مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَيُّوبُ ، أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ ، مُجَاهِدٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ الْغُبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ أَبِي الْخَلِيلِ الضُّبَعِيِّ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا لِأَصْحَابِهِ: " أَخْبِرُونِي عَنْ شَجَرَةٍ مَثَلُهَا مَثَلُ الْمُؤْمِنِ؟ "، فَجَعَلَ الْقَوْمُ يَذْكُرُونَ شَجَرًا مِنْ شَجَرِ الْبَوَادِي، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَأُلْقِيَ فِي نَفْسِي أَوْ رُوعِيَ أَنَّهَا النَّخْلَةُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَقُولَهَا، فَإِذَا أَسْنَانُ الْقَوْمِ، فَأَهَابُ أَنْ أَتَكَلَّمَ فَلَمَّا سَكَتُوا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هِيَ النَّخْلَةُ "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
ابوخلیل ضبعی نے مجاہد سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہے“۔ تو لوگ جنگلوں کے درختوں میں سے کوئی (نہ کوئی) درخت بتانے لگے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اور میرے دل میں یا میرے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا درخت ہے میں ارادہ کرنے لگا کہ بتاؤں، لیکن (وہاں) قوم کے معمر لوگ موجود تھے تو میں ان کی ہیبت سے متاثر ہو کر بولنے سے رک گیا۔ جب وہ سب خاموش ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7099]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة