زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، سُفْيَانُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ تُفِيئُهَا الرِّيَاحُ تَصْرَعُهَا مَرَّةً وَتَعْدِلُهَا حَتَّى يَأْتِيَهُ أَجَلُهُ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ الَّتِي لَا يُصِيبُهَا شَيْءٌ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً وَاحِدَةً "،
ترجمہ: سلطان محمود جلالپوری
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں بشر بن سری اور عبدالرحمان بن مہدی نے حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں سفیان بن عینیہ نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبدالرحمان بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کے تیلی نما نرم تنے کی سی ہے جس کو ہوا موڑتی رہتی ہے، کبھی اس کو لٹا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کر دیتی ہے، حتیٰ کہ اس (کے پک کر کٹنے) کا وقت آ جاتا ہے، اور منافق کی مثال ویدار کے مضبوط جڑوں والے درخت کی طرح ہے، کوئی چیز اسے جھکاتی نہیں، حتیٰ کہ ایک ہی دفعہ وہ جڑوں سے اکھڑ (کر گر) جاتا ہے“۔ [صحيح مسلم/كِتَاب صِفَةِ الْقِيَامَةِ وَالْجَنَّةِ وَالنَّارِ/حدیث: 7095]
الحكم: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة