عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
وحَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْحَكَمِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ ، حَدَّثَنَا أَبُو يُونُسَ الْقُشَيْرِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَيْسَ أَحَدٌ يُحَاسَبُ إِلَّا هَلَكَ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَيْسَ اللَّهُ يَقُولُ حِسَابًا يَسِيرًا سورة الانشقاق آية 8، قَالَ: ذَاكِ الْعَرْضُ، وَلَكِنْ مَنْ نُوقِشَ الْحِسَابَ هَلَكَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابویونس قشیری نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں ابن ابی ملیکہ نے قاسم سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس کا بھی حساب کتاب شروع ہو گیا وہ ہلاک ہو گیا۔“ میں نے عرض کی: اللہ کے رسول اللہ! کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا: ﴿فَسَوْفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَسِيرًا﴾ (الانشقاق: 8) ”آسان حساب ہوگا؟“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے لیکن جس سے محاسبے میں پوچھ گچھ شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو جائے گا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7227]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة