھے تھی۔ انہوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ منبر پر خطبہ دے رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”تمیم داری کے چچا کے بیٹے (ان کے قبیلے سے تعلق رکھنے والے رشتہ دار) سمندر (کے جہاز) میں سوار ہوئے۔“ اس کے بعد (سیار نے پوری) حدیث بیان کی اور اس میں مزید کہا کہ (حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے) کہا: ایسے لگتا ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ رہی ہوں، آپ نے اپنے عصا کو زمین کی طرف جھکایا اور فرمایا: ”یہ طیبہ ہے۔“ آپ کی مراد مدینہ سے تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7387]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة