زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، يَحْيَى يَعْنُونَ ابْنَ سَعِيدٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، نَافِعٌ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنُونَ ابْنَ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ سورة المطففين آية 6، قَالَ: " يَقُومُ أَحَدُهُمْ فِي رَشْحِهِ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ الْمُثَنَّى، قَالَ: يَقُومُ النَّاسُ لَمْ يَذْكُرْ يَوْمَ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب، محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی، کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (اس آیت کی تفسیر) روایت کی: ﴿يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (المطففين: 6) ”اس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اس طرح کھڑا ہو گا کہ اس کا پسینہ اس کے کانوں کے درمیان تک ہو گا۔“ اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (”ان میں سے کوئی“ کے بجائے) فرمایا: ”لوگ کھڑے ہوں گے۔“ انہوں نے (ابن مثنیٰ) نے (آیت میں) یوم (اس دن) کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا/حدیث: 7203]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة