عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، ابْنُ فُضَيْلٍ ، أَبِيهِ ، سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، يَقُولُ: يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ مَا أَسْأَلَكُمْ عَنِ الصَّغِيرَةِ، وَأَرْكَبَكُمْ لِلْكَبِيرَةِ، سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيءُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ، وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ، وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَى الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا سورة طه آية 40 "، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ: عَنْ سَالِمٍ، لَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
عبداللہ بن عمر بن ابان، واصل بن عبدالاعلیٰ اور احمد بن عمر وکیعی نے ہمیں حدیث بیان کی، الفاظ ابن ابان کے ہیں۔ انہوں نے کہا: ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے سنا، کہہ رہے تھے: ”اے عراق والو! میں تم سے چھوٹے گناہ نہیں پوچھتا، نہ اس کو پوچھتا ہوں جو کبیرہ گناہ کرتا ہو، میں نے اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ کہتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے تھے کہ فتنہ ادھر سے آئے گا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا، جہاں شیطان کے دونوں سینگ نکلتے ہیں۔ اور تم ایک دوسرے کی گردن مارتے ہو (حالانکہ مومن کی گردن مارنا کتنا بڑا گناہ ہے) اور موسیٰ علیہ السلام فرعون کی قوم کا ایک شخص غلطی سے مار بیٹھے تھے (نہ بہ نیت قتل کیونکہ گھونسے سے آدمی نہیں مرتا)، تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’تو نے ایک خون کیا، پھر ہم نے تجھے غم سے نجات دی اور تجھ کو آزمایا جیسا آزمایا تھا‘۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْفِتَنِ وَأَشْرَاطِ السَّاعَةِ/حدیث: 7297]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة