أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي سُفْيَانَ ، جَابِرٍ
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْمَاءِ، ثُمَّ يَبْعَثُ سَرَايَاهُ فَأَدْنَاهُمْ مِنْهُ مَنْزِلَةً أَعْظَمُهُمْ فِتْنَةً، يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ كَذَا وَكَذَا، فَيَقُولُ: مَا صَنَعْتَ شَيْئًا، قَالَ: ثُمَّ يَجِيءُ أَحَدُهُمْ، فَيَقُولُ: مَا تَرَكْتُهُ حَتَّى فَرَّقْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، قَالَ: فَيُدْنِيهِ مِنْهُ، وَيَقُولُ: نِعْمَ أَنْتَ "، قَالَ الْأَعْمَشُ: أُرَاهُ قَالَ فَيَلْتَزِمُهُ.
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابومعاویہ نے کہا: ہمیں اعمش نے ابوسفیان سے حدیث بیان کی، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر وہ اپنے لشکر روانہ کرتا ہے۔ اس کے سب سے زیادہ قریب وہ ہوتا ہے جو سب سے بڑا فتنہ ڈالتا ہے۔ ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے: میں نے فلاں فلاں کام کیا ہے، وہ کہتا ہے: تم نے کچھ نہیں کیا۔ پھر ان میں سے ایک آ کر کہتا ہے: میں نے اس شخص کو (جس کے ساتھ میں تھا) اس وقت تک نہیں چھوڑا، یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرا دی۔ وہ کہتا ہے: تو وہ اسے اپنے قریب کرتا ہے اور کہتا ہے: تم سب سے بہتر ہو“۔ اعمش نے کہا: میرا خیال ہے اس (ابوسفیان طلحہ بن نافع) نے کہا: ”پھر وہ اسے اپنے ساتھ لگا لیتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7106]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة